سندھ سیکریٹریٹ میں شراب نوشی اور خالی برتلوں پر نصرت سحر عباسی کی سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع

  • IMG_20180228_010959.jpg
  • IMG_20180228_010959-1.jpg

سندھ سیکریٹریٹ میں شراب نوشی اور شراب کی خالی برتلوں کے معاملہ پر فنکشنل لیگ کی نصرت سحر عباسی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ عوامی مقامات پر شراب نوشی منع ہونے کے باوجود سندھ سرکار کے دفاتر کے باہر شراب کی درجنوں خالی بوتلیں کہاں سے آگئیں۔ نصرت سحر عباسی نے اپنی تحریک التوا میں کہا کہ سرکاری دفاتر کے باہر ایسی صورتحال سندھ حکومت کے لئے شرمندگی کا باعث ہے۔ اس افسوسناک صورتحال پر سندھ اسمبلی میں بحث کی جائے۔
سندھ اسمبلی نے صوبے میںپانی کی شدید قلت، پاکستان اسٹیل اور پی آئی اے جیسے قومی شناخت کے حامل اداروں کی مجوزہ نجکاری اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سندھ کی مستحق خواتین کے نام وظیفہ وصول کرنے والی خواتین کی فہرستوں سے نکال دینے پرمسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز لیگ کی حکومت جب بھی برسر اقتدار آتی ہے اس طرح کے مظالم شروع کردیئے جاتے ہیں ،اس کے باوجود ایک شخص نے رونا دھونا مچارکھا ا ہے، ایوان نے چشمہ جہلم لنک کینال اور تونسہ پنجند کینال میں پانی چھوڑنے پر انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ( ارسا ) کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان نہروں کو پانی کی فراہمی فور طور پر بند کی جائے کیونکہ سندھ کو اس کے جائز حصے کا پانی نہیں مل رہا ہے ۔ سندھ اسمبلی نے سول اسپتال سانگھڑ میں قومی ادارہ برائے امراض قلب کا یونٹ
قائم کرنے ، محکمہ تعلیم کے گریڈ ایک سے گریڈ 7 کے ملازمین کے گریڈ بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ سندھ اسمبلی نے انسانی حقوق کی علمبردار اور ممتاز قانون دان عاصمہ جہانگیر کو بھی زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ اس حوالے سے منگل کو پرائیویٹ ممبرز ڈے پر سندھ اسمبلی نے 6 قرار دادیں اتفاق رائے سے منظور کر لیں ۔ ایک قرا رداد مسلم لیگ (فنکشنل) کے پارلیمانی لیڈر نندکمار نے پیش کی ، جس میں کہا گیا کہ سندھ کے احتجاج اور صوبے میں پانی کے شدید بحران کے باوجود ارسا نے غیر قانونی طور پر چشمہ جہلم لنک کینال اور تونسہ پنجند کینال میں پانی چھوڑ دیا ہے ، جو بین الصوبائی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور اس سے سندھ کو پانی کے جائز حصے سے محروم کیا جا رہا ہے ۔ یہ ایوان ارسا کے رویہ کی مذمت کرتا ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور ان نہروں کو اس وقت تک پانی کی فراہمی معطل رکھے ، جب تک سندھ اس کی اجازت نہ دے ۔ قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے نند کمار گوکلانی نے کہا کہ سندھ میں پانی کی شدید کمی ہے حکومت وفاق سے اس نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرے سندھ بھر خصوصا زیریں سندھ کی زمینیں زرعی پانی کی شدید قلت کے باعث بنجر ہورہی ہیں کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہے سندھ حکومت اس اہم ایشو کو وفاق کے سامنے رکھے اس معاملے پر ہمیں متحد ہونا چاہئے صوبائی وزیر امداد علی پتافی نے کہا کہ سندھ حکومت اس معاملے پر احتجاج کرے گی ۔ ہم خاموش نہیں رہیں گے ۔ وزیراعلی سندھ نے ہمیشہ پانی کے معاملے پر احتجاج کیا ہے ۔ انہوں نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاسوں میں بھی اسی نوعیت کے مسائل اٹھائے ہیں ۔ خدارا سندھ کو بنجر کرنے سے باز رہا جائے ۔ ایم کیوایم کے سید سردار احمد نے کہا کہ سیلاب کے لئے بنائی گئی کینال کو کھولنا ناانصافی ہے ۔ ہم اس قرارداد کی حمایت کرتے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کی سورٹھ تھیبو نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی اہم قرارداد ہے اور یہ وقت کی ضرورت ہے ۔ پیپلزپارٹی کی خیر النسا مغل نے کہا کہ پورا صوبہ سراپا احتجاج ہے ۔ بہت ہو چکا ،اب ناانصافیوں کو بند ہونا چاہئے ۔ سانگھڑ میں ادارہ امراض قلب کے قیام کی ایک قرارداد مسلم لیگ (فنکشنل) کے رکن سعید نظامانی نے پیش کی ، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ۔ سعید نظامانی نے اپنی قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں بلند فشار خون اور امراض قلب کے مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔ سانگھڑ میں دل کے امراض کا علاج نہ ہونے سے لوگ جان سے جارہے ہیں ۔ غریب لوگ مہنگا علاج کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے ۔ سانگھڑ میں این آئی سی وی ڈی کا یونٹ بنایاجائے ۔ ایم کیوایم کے سید سردار احمد نے قرارداد کی حمایت کی اور کہا کہ سانگھڑ سمیت ہر ضلع میں امراض قلب کے علاج کے لیے خصوصی سینٹرز ہونے چاہئیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کے ثمرعلی خان نے سعیدنظامانی کی قرارداد کی حمایت کی اور قومی ادارہ امراض قلب کی کارکردگی کی تعریف بھی کی۔ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ۔ سندھ اسمبلی نے محکمہ تعلیم کے لوئر اسٹاف کی اسامیوں کو اپ گریڈ کرنے کی قرارداد بھی منظور کرلی ۔ یہ قرارداد مسلم لیگ (فنکشنل ) کی نصرت سحر عباسی نے پیش کی تھی ۔ وزیر پارلیمانی امور و خوراک نثار کھوڑو نے کہا کہ حکومت سندھ محکمہ تعلیم کے لوئر اسٹاف کی پوسٹس کو اپ گریڈ کررہی ہے ،جس کے بعد قرارداد منظور کر لی گئی ۔ ۔ سندھ اسمبلی نے انسانی حقوق کی علمبردار معروف قانون دان مرحومہ عاصمہ جہانگیر کو خراج عقیدت کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کرلی۔ یہ قرارداد پیپلزپارٹی کی رکن سائرہ شاہلیانی نے پیش کی تھی ۔ حکومتی اور حزب اختلاف کے ارکان نے قرارداد کی حمایت کی ۔ ارکان نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم عاصمہ جہانگیر کی جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے مصلحتوں کا شکار نہ ہوتے ہوئے انسانیت کے لیے کام کیا۔ ہمارے یہاں بھی ایسے نام تھے ، جن کو دنیا جانتی ہے۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے معاشرہ زندہ رہتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر لوگوں کیلئے مشعل راہ ہیں ۔ ان پر لوگوں کو فخر ہے ۔ سندھ اسمبلی نے اسٹیل ملز اور قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری اور لیزنگ کو مسترد کرنے سے متعلق قرارداد بھی اتفاق رائے سے منظور کرلی ۔قرار داد میں کہا گیا کہ نااہل حکومت قومی اثاثوں حسب منشاء کسی بھی صورت فروخت کرنے سے باز رہے ۔ پیپلز پارٹی محنت کشوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی ۔ ملک کی واحد فولاد ساز صنعت پاکستان اسٹیل اور واحد ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری دراصل چند مخصوص خاندانوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہے ، جس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی ۔ پاکستان اسٹیل مل کے ملازمین کی گذشتہ پانچ ماہ کی واجب الادا تنخواہیں اور 4 ہزار ریٹائرڈ مرحوم ملازمین کے واجبات وفاقی حکومت فوری ادا کرے اور پاکستان اسٹیل کی قیمتی زمین کو چند مخصوص سرمایہ داروں کو اونے پونے داموں فروخت کرنے سے باز رہے کیونکہ سندھ حکومت نے یہ زمین پاکستان اسٹیل کو پیداواری سرگرمیوں کے لیے الاٹ کی تھی ، نہ کہ تجارتی مقاصد کے تحت فروخت کے لیے ۔ لہذا اس کے خلاف قانونی عمل اور مجوزہ نیشنل انڈسٹریل پارک اور اسپیشل اکنامک زون کے تحت زمینوں کے ٹرانسفر کے عمل کو فوری روکا جائے ۔ پاکستان اسٹیل گیس کو فوری بحال کرکے پیداواری سرگرمیاں شروع کی جائیں ۔ یہ قرارداد صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے پیش کی تھی ۔ نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ کسی اور ائیر لائن اور اسٹیل مل کو چلانے کے لئے پی آئی اے کو تباہ نہ کیا جائے ۔ پی آئی اے میں ہزاروں مزدور بے روزگار ہو جائیں گے ۔نثار کھوڑو نے مزید کہا کہ قومی اداروں کی نجکاری چند خاندانوں کو فائدہ پہنچانے کی سازش ہے ۔ اسٹیل مل کی زمین کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ اسٹیل مل کے ہزاروں مزدور اور پنشنرز مفلوک الحال ہیں ۔ سی پیک پر اربوں ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں تو کیا پاکستان اسٹیل کو چلایا نہیں جاسکتا ؟ مسلم لیگ (فنکشنل) کی مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ پی آئی اے میں پیشہ وآرآنہ افراد لائے جائیں ۔ اللہ کے واسطے اس کی نجکاری نہ کی جائے۔ پی آئی اے کی تباہی آج کی نہیں ۔کب سے معاملات خراب ہوئے ، دیکھا جائے۔ ایم کیوایم کے سید سردار احمد نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات صفر پر ہیں ۔ پی آئی اے کی نجی کاری روکی جائے ۔ پرائیویٹ کمپنی چلا سکتی ہے تو موجودہ انتظامیہ کیوں نہیں چلاسکتی۔پی آئی اے کے ملازمین کو تباہی کی جانب لے جانے سے روکا جائے ۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی سورٹھ تھیبو نے بولنا چاہا تاہم ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے ان کا مائیک کھولنے کی اجازت نہیں دی ۔ اس پر انہوں نے احتجاج کیا ۔ تاہم ان کے احتجاج کے باوجود قرارداد منظور کرلی گئی ۔ سندھ اسمبلی نے صوبے میں ہزاروں مستحق افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی امداد روکنے کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کرلی ۔ یہ قرارداد پیپلزپارٹی کی رکن خیر النِسا مغل نے پیش کی تھی ۔ قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے
خیر النسا مغل نے وفاقی حکومت اور نواز شریف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ قرارداد میں سابق وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کی گئی ، جس پر مسلم لیگ (ن) کی سورٹھ تھیبو نے احتجاج کیا تاہم ان کا مائیک بند تھا ۔ مائیک نہ کھولنے اور بولنے کی اجازت نہ ملنے پر وہ ایوان سے احتجاجاً باہر چلی گئیں ۔ قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔ جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس بدھ کی صبح تک ملتوی کردیا۔
سندھ کے وزیر ماہی گیری محمد علی ملکانی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت لائیو اسٹاک اور فشریز کے امور صوبوں کے حوالے نہیں کیے ہیں ۔ سندھ حکومت نے یہ معاملہ بین الصوبائی رابطہ کمیٹی میں اٹھایا ہے ۔ یہ بات سندھ کے وزیر ماہی گیری محمد علی ملکانی نے منگل کو سندھ اسمبلی میں محکمہ ماہی گیری سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان کے تحریری و ضمنی سوالوں کے جواب میں بتائی ۔ محمد علی ملکانی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے لائیو اسٹاک اور فشریز کے امور بشمول اختیارات ، دفاتر اور عملہ صوبوں کو منتقل کرنے کے نوٹیفکیشنز جاری کیے تھے لیکن بعد ازاں یہ نوٹیفکیشنز منسوخ کر دیئے گئے ۔ اس پر سندھ حکومت نے بین الصوبائی رابطہ کمیٹی میں یہ معاملہ اٹھایا ہے ۔ وفاقی حکومت کا کہنا یہ ہے کہ صوبوں کو یہ امور منتقل کرنے میں کچھ قانونی رکاوٹیں ہیں لیکن وفاقی حکومت نے یہ رکاوٹیں دور نہیں کی ہیں ۔ محمد علی ملکانی نے بتایا کہ ہر سال جون اور جولائی میں جھینگے کے شکار پر پابندی ہوتی ہے تاکہ جھینگوں کی افزائش اور ان کا تحفظ کیا جا سکے ۔ یہ پابندی سندھ فشریز آرڈی ننس 1980 ء کے تحت لگائی جاتی ہے ۔ اس پابندی کے عرصے میں ماہی گیروں کو معاوضہ نہیں دیا جاتا اور نہ ہی معاوضہ دینے پر غور کیا جا رہا ہے کیونکہ اس دوران ماہی گیروں کو جھینگے کے سوا مچھلیوں وغیرہ کے شکار کی اجازت ہوتی ہے
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) پاکستان کے صرف دو ارکان شریک ہوئے ۔ ان میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد اور خاتون رکن عائشہ آفتاب شامل تھیں ۔ منگل کو سندھ اسمبلی کا پرائیویٹ ممبرز ڈے تھا اور ایم کیو ایم کے ارکان کامران اختر اور سمیتا افضال سید کے دو
پرائیویٹ بلز ایجنڈے میں شامل تھے لیکن ان دونوں ارکان کی غیر حاضری کی وجہ سے یہ دونوں بل متعارف نہ ہو سکے ۔ منگل کو ایم کیو ایم کے زیادہ تر ارکان اسمبلی اسلام آباد گئے ہوئے تھے ۔
اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے سندھ میں تعلیمی اداروں کی حالت زار سے متعلق حزب اختلاف کے رکن خرم شیرزمان کی تحریک التوا کو خلاف ضابطہ قرار دیکر مسترد کردیا، خرم شیر زمان نے تحریک التوا پیش کی تو وزیر پارلیمانی امور و خوراک نثار احمد کھوڑو نے تحریک التوا کی مخالفت کی اور کہا کہ تحریک قواعد کے برخلاف ہے جس پر خرم شیرزمان نے کہا کہ صوبے میں تعلیمی اداروں خصوصا اسکولوں کا برا حشرکردیا گیا ہے سندھ میں بیس ہزار سے زائد اسکول بجلی پانی واش رومز کی سہولت سے محروم ہیں پانچ ہزار سے زائد اسکولوں کی عمارتیں مخدوش ہوچکی ہیں طلبا طالبات خطرناک صورتحال میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں شرمناک ہے کہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات نہیں اور صوبائی وزیر میری تحریک التوا کی مخالفت کررہے ہیں 42ہزار سے زائد اسکولوں کی خراب صورت حال کو کون بہتر بنائے گا۔ سندھ میں تعلیمی اداروں کی یہ حالت ہے اور وزیر موصوف مخالفت کرتے ہیں تو یہ شرمناک بات ہے جس پر نثار کھوڑو خرم شیر زمان پر برس پڑے اور کہا کہ معزز رکن جان بوجھ کر غلط بات کرتے ہیں میرے بارے میں غلط زبان استعمال کی ان الفاظ کو کارروائی سے حزف کیا جائے یا یہ معافی مانگیں اسپیکر نے کہا کہ جملوں کا استعمال درست کریں کسی کی دل آزاری پر جواب بھی مل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سندھ کا مقدمہ لڑتے رہیں گے خواہ کتنی بھی مخالفت کیوں نہ ہو۔ خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ جب آپ لاڑکانہ ووٹ لینے جائینگے تو عوام آپ سے ضرور پوچھے گی۔ اسپیکر نے نثار کھوڑو سے متعلق خرم شیرزمان کے ریمارکس کارروائی سے حزف کرنے کی رولنگ دی وزیر پارلیمانی امور نثار کھوڑو کی جانب سے تحریک التوا کی مخالفت کے بعد اسپیکر آغا سراج درانی نے تحریک التوا خلاف ضابطہ قرار دیکر مسترد کردی۔
شادی بیاہ کی تقریبات میں ون ڈش سے متعلق ایک بل منگل کو سندھ اسمبلی میں متعارف کرا دیا گیا ۔ یہ بل پیپلز پارٹی کی خاتون رکن سائرہ شاہلیانی نے پیش کیا تھا ۔ ''سندھ ریگولیشن آف میرج فنکشنز بل 2018 '' متعارف ہونے کے بعد مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ۔ قائمہ کمیٹی اپنی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی ۔ اس بل میں شادی بیاہ کی تقریبات میں بے جا اخراجات کو کنٹرول کرنے اور سادگی اختیار کرنے سے متعلق شقیں شامل کی گئی ہیں ۔ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانہ اور قید کی سزائیں بھی دی جائیں ۔
سندھ سیکریٹریٹ میں آتشزدگی کے معاملے پر فنکشنل لیگ کی نصرت سحر عباسی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی ہے نصرت سحر عباسی نے تحریک التوا گزشتہ روز پیر کو اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی۔ انہوں نے تحریک التوا میں کہا کہ چھٹی کے روز سندھ سیکریٹریٹ کے اہم دفاتر میں آگ لگنا معنی خیز ہے۔ نصرت سحر عباسی نے کہا کہ آگ لگنے کی نہ صرف تحقیقات بلکہ سندھ اسمبلی میں اس معاملے پر بحث کی جائے۔ کیونکہ آتشزدگی سے سندھ حکومت کا اہم ریکارڈ جل گیا ہے جسکی تحقیقات انتہائی ضروری ہے۔

Comments

comments