پوری مقبوضہ وادی محمد افضل گرو کے عدالتی قتل کے خلاف سراپا احتجاج ہے، علی امین خان گنڈاپور

FB_IMG_1612911111454.jpg

وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے محمد افضل گرو کی آٹھویں برسی کے موقع پر شہید کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہید افضل گرو اور محمد مقبول بھٹ کی لازوال قربانیوں آج بھی کشمیری عوام کے دلوں میں ترو تازہ ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ پوری مقبوضہ وادی محمد افضل گرو کے عدالتی قتل کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے افضل گرو کا عدالتی قتل بھارتی ریاستی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور مقبوضہ کشمیر میں اس قسم کے واقعا ت میں ہرگزرتے دن کے ساتھ مزید اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ آج بھارت کے تمام ریاستی ادارے آر ایس ایس کے ہندتوا نظریے کو پروان چڑھانے کے لیے اس کے ایجنٹس کا کردار ادا کررہے ہیں۔مقبوضہ کشمیر ماورائے عدالت قتل کی ایک المناک مثال بن چکا ہے جہاں آئے روز کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کردیا جاتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارتی حکومت ان جعلی مقابلوں میں ملوث اہل کاروں کا سزا دینے کی بجائے ان کو انعامات اور اعزازات سے نوازتی ہے۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم وجبر اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ دسمبر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے بے گنا ہ نوجوان اطہر مشتاق کے والد کی جانب سے اپنے بیٹے کے جسد خاکی کے مطالبے پران کے خلاف دہشت گردی کے کالے قوانین کے تحت مقدمہ درجہ کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ایسی ہزاروں گمنام قبریں ہیں جن میں بھارتی افواج نے کشمیریوں کو شہید کر کے دفن کر رکھا ہے اورایسی گمنام قبروں کی نشاندہی خود بھارتی انسانی حقوق کے ادراے بھی کر چکے ہیں۔علی امین گنڈا پور نے کہاکہ نریندر مودی کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ ظلم وجبر سے کشمیریوں کو زیر کر سکتا ہے انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے پچھلے ستر سال سے مثالی استقامت اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے اور ہر آنے والے دن کے ساتھ حق خود ارادیت کے حصول کے لیے ان کے حوصلے اور عزم میں اور بھی اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ اپنے مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کو اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ ان کی آزادی کی جدوجہد میں جانی ومالی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور وہ بہت جلد دنیا میں آزاد فضاں میں اپنی امنگوں کے عین مطابق زندگی بسر کریں گے

Comments

comments