دیامربھاشا ڈیم اور عوام کی امیدیں محمد حفیظ

دیامربھاشا ڈیم پاکستان کے بڑے ڈیموں میں شمار ہوتا ہے اس پراجیکٹ کی بنیاد سب سے پہلے جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2006 رکھی گئی. پھر پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دوسری مرتبہ 2011 میں رکھی گئی لیکن عملی کام کے بجائے صرف تختی کے حد تک پورے ملک میں خبروں کی زینت بنی.، آخرکار پاکستان مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں اس پراجیکٹ کا باقاعدگی سے کام کا آغاز بالترتیب مرحلہ وار شروع ہوا. لیکن پچھلے حکومتوں کے مقابل کام میں تیزی دکھائی دی اور پوری دنیا میں اس پراجیکٹ کا کافی چرچہ رہا. اب پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں اس پیشرفت میں مزید تیزی لائی گئی اور بہت سے اہم فیصلے کئے گئے. عمران خان کے زبان میں دیامربھاشا ڈیم لفظ آخر و اول بنا رہا جسکی وجہ سے اندرون اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے چندے کی مد میں کافی فنڈ اکٹھا کیا دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان نے سخت احکامات جاری کئے کہ اس پراجیکٹ کا کام باقاعدگی سے شروع کیا جائے. تاکہ ملک کی معیشت میں مثبت اثرات مرتب ہوں. دراصل ایسے بڑے پراجیکٹ کا بنیادی مقصد آبی ذخائر ہے جوکہ پاکستان پانی کی قلت سے کافی دوچار ہے. اور پاکستان میں پانی کی قلت 12 ملین ایکڑ فٹ ہے. اس پراجیکٹ کا سب سے اہم مقصد پورا پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے. بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ پراجیکٹ جس ایریا میں تکمیل ہورہا ہے جسکی جغرافیائی اور محل وقوع کے اعتبار سے تربیلا ڈیم کے مطابق 315 کی بلندی پر جبکہ گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت سے 165 کلومیٹر اور چلاس شہر سے 40 کلومیٹر دور دریائے سندھ کی نچلی سطح پر ہوگی. 110 کلومیٹر رقبے پر پھیلا کے ساتھ 100 کلومیٹر رقبہ ڈیم کا انفراسٹرکچر کی زیادہ تر تعمیر ضلع دیامر کے حدود میں ہوگا. ڈیم کی تعمیر سے ضلع دیامر کے 30 دیہات، مجموعی طور پر 2200 گھرانے اور 500 ایکڑ زمین شاہراہ قراقرم کا 100 کلومیٹر علاقہ متاثر ہوگا. اس ڈیم کو ناکام بنانے کے لیے پوری دنیا میں ہر قسم کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے لیکن انکو منہ کی کھانی پڑی. کبھی ورلڈ بینک کی جانب سے ڈیم کی تعمیر کے لیے مختص کیا گیا فنڈ دینے سے انکار کیا تو کبھی انڈیا نے گلگت بلتستان کو متنازعہ بنا کر ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی لیکن الحمدللہ اس پراجیکٹ کی تعمیر پر کوئی اثر نہیں پڑا. انڈین میڈیا چینلز پر دیامربھا ڈیم کی سرخی بنا کر اس پراجیکٹ کو ناکام بنانے کے لیے چیخ چیخ کر اپنی زبان خشک کرتا رہے انکو کیا معلوم گلگت بلتستان کے لوگ اپنے دیس کیلئے کتنے وفادار ہیں. دیامر کے عوام نے اپنا سب کچھ اس ڈیم کے لیے وقف کر دیا لیکن ان سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل دکھائی نہیں دے رہا. عمران نے کہا تھا اس پراجیکٹ سے روزگار کے 16500 مواقع فراہم ہونگے، بیروزگاری ختم ہوگی اور لوگ خوشحال زندگی بسر کرینگے لیکن گلگت بلتستان کے نوجوان بالخصوص دیامر کے نوجوان مایوسی کا شکار ہیں جوکہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کا درد انشااللہ اگلے کالم ذکر کرونگا۔

شیئر کریں

Top