اسلام آباد ہائی کورٹ میں راجا ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ پیش

ختم نبوت سے متعلق حلف نامے میں ترمیم سے متعلق راجا ظفرالحق کمیٹی کی سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کردی گئی۔منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنے اور الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کے معاملے کی سماعت کی۔اس موقع پر حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے راجا ظفرالحق رپورٹ پیش کرنے کے لئے ایک روز کی استدعا کی جسے عدالت میں مسترد کرتے ہوئے ایک بجے تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جس کے بعد سربمہر رپورٹ پیش کردی گئی۔فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ آپ عدالت کے ساتھ عجیب کھیل کھیل رہے ہیں، میں کیوں نہ وزیراعظم کو طلب کروں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے کہا کہ وزیراعظم کا اس رپورٹ سے کوئی تعلق نہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں،کیسے اس رپورٹ سے تعلق نہیں، ختم نبوت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، آپ کو اس ایشو کی نزاکت کا احساس ہی نہیں ہے۔حکومت کی جانب سے راجا ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ جمع کرائے جانے کے بعد عدالت نے سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل حافظ عرفات کو کل دلائل دینے کی ہدایت کی۔جب کہ عدالت نے قرار دیا کہ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔

حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن ایکٹ میں ختم نبوت سے متعلق ترمیم پر راجا ظفر الحق کمیٹی کی سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیض آباد دھرنا، الیکشن ایکٹ میں ختم نبوت سے متعلق ترمیم سے متعلق درخواستوں اور پابندی کے باوجود ویلنٹائنز ڈے سے متعلق پروگرام کرنے کے حوالے سے سماعت ہوئی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنا اور الیکشن ایکٹ میں ختم نبوت سے متعلق ترمیم کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران راجا ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ پیش نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ایک بجے تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بجے تک رپورٹ پیش نہ کی گئی تو وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیر قانون کو طلب کریں گے۔

جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر قانون کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کریں گے، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا راجا ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ راجا ظفرالحق کمیٹی ایک سیاسی جماعت نے بنائی تھی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ وزیراعظم ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں ان کا تعلق ہے، ایک بجے تک رپورٹ پیش نہ کی تو آپ کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے۔

بعد ازاں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے الیکشن ایکٹ میں ختم نبوت سے متعلق ترمیم پر راجا ظفر الحق کمیٹی کی سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

عدالت نے کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی، جہاں درخواست گزار اللہ وسایا کے وکیل حافظ عرفات دلائل دیں گے۔

اس سے قبل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مزید ریمارکس دیئے کہ قادیانیوں کو پاکستان میں رہنا ہے تو شہری بن کر رہیں اسلام پر نقب نہ لگائیں، میں کوئی فتوٰی نہیں دے رہا پاکستان کا آئین قادیانیوں کو مسلمان نہیں مانتا جبکہ ختم نبوت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

بعد ازاں عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ختم نبوت سے متعلق درخواست پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں گے۔

تاہم عدالت نے فیض آباد دھرنے سے متعلق کیسسپریم کورٹ میں زیر سماعت ہونے کے باعث اس کی  سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔

اس سے قبل 9 فروری 2018 کو ہونے سماعت کے  دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور آئندہ سماعت پر تحریری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ وائرل آڈیو کا پتہ کیوں نہیں چلا سکے، یہ بھی بتائیں کہ پاکستان میں یہ سہولت کس ادارے کے پاس ہے۔

اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کرتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے راجا ظفر الحق کمیٹی رپورٹ پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور سیکریٹری دفاع کو دوبارہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

ویلنٹائنز ڈے پر پروگرام نشر کرنے کا معاملہ

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ویلنٹائنز ڈے کے حوالے سے پروگرام نشر کئے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور عدالت نے نجی ٹی وی کی خاتون اینکر اور مہمانوں کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے عائشہ بخش، امتیاز عالم، حسن نثار اور میر ابراہیم کو 27 فروری کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ویلنٹائنز ڈے کے حوالے سے پروگرام کرکے عدالتی فیصلے کی توہین کی گئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیو نیوز کو توہین عدالت تحریری حکم نامے میں ریمارکس دیئے کہ 14 فروری کو پروگرام رپورٹ کارڈ میں ویلنٹائنز ڈے کے حوالے سے توہین آمیز پروگرام پیش کیا گیا۔

عدالت نے کہا کہ پروگرام میں ویلنٹائنز ڈے کے بارے میں عدالتی حکم کا تمسخر اڑایا اور آٹیکل 19 کی خلاف ورزی کی گئی۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ پروگرام کے شرکاء نے آزادی اظہار کی آڑ میں اخلاقیات اور شائستگی کی تمام حدیں عبور کیں۔

اس سے قبل 16 فروری 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ  نے نجی ٹی وی کے اینکر پرسن مطیع اللہ جان توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران پاکستان الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے جیو کے پروگرام ’رپورٹ کارڈ‘ کا ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے ٹرانسکرپٹ طلب کیا تھا۔

اس سے قبل 7 فروری 2018 کو پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے الیکٹرانک میڈیا کو ویلنٹائنز ڈے کو اجاگر نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

پیمرا کے جاری نوٹیفکیشن میں الیکٹرونک میڈیا کو یاد دہانی کرائی گئی تھی کہ ویلنٹائنز ڈے کو فروغ دینے پر پابندی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار ہے، اس کے علاوہ پیمرا نے اپنے نوٹیفکیشن میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پابندی سے متعلق فیصلے کا متن بھی شامل کیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 13 فروری کو اسلام آباد ہائی  کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اُس درخواست پر فیصلہ سنایا تھا، جس میں’ ویلنٹائنز ڈے کو غیر اسلامی دن’ قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

معزز جج نے سیکریٹری انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ، سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی، چیئرمین پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)، چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ویلنٹائنز ڈے کی تقریبات منعقد نہ ہونے پائیں اور پرنٹ سمیت الیکٹرانک میڈیا پر اس کی تشہیر نہ ہو‘۔

جسٹس شوکت صدیقی نے اپنے حکم میں مزید کہا تھا کہ ویلنٹائنز ڈے کے حوالے سے کوئی بھی تقریب عوامی مقام پر یا سرکاری سطح پر منقعد نہ کی جائے، جب کہ چیئرمین پیمرا کو ہدایات دی تھیں کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ویلنٹائنز ڈے کی تشہیر ٹی وی چینلز پر نہ ہو۔

فیض آباد دھرنا

واضح رہے کہ اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2018 کو دھرنا دیا۔

حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

آپریشن کے خلاف اور مذہبی جماعت کی حمایت میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، 27 نومبر 2018 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے، جس میں دوران آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

بعد ازاں تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارکنان کی رہائی کا آغاز ہوگیا اور ڈی جی پنجاب رینجرز میجر جنرل اظہر نوید کو، ایک ویڈیو میں رہا کیے جانے والے مظاہرین میں لفافے میں ایک، ایک ہزار روپے تقسیم کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

Comments

comments