کراچی میں جناح، سول اور عباسی اسپتال سمیت دیگر علاقوں میں غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس غیر معیاری خون بناکر تجارت کر رہے ہیں،

سرکاری اسپتالوں کے اطراف میں غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکوں کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست کی سماعت

سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی نے جواب جمع کرادیا

عدالت نے آئندہ سماعت پر ڈائریکٹر سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کو طلب کرلیا

قانون کے تحت بلڈ اتھارٹی قائم ہے درخواست گزار نے اتھارٹی سے کبھی کوئی شکایت نہیں کی،جواب

حکومت کی اطلاع کے مطابق کراچی کے تین بڑے اسپتالوں کے علاوہ سندھ میں کہیں بھی غیر معیاری بلڈ بینک قائم نہیں ہیں،جواب

اگر درخواست گزار یا شہری غیر معیاری بلڈ بینک کی نشاندہی کرے تو کاروائی کریں گے،جواب

تمام اضلاع مانیٹرنگ اور تصاویر ہر تین ماہ بعد محکمہ صحت کو بھیج دی جاتی ہے،جواب

بلڈ بینک میں جو آلات استعمال ہوتے ہیں اسکی اتھارٹی سے پہلے منظور کی جاتی ہے جواب

اتھارٹی کی منظوری کے بغیر کوئی آلات بلڈ بینک میں استعمال نہیں کئے جاسکتے جواب

درخواست حقائق کے بجائے مفروضوں پر مبنی پر ہے، جواب

بلڈ بینک ٹیکنیشن کی ڈگری پر رجسٹرڈ نہیں کیا جاسکتا ہے جواب

پیتھالوجسٹ یہ ہیمٹلوجسٹ کے بیان حلفی کے بعد بلڈ بینک رجسٹرڈ کیا جاتا ہے، جواب

غیر معیاری بلڈ بینکس کے خلاف کاروائی بھی کی گئی ہے، جواب

عدالت نے دراخوست کی مزید سماعت 23 فروری تک ملتوی کردی

کراچی میں جناح، سول اور عباسی اسپتال سمیت دیگر علاقوں میں غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس غیر معیاری خون بناکر تجارت کر رہے ہیں، درخواست

Comments

comments