العزیزیہ، فلیگ شپ ریفرنسز: نواز شریف احتساب عدالت میں پیش، لیگی کارکنوں کا احتجاج

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز کی سماعت احتساب عدالت میں ہورہی ہے، جس کے لیے انہیں اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لایا گیا۔

نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت پہنچانے کے لیے آج نئی حکمت عملی اختیار کی گئی۔

انہیں اڈیالہ جیل سے سیکیورٹی کے بڑے قافلے میں عدالت لایا گیا، قافلے میں بکتر بند گاڑی سمیت ایک لینڈکروزر بھی تھی۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے احتساب عدالت کے باہر احتجاج کیا، ایک کارکن بکتر بند گاڑی پر چڑھ گیا اور نواز شریف کے حق میں نعرے لگائے۔

احتساب عدالت نمبر دو کے جج محمد ارشد ملک نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کررہے ہیں۔

احتساب عدالت نے نواز شریف کو بطور ملزم جبکہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو بطور گواہ طلب کر رکھا ہے۔

 

واضح رہے کہ مذکورہ کیس کی 13 اگست کو ہونے والی سماعت کے دوران نواز شریف کو سخت سیکیورٹی میں بکتر بند گاڑی میں احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے مختصر سماعت کے بعد دونوں ریفرنسز کی مزید سماعت 15 اگست تک ملتوی کردی تھی۔

نیب ریفرنسز کا پس منظر

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔

اس کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال قید اور جرمانے، مریم نواز کو مجموعی طور پر 8 سال قید اور جرمانے جبکہ ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی اور وہ اس وقت جیل میں ہیں۔

دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، جو اس وقت زیرِ سماعت ہیں۔

نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے۔

نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں تین ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے، جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا گیا تھا جبکہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نامزد ہیں۔

Comments

comments