پی ڈی ایم کی صفوں میں اختلاف کھل کر سامنے آ چکا ہے،شاہ محمود

  • IMG-20200809-WA0053.jpg

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی صفوں میں اختلاف کھل کر سامنے آ چکا ہے،بلاول بھٹو زرداری اسمبلیوں کا رخ اختیار کرنے کی بات کر رہے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی احتجاجی سیاست پر عوام نے توجہ نہیں دی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اور ہمارے حلیف تحریک عدم اعتماد کا سیاسی، جمہوری اور پارلیمانی انداز میں مقابلہ کریں گے اور انہیں شکست دیں گے، پی ڈی ایم کی صفوں میں اختلاف کھل کر سامنے آ چکا ہے، یہ ایک غیر فطری اور عارضی اتحاد ہے، استعفوں کے معاملے پر مسلم لیگ( ن) میں مریم نواز اور شہباز شریف صاحب کی سوچ کا اختلاف منظرعام پر آ چکا ہے، مولانا فضل الرحمن لانگ مارچ پر تلے ہوئے تھے لیکن بلاول بھٹو زرداری اسمبلیوں کا رخ اختیار کرنے کی بات کر رہے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی احتجاجی سیاست پر عوام نے توجہ نہیں دی، مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے اندر بھی شدید دبائو اور کشمکش دکھائی دے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر سینیٹ الیکشن کے بعد مختلف پارٹیوں نے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگائے اور الیکشنز کی شفافیت پر سوالات اٹھائے، گذشتہ سینیٹ انتخابات میں جب یہ معاملہ سامنے آیا تو وزیر اعظم عمران خان نے 20 کے قریب تحریک انصاف کے اراکین کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیا جو تاریخ میں پہلے کسی جماعت نے نہیں کیا، وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف شفاف انتخابات کی خواہاں ہے، اسی مقصد کے پیش نظر ہم نے سینیٹ الیکشنز میں اوپن ووٹنگ کی تجویز سامنے رکھی، ہم نے انہیں باور کرایا کہ ہم اس حوالے سے قانون سازی کیلئے بھی تیار ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن اس حوالے سے قانون سازی کیلئے ہمارا ساتھ دینے کو تیار ہے؟، اس حوالے سے ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ کیا اب سپریم کورٹ اوپن ووٹنگ کے حوالے سے اپنی رائے دے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے عمل سے دنیا کو باور کرایا کہ ہم خطے میں امن و استحکام کے خواہشمند ہیں، معیشت کا استحکام، امن و امان سے مشروط ہے، امن ہو گا تو سرمایہ کاری ہوگی اور سرمایہ کاری ہو گی تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، افغان امن عمل میں ہم قیام امن کیلئے مصالحانہ کردار ادا کر رہے ہیں جسے دنیا سراہ رہی ہے، وزیر اعظم عمران خان نے تو حکومت میں آتے ہی بھارت کو دعوت دی کہ وہ امن کی طرف ایک قدم بڑھائیں ہم دو بڑھائیں گے مگر افسوس کہ بھارت نے اس پیشکش پر توجہ نہ دی اور ایسے اقدامات اٹھائے جن سے مقبوضہ کشمیر میں صورتحال مزید خراب ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے بھارتی کسانوں کوکافی جھانسے دینے کی کوشش کی، کسانوں کیلئے کم از کم امدادی قیمت کے خاتمے اور نئے قوانین کے اطلاق سے بھارتی کسانوں کے استحصال کی راہ ہموار کی گئی، کسانوں نے ان غیر منصفانہ اقدامات کے خلاف جب آواز اٹھائی تو انہیں ریاستی جبر اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بھارتی یوم جمہوریہ پر بھارتی کسانوں نے ایک مرتبہ پھر دلی کی جانب ایک بڑی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے، بھارتی سرکار تمام کوششوں کے باوجود کسانوں کی آواز دبانے میں ناکام رہی آج پورا ہندوستان ان کے ساتھ ہم آواز ہے۔انہوںنے کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے، بھارت نے طویل عرصے سے کشمیریوں کے بنیادی حقوق معطل کر رکھے ہیں انہیں جبرو استبداد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، ہم نہیں سمجھتے کہ دو ایٹمی قوتیں اس مسئلے کو بزور بازو حل کر سکتی ہیں ،ایسا کرنا خود کشی کے مترادف ہوگا، اگربھارت کاموقف مضبوط ہے تووہ گفت وشنیدسے کیوں گھبرارہاہے، ہم دنیا کو مسلسل باور کرا رہے ہیں کہ کشمیر ایک فلیش پوائنٹ بن چکا ہے جس کا جلد اور مستقل حل ناگزیر ہے۔

Comments

comments