نگران حکومت نے عوام پر پیٹرول بم گرادیااور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکا اعلان کردیا

*نگران حکومت نے عوام پر پیٹرول بم گرادیا*

*اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکا اعلان کردیا*
*حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 4 روپے 26 پیسے اضافے کے بعد 91 روپے 96 پیسے مقرر کردی گئی ہے*
*لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے14پیسے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد نئی قیمت 74 روپے 99 پیسےہو گئی ہے*

*مٹی کا تیل 4 روپے 46 پیسے اضافے کے بعد 84 روپے 34 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے*
*پیٹرول ایک روپیہ 70 پیسے مہنگا ہو گیا*
*اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 55 پیسےکا اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 105روپے 31 پیسے ہوگئی ہے*
*نوٹیفکیشن کے مطابق قیمتوں کا اطلاق 11 جون کو رات 12 بجے سے ہوجائے گا اور یہ قیمتیں 30 جون 2018 تک نافذ رہیں گی*
*خیال رہے کہ شیڈول کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل ہر ماہ کے آغاز سے قبل کردیا جاتا ہے*
*تاہم ن لیگ کی وفاقی حکومت نے یہ کہہ کر یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا تھا کہ اس کا فیصلہ نگران حکومت کرے گی*
*نگران سیٹ اپ قائم ہونے کے بعد یہ خبریں آئی تھیں کہ نگران حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرے گی*
*تاہم اب قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے*
*ذرائع کا کہنا ہےکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے سے معیشت کو روزانہ ایک ارب 90 کروڑ روپے کا نقصان ہورہا تھا اور اگر اس نقصان کو نہ روکا جاتا تو معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے*

*واضح رہےکہ اوگرا نے یکم جون سے پیٹرول کی قیمت 8 روپے 37 پیسے، ڈیزل ساڑھے 12 روپے اور مٹی کا تیل 8 روپے 30 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کی سفارش کی تھی*

Comments

comments