سیاست میں شعبدہ بازوں کی کمی نہیں، تحریک انصاف کے 100 روزہ پلان پر ہنسی آئی، احسن اقبال نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے،

  • IMG_20180522_220852.jpg

وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ سیاست میں شعبدہ بازوں کی کمی نہیں، تحریک انصاف کے 100 روزہ پلان پر ہنسی آئی، نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے، عمران خان بتائیں 90 دن کے منشور پر کیا عملدرآمد کرایا۔ انہوں نے کہا مسئلہ اگلے 100دن نہیں، پچھلے ایک ہزار 825 دن کا ہے، ہم نے اپنے مشور پر عملدرآمد کر لیا۔مسلم لیگ ن نے اپنی کارکردگی ثابت کردی ہے ،10ہزار میگاواٹ بجلی نظام میں شامل کی اقتصادی ترقی کی شرح 6فیصد تک لے آئے ملکی معیشت پھر سے بحال کی دہشتگردی پر قابو پایا،کراچی اور بلوچستان میں امن بحال کردکھایا تعلیم اور صحت کے شعبے میں بھی نمایاں کام کیا ۔ اسلام آباد میںوفاقی وزرا اور مشیران کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ہم نئے انتخابی عمل کی طرف بڑھ رہے ہیں آئندہ انتخابات میں قوم کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی ۔ آج 5سال مکمل ہورہے ہیں مسلم لیگ ن نے اپنے منشور پر عمل کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 2013میں سب بڑے مسئلے توانائی ، سیکیورٹی ، معیشت اور سماجی شعبے تھے ہم نے قومی پیداوار میں تقریباً10ہزار میگاواٹ بجلی شامل کی معیشت میں 13سالوں کے دوران سب سے تیز ترین ترقی کی 3فیصد جامد معیشت کو 6فیصد تک پہنچایا ۔ آج پاکستان 2013کے مقابلے میں دہشتگردی کے شعبے میں کامیابیاں حاصل کرچکا ہے ۔ ہم نے دہشتگردی کی اس لہر کی کمر توڑی ہے ۔جس نے ہماری معیشت اور معاشرت کو مفلوج کرکے رکھ دیا تھا ۔ آج کراچی امن کا گہوارہ بن چکا ہے ۔ بلوچستان میں قومی پرچم لہرانا بعض عناصر نے جرم بنادیا تھا ۔ آج بلوچستان بھی ترقی کے عمل میں قومی دھارے میں شریک ہے ۔ سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جو پاکستان کیلئے گیم چینجر ہے ۔ ہم نے 3سال میں اس خواب کو حقیقت بنایا جس سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں آئی آج دنیا کا ہر مالیاتی ادارہ سی پیک کو پاکستان کی ترقی پر گہرے اثرات کی نوید سنا رہا ہے ۔ جس سے پاکستان کی معیشت میں طاقت آئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ن لیگ نے جو وعدہ کیا اسے پورا کیا آج معیشت کے حوالے سے بین الاقوامی نگراں ادارے سی پیک کی تعمیر کو پاکستان کی ترقی اور اس کے لیے ایک بہت بڑا اثاثہ شمار کر رہا ہے جس سے پاکستان کی معیشت میں طاقت آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کی جانب سے پاکستان کو دنیا کے بہترین 25 معیشتوں میں شامل کرنے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا جسے ملک کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد افراد نے مرتب کیا جو پاکستان کی ترقی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔وزیرداخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ویژن 2025 کے مقابلے میں ایک ایسا چربہ بنانے کی کوشش کی گئی جو اندرونی تضاد سے بھرا ہوا ہے، اور وہ کسی لحاظ یا پیمانے سے حقیقت پسندانہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہماری سیاست میں شعبدہ بازوں کی کمی نہیں ہے۔ ایک شعبدہ باز نے 10دن کا پروگرام پیش کیا ۔ ہم نے جب عمران خان کا 100دن کا پروگرام دیکھا تو ہنسی آئی کہ نقل کیلئے بھی عقل چاہیے سو دن کا ایجنڈا پیش کرنے کا حق تب رکھیں گے جب 1825دن کی پرفارمنس پیش کریں گے ۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا کی حدتک اپنے منشور پر کہاں تک عمل کرسکے ہیں جبکہ ہماری حکومت کے 5سالوں کی اوسط ترقی کی شرح 5فیصد رہی ہے ۔ عمران خان محض نیٹو کمانڈرہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ”نوایکشن ٹاک اونلی”ان سے تقریریں جتنی مرضی کرالیں مگر عمل صفر جمع صفر برابر صفر ہے ۔ کے پی کے کا 90دن کا ایجنڈا حقیقت کا روپ نہیں دھارسکا تو سودن کا پروگرام حقیقت پر کیسے مبنی ہوسکتا ہے ۔ دو جماعتوں کا مقابلہ ہے ایک پریزنٹیشن پارٹی ہے اور ایک پرفارمنس پارٹی ہے ۔ ایک ایک دن کراچی لاہور اور پشاور میں گزار کر دیکھیں پتہ چل جائے گا۔ کونسی جماعت کتنا ڈیلیور کرسکتی ہے ۔ عوام کے پاس تین جماعتیں ہیں کس نے کتنا کام کیا اس کا تجربہ کرے 4سال میں پشاور میں میٹرو کا جنگلا تک نہیں بن سکا ۔ سیاسی جماعتیں اہل وطن کی عدالت میں پیش ہوں گی اور عوام کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے ،پریس کانفرنس کے دوران مفتاح اسمعیل کا کہنا تھا کہ نیا صوبہ بنانے سے 50 ارب روپے سالانہ اخراجات آئیں گے، اور ان کے 100 دن کے پروگرام میں بھی اخراجات آئیں گے، اسی لیے خان صاحب سے پوچھا جائے کہ وہ اخرابات کے لیے 1600 ارب روپے کہاں سے لائیں گے، پی ٹی آئی پلان 8ہزار ارب روپے کا متقاضی ہے ۔ پی ٹی آئی نے محصولات کا پلان نہیں بنایا ۔ پی ٹی آئی کا پلان عملی نہیں تصوراتی ہے جبکہ وفاقی وزیربلیغ الرحمان نے کہا کہ موجودہ دور میں نصاب سازی کی ماضی میں مثال نہیں ملتی وزیر صحتسائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پہلا ہیلتھ وژن دیا وفاقی حکومت نے اربوں روپے کا نیشنل ہیلتھ پروگرام کا میابی سے چلایا ۔ حکومت نے ملک بھر میں صحت کی ہر ممکن سہولیات فراہم کیں ۔ یونیفارم ہیلتھ سروے کا وعدہ کیا ہے موقع ملا تو پورا کریں گے ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عوام باشعور ہوچکی ہے وہ اب صرف کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیتی ہے مسلم لیگ ن کی حکومت سے دوسری جماعتوں کی حکومتوں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے توفرق نمایاں طور پر سامنے آجاتا ہے ۔ مسلم لیگ ن حکومت نے عوام سے 2013میں کئے وعدے پورے کر کے دکھائے ۔ جبکہ پی ٹی آئی کی کے پی کے اور پیپلزپارٹی کی سندھ میں کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے

Comments

comments