پچھلے حکمران قرضہ لیتے تھے ، عمران خان نے آکر بتایا کہ میں قوم کو پیروں پر کھڑا کروں گا مجھے شرم آئے گی کہ میں کسی ملک کے آگے ہاتھ پھیلاوں ، قرضہ لینے سے بہتر ہے کہ خودکشی کر لوں*

IMG-20200628-WA0508.jpg

*پچھلے حکمران قرضہ لیتے تھے ، عمران خان نے آکر بتایا کہ میں قوم کو پیروں پر کھڑا کروں گا مجھے شرم آئے گی کہ میں کسی ملک کے آگے ہاتھ پھیلاوں ، قرضہ لینے سے بہتر ہے کہ خودکشی کر لوں*

*پاکستان میں قرض لینے کی ابتدا جنرل ایوب خان سے ہوئی*
*جس کے مطابق 1970 میں پاکستان پر مجموعی قرض 30 ارب روپے تھا۔*
*اس کے بعد ذولفقار علی بھٹو دور حکومت کے خاتمے پر 1977 میں مجموعی قرض 97 ارب ہو گیا ۔*

*1988 میں سابق فوجی حکمران جنرل ضیا الحق کے اقتدار سے خاتمے کے وقت ملک کا مجموعی قرض 523 ارب تک پہنچ گیا۔*
*گویا ان کے دور میں قرضوں میں 426 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔*

*اس کے بعد بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں اور جب اگست 1990 میں ان کی حکومت برطرف ہوئی تو اس وقت ملک کا مجموعی قرض 711 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ ان کے دور میں قرض میں 188 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔*

*میاں نواز شریف برسراقتدار آئے اور جب ان کی حکومت جولائی 1993 میں ختم ہوئی تو اس وقت مجموعی قرض 1135 ارب یعنی ایک اعشاریہ ایک ٹریلین روپے ہو گیا۔ گویا ان کے دور میں قرض میں 422 ارب کا اضافہ ہوا تھا۔*

*اس کے بعد بے نظیر بھٹو کی حکومت نومبر 1996 میں ختم ہوئی تو ملک کا مجموعی قرض 1704 ارب روپے یعنی ایک اعشاریہ سات ٹریلین ہو چکا تھا جس کا مطب ہے ان کے اس دور میں ملک کا قرض 569 ارب روپے بڑھا تھا۔ *

*1996 میں نواز شریف کا دوسرا دور حکومت شروع ہوا اور جب اکتوبر 1999 میں مارشل لا کے نفاذ کے ذریعے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے ان کی حکومت ختم کی تو ملک کا مجموعی قرض 2946 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔ گویا نوازشریف کے دوسرے دور اقتدار میں قرض میں 1242 ارب روپے یعنی ایک ٹریلین سے بھی زائد کا خطیر اضافہ ہوا تھا۔*

*صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں قرضہ چھ ٹریلین تک پہنچ گیا تھا۔*

*اس کے بعد مشرف نے بالواسطہ یا بلاواسطہ حکومت کی اور جب اقتدار کا سورج 2008 میں غروب ہوا تو پاکستان کا قرض 6127 ارب یا چھ ٹریلین تک پہنچ چکا تھا گویا ان کے عروج کے دنوں میں پاکستان پر3181 ارب یا تین ٹریلین روپے کا مزید قرض کا بوجھ پڑا۔*

*جنرل مشرف اور مسلم لیگ ق کی حکومت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کا دور حکومت شروع ہوا جس کا خاتمہ 2013 میں ہوا تو ملک کا قرض 14.2 ٹریلین روپے ہو چکا تھا جس کا مطلب ہے اس دور میں قرض میں آٹھ ٹریلین سے زائد کا اضافہ ہوا۔* 

*مسلم لیگ نواز کی حکومت 2013  سے 2018 تک قائم رہی اور اس دوران ملک کا قرض 14.2 سے 24.9 ٹریلین تک پہنچ گیا جس کا مطلب ہے اس دور میں 10 ٹریلین سے زائد کا قرض لیا گیا۔*
*پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں جو قرضہ لیا گیا دونوں جماعتیں اپنے لئے گئے قرضے کے بارے میں بتاتے ہیں کہاں کہاں خرچ کیا اور کیا ڈویلپمنٹ ہوئی اور اس کے علاوہ عمران خان بھی پچھلے دس سالوں کا حساب لگا چکے ہیں ہیں عمران خان ایک کمیشن بنایا جس نے 10 سالہ لیے قرضے کا حساب لگا کر بتایا کہ وہ کہاں کہاں خرچ ہوا ہے*

*یہ تو پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں مختلف حکمرانوں نے قرضہ لیا*
*پھر ایک اور لیڈر عوام کے سامنے آیا جس کا نام عمران خان جس نے کہا یہ لوگ قرضے لیتے ہیں اور جیب میں ڈال لیتے ہیں جب ہماری حکومت آئے گی تو ہم قرضہ نہیں لیں گے*
*مجھے شرم آئے گی کہ پاکستان کا وزیراعظم کسی دوسرے ملک کے سامنے ہاتھ پھیلائے*
*میں کبھی قرضہ نہیں لوں گا*
*قوم کو پیروں پر کھڑا کروں گا*
*قرضہ لیا تو خودکشی کر لوں گا پھر 2018 میں عمران خان کی حکومت آگئی*
*پھر عمران خان نے پچھلی ساری حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیے*

*پی ٹی آئی کے موجودہ دور میں اب تک 14 ٹریلین روپے سے زائد کا قرض لیا جا چکا ہے جو اب تک کی پاکستانی تاریخ میں کسی ایک دور حکومت میں لیا جانے والا سب سے زیادہ قرضہ ہے*

*ابھی تو عمران خان کی حکومت کو دو سال باقی ہیں اور یہ بات پتہ نہیں کہاں پر جاکے رکے گی کیونکہ حکومت ڈیلی کی بنیاد پر 16 ارب قرضہ لے رہی ہے*

*عمران خان اور عمران خان کی تبدیلی جھوٹی نکلی سارے وعدے جھوٹے نکلے قوم کو پیروں پر کھڑا کرنا تھا عمران خان نے بے روزگار کر دیا*

*عوام کو صحت و تعلیم اور ضروریات زندگی کی اشیاء سستی ملنی تھی*
*سب مہنگی کردی*

*قرضہ لینے سے اچھا عمران خان خودکشی کرنی تھی لیکن عمران خان نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور جہاں سے بھی قرضہ ملا عمران خان نے لیا*

*نہ کوئی پروجیکٹ*
*نہ کوئی عوامی فلاحی منصوبہ*
*نہ عوام کو ریلیف ایف پھر بھی عمران خان نے قرضہ لینے کے تاریخی ریکارڈ توڑ دیے اب یہ پیسے جا کہاں رہے ہیں*
*عمران خان اور نہ ان کا کوئی وزیر مشیر بتانے کو تیار ہیں*

*سٹیٹ بینک کے اعداد شمار کے مطابق غیرملکی قرضوں کا حجم  122 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔*  

*پاکستان تحریک انصاف کے دور اقتدار میں ملک کا مجموعی بیرونی قرضہ تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔*

*معاشی ماہرین کے مطابق حکومت نے قرض تو واپس کیا ہے لیکن اس بیرونی قرض کو اتارنے کے لیے اس نے نیا قرض لے کر ملک پر قرضوں کا مزید بوجھ ڈال دیا*

*عوام بڑی پریشان عمران خان قرضہ بھی لے رہا ہے اور خود کشی بھی نہیں کر رہ

شیئر کریں

Top