پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی نے 168 لازمی اشیاءکی نئی لسٹ جاری کی ہے

  • FB_IMG_1610632080779.jpg

پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے )نے 168 لازمی اشیاءکی نئی لسٹ جاری کی ہے جس میں مینڈیٹری لسٹ میں شامل ہونیوالی61 نئی مصنوعات بھی شامل ہیں اس سلسلے میں ملک بھر میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں جو اشیاءکو مکمل کوالٹی پاکستان اسٹینڈرڈز کے مطابق چیک کرنے کی مجاز ہونگی ۔ ڈائریکٹر جنرل پی ایس کیو سی اے عبدالعلیم میمن کی ہدایت پر ملک بھر میںکنفرمٹی اسسمنٹ ونگز رکارڈ مرتب کررہی ہیں۔ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی منظوری کے بعد چھاپوںکا سلسلہ شروع کیا جائیگا۔ ان لازمی اشیاءمیں فوڈ اور نان فوڈ اشیاءشامل ہیں ۔ جن میںمیڈیکل ایکسرے آلات، شیونگ کریم، ہیئر کریم، کار اورسائیکل کے ٹائراور رم،سینیٹری ٹیبز، پولی پراپلین پائلن، یو پی ایس،ساﺅنڈ سسٹم، کافی، فروٹ جوس، فورٹیفائیڈ ویٹ فلور،ایلومینیئم مصنوعات ،الیکٹرک سوئچ،سیکنڈری سیلز اینڈ بیٹریز، واشنگ مشین، الیکٹرک استری، پلگز اور الیکٹرک ساکٹ،بائیو فرٹیلائزر(کھادیں )،پانی اور گیس سپلائی کے پائپ، لائیٹرز، کمیونیکیشن کیبلز، عینک کے فریم، پینٹ برش، سرجیکل دستانے، مائیکرو ویو اوون، ائیر کنڈیشنر،ٹیلیویڑن، زیتون کے تیل سمیت دیگر اشیاءبھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں14 روزکے اندر اگر کوئی یونٹ لائسنس کیلئے درخواست جمع نہیں کرواتا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائیگی جس میں سٹاک کی ضبطگی اور یونٹ یا فیکٹری کو بند کروا دیا جائیگا جس کی سزا جیل بھی ہوسکتی ہے۔ جبکہ پی ایس کیو سی اے ایکٹ 6 آف 1996 کے تحت اسٹاک رکھنا اور فروخت کرنا پی ایس کیو سی اے کا لائسنس نہ رکھنے والے برانڈز غیر قانونی اور غیر معیاری تصور ہونگے اور ایسی مصنوعات رکھنا یا فروخت کرنا بھی ممنوع ہے جن کو پی ایس کیو سی اے کی ٹیمیں کسی بھی وقت مارکیٹ یا سٹورز میں جا کرضبط کر سکتی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل عبدالعلیم میمن کا کہنا ہے کہ نئی اشیاءکا شامل ہونانہ صرف ادارے کیلئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ عوام کو اب پی ایس کیو سی اے کی طرف سے لائسنس شدہ معیار ی اشیاءکی فراہمی یقینی ہو جائیگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ایس کیو سی اے کی خصوصی ٹیمیں کسی بھی وقت مارکیٹ جا کرایسی اشیاءکی سیمپلنگ (Open Market Sampling) کرکے معیار کو یقینی بنائیں گی۔ انہوں نے نئی شامل ہونیوالی مصنوعات بنانے والوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ جلد از جلد لائسنس لیکر خود کو پی ایس کیو سی اے کے دھارے میں شامل کریں ۔ اب کنزیومرکا تحفظ یقینی بنایا جائیگا اور اشیاءکے معیار پر کوئی سفارش یا دباﺅ قبول نہیں کیا جائیگا۔ ڈائریکٹر جنرل عبدالعلیم میمن نے ادارے کے افسران پر زور دیا کہ وہ ایمانداری سے کام کریں تاکہ ادارہ عوام کی امنگوں کے مطابق کام کرسکے اور عوام کو رلیف دیا جاسکے۔

Comments

comments