حسن ابدال پولیس نے 7روز قبل پراسرار طریقے سے اغواء ہونے والے بچوں کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بازیاب کر اکر ملزمہ کو حراست میں لے لیا

  • IMG-20180802-WA0356.jpg

حسن ابدال پولیس نے 7روز قبل پراسرار طریقے سے اغواء ہونے والے بچوں کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بازیاب کر ا کر ملزمہ کو حراست میں لے لیا ڈی پی او حسن اسد علوی نے چھاپہ مار ٹیم کو کامیاب کاروائی پر تعریفی اسناد اور نقد انعام دینے کا اعلان کر دیا۔ یہ بات ڈی ایس پی حسن ابدال تنویر احمد ملک نے ڈی پی او آفس کے کانفرنس روم میں پر ہجوم پریس کانفرنس میں بتائی اس موقع پر ایس ایچ او تھانہ سٹی حسن ابدال انسپکٹر محمد اقبال خان ، سب انسپکٹر شاہ فردوس ، انچارج آئی ٹی لیب سب انسپکٹر جہانزیب خان ، اے ایس آئی صغیر احمد ، آئی ٹی لیب کے عابد خان ، کنسٹیبل تھانہ سٹی حسن ابدال ظہیر احمدبھی موجود تھے ڈی ایس پی حسن ابدال تنویر احمد ملک نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 23جولائی کو تھانہ سٹی حسن ابدال کا رہائشی ہائی ایس ڈرائیور اعجاز احمد راولپنڈی سے حسن ابدال سواریاں لیکر آ رہا تھا ہائی ایس میں سوار خاتون انعم زوجہ سیف جہانگیر سکنہ کامرہ شرقی حال مقیم ڈھوک مٹکیال تھانہ رتہ امرال راولپنڈی نے بتایا کہ اسکا خاوند سے جھگڑا ہو گیا ہے اور وہ بے آسرا ہے اس پر ڈرائیور اعجاز احمد انسانی ہمدردی کے ناتے اسے اپنے گھر لے آیا اور اپنی اہلیہ زوبیہ کنول کو بتایا کہ یہ میرے استاد کی بیٹی ہے اور وہ رات کو اسکی اہلیہ کے ہمراہ رہی صبح اعجاز احمد حسب معمول گاڑی لیکر چلا گیا ۔ انعم اسکے بچوں 5سالہ مار نور فاطمہ اور ڈیڑھ سالہ حیدر عباس سے گھل مل گئی اور 7 بجے شام جب اس کے بچے پڑوس سے برف لینے کیلئے گئے تو تو ملزمہ انہیں اپنے ساتھ اغواء کر کے لے گئی اتفاق سے 5سالہ مار نور کے ہاتھ میں اسکی والدہ کا موبائل بھی تھا ایک روز تک دونوں میاں بیوی اور انکے عزیز و اقارب بچوں اور ملزمہ کو تلاش کرتے رہے ڈرائیور اعجاز احمد نے پہلے پولیس کو اصل صورت حال سے آگاہ نہیں کیا بعد ازاں اس نے تمام حقیقت اگل دی اور بتایا کہ وہ اس خاتون کو نہیں جانتا تھا صرف انسانی ہمدردی کے طور پر اسے گھر لایا اسی بناء پر پولیس کو بچوں کو بازیاب کرانے میں 7روز لگے اصل حقیقت سامنے آنے پر ڈی پی او اٹک حسن اسد علوی نے ڈی ایس پی حسن ابدال کی سربراہی میں ماہر پولیس افسران کی ٹیم تشکیل دی جنہوں نے اس مشکل ٹارگٹ کا چیلنج قبول کرتے ہوئے دن رات ایک کر کے موبائل ڈیٹا تلاش کیا تو آخری لوکیشن ڈھوک مٹکیال کی تھی اس پر تمام علاقے میں ایسا آپریشن کیا گیا کہ ملزمہ ہوشیار نہ ہو سکے اسکے گھر چھاپہ مارا گیا تا ہم وہاں بھی اسکاسراغ نہ ملا اس پر ڈی پی او اٹک حسن اسد علوی جو اس کیس میں خصوصی دلچسپی لے رہے تھے اور دن میں کئی مرتبہ چھاپہ مار تیم سے انکی کارکردگی اور پراگرس معلوم کرتے رہے کی خصوصی دلچسپی بھی چھاپہ مار ٹیم کی حوصلہ افزائی کا سبب بنی ۔ڈی پی او کی ہدایت پر کہ ایسی حکمت عملی کی کہ ملزمہ انعم کو گرفتار کیا جائے تا ہم نا بالغ بچوں کو بحفاظت بھی بازیاب کرایا جائے ۔راولپنڈی کے تمام ہوٹل ، سرائے، قبرستان ، مزار، دربار گولڑہ شریف ، پیرودہائی ، فیض آباد ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال راولپنڈی، بے نظیر ہسپتال ، ریلوے اسٹیشن راولپنڈی ، خانہ بدوشوں کے خیمے ، میٹرو ٹریک کے نیچے ہر مشکوک مقام کی پڑتال کی گئی ، گھروں پر بھی متعدد بار ریڈ کئے گئے خواجہ سراوٗ کے ڈیروں کو بھی چیک کیا گیا اس پر ملزمہ انعم کے گرد گھیرا تنگ ہونے کے سبب وہ راولپنڈی چھوڑنے پر مجبور ہو گئی اور مخبر کی اطلا ع پر اسے اٹک کے ایک علاقہ سے ڈرامائی انداز میں دونوں بچوں سمیت بحفاظت برآمد کر لیا گیا قبل ازیں ڈی پی او کی ہدایت پر 26جولائی کو تھانہ سٹی حسن ابدال نے ڈرائیور اعجاز احمد کی اہلیہ زوبیہ کنول کی درخواست پر زیر دفعہ 363ت پ کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا گرفتاری کے بعد ملزمہ کا عدالت سے جوڈیشل ریمانڈ حاصل کر کے ڈسٹرکٹ جیل اٹک بجھوا دیا گیا ہے ۔یہ امر قابل ذکر ہیکہ ملزمہ نے پولیس کی گرفتاری سے بچنے کیلئے ایک رات قبرستان میں بھی گزاری ۔ڈی ایس پی حسن ابدال تنویر احمد ملک نے بتایا کہ ملزمہ نے بچوں کو اغواء کیوں کیا اور اسکی وجوہات معلوم کرنے کیلئے ماہر نفسیات کی خدمات حاصل کی جائینگی۔ترجمان اٹک پولیس

Comments

comments