نواز شریف کے خلاف ریفرنسز میں ان کا دفاع کرنے والے وکیل خواجہ حارث نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا

  • IMG_20180611_125931.jpg

احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف ریفرنسز میں ان کا دفاع کرنے والے وکیل خواجہ حارث نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا ہے اور کہا ہے کہ وہ دباؤ میں کام جاری نہیں رکھ سکتے۔

پیر کو جب العزیزہ ریفرینس کی سماعت کا آغاز ہوا تو خواجہ حارث نے کہا کہ وہ کام جاری نہیں رکھ سکتے اور اپنا وکالت نامہ واپس لینا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہفتے اور اتوار کو بھی جب عدالتیں لگیں گی تو اتنے دباؤ میں کوئی بھی فرد اتنے اہم مقدمے کی پیروی نہیں کر سکتا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کہیں یہ دباؤ مقدمے پر اثرانداز ہو اور اس کے نتیجے میں ان کے موکل کو نقصان پہنچے۔ اس لیے وہ اپنی پوری ٹیم سمیت اس مقدمے سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔

اتوار کو جب سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف ریفرینسز کی سماعت کے لیے مدت میں اضافے کی درخواست کی سماعت ہوئی تھی تو خواجہ حارث کی جانب سے اپنے دلائل چھ ہفتے میں مکمل کرنے کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست بھی مسترد کر دی گئی تھی۔

اس کے علاوہ عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف ریفرینسز کی سماعت سنیچر کو بھی کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ سماعت ایک ماہ کے اندر مکمل کر کے فیصلہ سنایا جائے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ ان مقدمات کی طوالت کی وجہ سے نہ صرف ملزم بلکہ عوام بھی تذبذب کا شکار ہیں۔

پیر کو خواجہ حارث کی جانب سے وکالت نامہ واپس لیے جانے کے بعد احتساب عدالت کے جج بشیر احمد نے نواز شریف سے دریافت کیا کہ وہ اب کسے وکیل کرنا چاہیں گے یا پھر خواجہ حارث کو ہی راضی کرنے کی کوشش کریں گے؟

اس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ مشاورت کے بعد ہی عدالت کو اس بارے میں آگاہ کر پائیں گے۔

اس صورتحال میں مقدمے کی سماعت منگل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدات میں نیب ریفرنسز کی سماعت ستمبر 2017 سے جاری ہے اور سپریم کورٹ کی متعین کردہ ابتدائی مدت رواں برس مارچ میں ختم ہوئی تھی تاہم اس موقع پر احتساب عدالت کی درخواست پر مقدمے کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کر دی گئی تھی۔

مئی میں اس مدت کے اختتام پر بھی مقدمہ ختم نہیں ہو سکا تھا اور احتساب عدالت نے ایک مرتبہ پھر توسیع کے لیے درخواست دائر کی تھی جس پر نو جون تک مدت بڑھا دی گئی تھی۔

اس دوسری توسیع کے اختتام سے قبل ہی چار جون کو احتساب عدالت نے ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ سے توسیع مانگی تھی جس پر اب اسے ایک ماہ ملا ہے۔

سیاسی جماعتوں کا ردعملِ

پاکستان تحریک انضاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے پاس اب عدالت میں پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وکالت نامہ واپس لینا راہ فرار ہے۔ فواد چودہدری نے کہا کہ اگر احتساب عدالت نے اس مقدمہ کا فیصلہ نہ دیا تو یہ پاکستان کے نظام انصاف پر سوال ہو گا۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے بھی احتساب عدالت میں زیر سماعت کیسز میں وکالت نامہ واپس لینے پر تنیقد کی ہے۔

Comments

comments