پاکستان کے حالات دوبارہ خراب کرنے کی سازش کی جارہی ہے،پیچھے ہٹنے والا نہیں ، یہ پاکستان کی سلامتی کی جنگ ہے، میں بھی برداشت کررہا ہوں اور عوام بھی تحمل سے کام لیں۔ نوازشریف

  • IMG-20180228-WA0469.jpg

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل ہی دھاندلی کی جارہی ہے۔، پاکستان کے حالات دوبارہ خراب کرنے کی سازش کی جارہی ہے، یہ پاکستان کی سلامتی کی جنگ ہے، میں بھی برداشت کررہا ہوں اور عوام بھی تحمل سے کام لیں۔ عوام کے تقدس کی جدوجہد ضرور کامیاب ہوگی ،عوام کے تعاون سے آئندہ بھی وعدے پورے کریں گے پیچھے ہٹنے والا نہیں عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کریں گے ۔ کوٹ مومن میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ ہمارے امیدوار کو شیر کے نشان کی بجائے پک اپ دیا گیا ہے ۔ اتنی ناانصافیاں کیوں ہورہی ہیں کونسی کرپشن کی تھی کہ مجھے وزارت عظمیٰ سے ہٹادیا گیا کہتے ہیں نوازشریف نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اس لیے نکالا ۔ بڑے بڑے وکلاء نے بھی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا بڑے بڑے سیاستدانوں نے بھی کہا ہے کہ یہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہے ۔ درخواست دینے والا عمران خان خود کہتا ہے کہ نوازشریف کے خلاف آنے والا کمزورفیصلہ ہے مجھے بتایا جائے کہ پھر اس فیصلے کی کیا حیثیت ہے ۔ اب اسی فیصلے کی بنیاد پر مجھے مسلم لیگ ن کی صدارت سے بھی ہٹادیا گیا ہے ۔ نواز شریف نے کہا ہے کہ میرے خلاف فیصلے کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کے ووٹ کی توہین ہوئی ہے اور جو ووٹ کی عزت نہیں کرے گا اسے عزت نہیں دیں گے۔کوٹ مومن میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو وزارت عظمی کے عہدے سے نکالنے والے لوگ مان رہے ہیں کہ نواز شریف نے کوئی کرپشن نہیں کی اور نہ ہی کسی سرکاری خزانے میں کوئی خورد برد کی۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نواز شریف اپنے عوام سے جو وعدہ کرتا ہے وہ پورا کرتا ہے اور ہم نے لوڈ شیڈنگ، دہشتگردی کے خاتمے کا وعدہ پورا کردیا۔انہوں نے کہا کہ جب میں وزیر اعظم تھا تو ملکی معشیت ترقی کر رہی تھی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھ رہی تھی لیکن اب پھر سے ملکی معیشت پر اثرات پڑ رہے ہیں اور ملک میں حالات خراب کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن عوام کو ان سازشوں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔نواز شریف نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں (ن) لیگ کے عمدہ ساتھی ہیں اور ملک کے ایسے حالات میں ان کا کوئی قصور نہیں بلکہ قصور اس فیصلے کا ہے جو میرے خلاف آیا۔کارکنوں سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ چند لوگ جو سلوک کر رہے ہیں ہم انہیں روکیں گے اور پاکستان کو دوبارہ ڈگر پر لائیں گے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ لوگ مجھے بالکل آوٹ کرنے کی سوچ رہے ہیں یہ لوگ مجھے باہر نکال رہے لیکن عوام مجھے واپس لارہے ہیں اور جو کچھ (ن) لیگ کے ساتھ ہورہا ہے اس کے خلاف لڑنا ہے اور یہ جنگ پاکستان کی سلامتی، قانون کی حکمرانی، ووٹ کے تقدس کی جنگ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سفر تھوڑا کٹھن ہے لیکن اسے برداشت کیا جائے کیونکہ یہی سفر پاکستان کو اصل منزل تک پہنچانے کے لیے ہے اور قوم کو اس میں میرا ساتھ دینا ہوگا۔، ن لیگ کا انتخابی نشان شیر ہے ہمارے امیدوار کو پک اپ کا نشان کیوں دیا گیا ہے، اتنی بڑی نا انصافی کیوں؟، مسلم لیگ (ن) کو سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے سے روک کر 2018 کے عام انتخابات سے قبل ہی دھاندلی کی جارہی ہے۔، پاکستان کے حالات دوبارہ خراب کرنے کی سازش کی جارہی ہے، یہ پاکستان کی سلامتی کی جنگ ہے، میں بھی برداشت کررہا ہوں اور عوام بھی تحمل سے کام لیں۔

Comments

comments