آرمی چیف ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی جانب سے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کا کردار ادا کرنے کا نوٹس لیں۔ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو احکامات کہاں سے ملتے رہے ؟قوم کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔

  • IMG-20180730-WA0107.jpg

فوج کی الیکشن میں مداخلت ادارے کی بدنامی کا باعث بنی،میاں افتخار حسین
آرمی چیف ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی جانب سے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کا کردار ادا کرنے کا نوٹس لیں۔
ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو احکامات کہاں سے ملتے رہے ؟قوم کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔img-20180730-wa0107
جس پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کو باختیار بنایا اس نے اسی پارلیمان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔
سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا، ایک مخصوص پارٹی کیلئے باقی جماعتوں کا راستہ روکا گیا۔
رات8بجے میری جیت کا اعلان کر دیا گیا لیکن فوجیوں اور پولنگ عملے نے نتائج تبدیل کر دیئے۔
تاریخ کی بدترین دھاندلی کے خلاف اے این پی کا ہر کارکن کل سڑکوں پر ہوگا، نوشہرہ میں پریس کانفرنس

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ فوج کی ذمہ داری ملک کا تحفظ کرنا ہے اسے الیکشن میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے تھی ،تحقیقات کا مطالبہ ہوا تو فوج کی بھی بدنامی ہو گی،آرمی چیف ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی جانب سے پی ٹی آئی کے سپورٹرز کا کردار ادا کرنے کا نوٹس لیں اور تحقیقات کریں کہ ان اہلکاروں کواس کام کیلئے کہاں سے احکامات ملتے رہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اے این پی کے ضلعی صدر ملک جمعہ خان اور جمال خٹک بھی ان کے ہمراہ تھے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ الیکشن سیاسی جماعتوں کا کام ہے اور اگر فوج اپنی نگرانی میں کرائے گی تو دھاندلی کی صورت میں اسے ان الزامات سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ ادارہ خود کو کمزور محسوس کرتا رہا جب پارلیمنٹ کے ذریعے اسے با اختیار بنایا گیا اور 6ارب کی بجائے اس بار20روپے جاری کئے گئے تو وہ اپنی اوقات ہی بھول گیا، انہوں نے کہا کہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا اور ایک مخصوص پارٹی کو اقتدار میں لانے کیلئے باقی جماعتوں کا راستہ روکا گیا ، انہوں نے کہا کہ نگران حکومت صرف سب اچھا کی خوش فہمی میں مبتلا رہی ،ملک کی تاریخ میں اس قدر ناکام اور جانبدار نگران حکومت کبھی نہیں آئی، میاں افتخار حسین نے کہا کہ میرے حلقہ پی کے65میں کسی صورت یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ مجھے شکست ہوئی ہے کیونکہ میرے گاؤں سے کوئی امیدوار میرے مقابلے میں نہیں تھا،انہوں نے کہا کہ نتائج رات8بجے مکمل ہو گئے تھے جن کے مطابق میں اس حلقے سے جیت چکا تھا البتہ ڈیوٹی پر موجود عملہ اور فوجی اہلکاروں نے نتائج روکے جس کے بعد مجھے بتایا گیا کہ میں ہار گیا ہوں ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سپورٹرز فوجی اہلکار ہمارے لوگوں کو سرخ ٹوپی اور بیج لگانے کی وجہ سے ووٹ پول کرنے سے روکتے رہے،جبکہ اس کے برعکس مخالف جماعت کے کارکنوں کو ہر طرح کی آزادی تھی،میاں افتخار حسین نے کہا کہ پراسرار طریقے سے فوجی اہلکاروں کے سائے میں سفید کپڑوں میں ملبوس ایک شخص خفیہ بریف کیس پولنگ سٹیشن کے اندر لے جاتا رہا جن میں گمان ہے کہ بیلٹ پیپرز تھے جنہیں اندر لا کر تبدیل کیا گیا،انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایس آئی ، ایم آئی اور دیگر ایجنسیاں ایمانداری سے رپورٹ دیں تو حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ مجھے آتھ بجے ہی مبارکباد دیتے ہوئے پولنگ سٹیشن سے باہر آ گئے لیکن بعد میں تباہی پھیر دی گئی اور نتائج تبدیل کر کے فوجیوں نے فارم 45روک لئے ،انہوں نے کہا کہ آج جو حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں ان کے نتیجے میں ماضی میں بھی ملک دو لخت ہو چکا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم اس دھرتی پر امن چاہتے ہیں لیکن ہمیں سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کر دیا گیا، انہوں نے کل ہونے والے احتجای مظاہروں میں بھرپور شرکت کا یقین دلا یا اور کہا کہ تاریخ کی بدترین دھاندلی کے خلاف اے این پی کا ہر کارکن کل سڑکوں پر ہوگا، انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ صبح9بجے شوبرا چوک میں احتجاجی مظاہرے میں اپنی شرکت یقینی بنائیں۔

Comments

comments