صیہونی حکومت کو تسلیم کرنے اور اسلاموفوبیا کیخلاف وزیر اعظم پاکستان کے پختہ موقف کی تائدر کرتے ہیں: ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی

  • IMG-20210114-WA0074.jpg

قرآن سے رہنمائی ، اتحاد اور وحدت کے فروغ پر عوامی بیداری کیلئے ملکر کام کرینگے: پیر نور الحق قادری
صیہونی حکومت کو تسلیم کرنے اور اسلاموفوبیا کیخلاف وزیر اعظم پاکستان کے پختہ موقف کی تائدر کرتے ہیں: ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی
(اسلام آباد: 14 جنوری، 2021) پاکستان میں ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے گذشتہ روز وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری سے ملاقات کی۔ دونوں فریقین نے ایران پاکستان دوطرفہ تعلقات، مذہبی و ثقافتی شعبوں میں تعاون اور دشمنوں قوتوں کے خلاف اسلامی ممالک کے اتحاد و اتفاق کو مضبوط بنانے جیسے وسیع تر موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین مذہبی سیاحت کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔معزز مہمان نے کہا کہ پاکستان اور ایران دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ حالیہ متنازعہ فلم لیڈی آف ہیون مسلم امہ کے اتحاد کے خلاف ایک سازش ہے۔ اس ضمن میں دونوں ممالک مسلسل رابطے میں ہیں اور ہم نے وزیر اعظم پاکستان سے سفارتی ذرائع سے برطانوی حکومت کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھانے کو کہا ہے۔معزز سفیر نے مزید کہا کہ 35 سال قبل 13 جنوری کو اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کی حیثیت سے آیت اللہ خامنہ ای کے تاریخی دورہ پاکستان اور لاہور میں ان کی تقریر کی یاد گار ہے ، جہاں انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی کے بانی، امام خمینی کی طرف سے اتحاد کا پیغام دیا ، پاکستان کے عوام نے آگاہ کیا اور کہا: اے پاکستان کے علمائے کرام، قرآن اور اسلام کی مخالفت کرنے والی عظیم سازشوں پر نظر رکھیں کہ مشرق اور مغرب نے ملت اسلامیہ کو تقسیم کرنے کے لئے ہاتھ ملایا ہے، آپ فرقہ وارانہ اور مسلکی اختلافات، جغرافیائی اور نسلی اختلافات کے باوجود آپس میں ایک ہو جائیں ، شیعہ اور سنیوں کو متحد کریں ، دشمنوں کے خلاف ایک مٹھی کی مانند اکٹھے ہوجائیں۔ سید محمد علی حسینی نے کہا کہ صیہونی حکومت کو تسلیم کرنے اور اسلاموفوبیا کیخلاف وزیر اعظم پاکستان کے پختہ موقف کی تائد، کرتے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی میں اضافے پر عمران خان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ سعودی حکومت وزیر اعظم پاکستان کی تجویز پر تعمیری اور مثبت جواب دے گی ۔ایران پاکستان کے مابین دوستی اور باہمی رابطے کا محور اسلام ہی ہے۔ پیر نور الحق قادری نے کہا کہ ایران کے روحانی قائد کے فرمان مسلکی تقسیم پر قابو پانے کا ذریعہ ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام کے لئے پاکستانی عوام کی لازم و ملزوم دوستی اور محبت پر زور دیتے ہوئے وزیر مذہبی امور کہ اس کی ضرورت نہیں ہے دو برادر ممالک کے مابین مضبوط رشتوں کی وجوہات فراہم کریں کیونکہ ایران اور پاکستان ہمیشہ کسی بھی صورتحال میں ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان میں فرقہ واریت کو بھڑکانے اور ملک میں شیعہ سنی فسادات کی کوشش کرنے والے عوامل کے خلاف حکومت اور مذہبی طبقے نے فوری طور پر اقدامات لئے ۔ اگرچہ کچھ عوامل معاشرے میں تناؤ کا سبب بنے ، لیکن خوش قسمتی سے پاکستانی علما نے اس سازش کو ناکام بنا دیا گیا۔پاکستان نے ہمیشہ اسلامی ممالک کے مابین اخوت، دوستی اور اعتدال کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے بھی اسی طرز عمل کے ساتھ کشیدگی کم کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کی۔ ایران اور سعودی عرب کے مابین ثالثی کا بنیادی مقصد دشمنوں کے مفادات کو روکنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان کے مابین کبھی بھی کوئی تنازعہ نہیں ہوا اور اگر کوئی غلط فہمی ہوئی بھی تو دونوں ممالک نے بھائیوں اور ایک کنبہ کے رکن کے طور پر فوری اور تعمیری حل تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن سے رہنمائی ، اتحاد اور وحدت کے فروغ پر عوامی بیداری کیلئے ملکر کام کرینگے ۔ ایران عراق کیلئے نئی زیارت پالیسی کا مسودہ پاکستانی حکومت کی کابینہ میں زیر غور ہے اور توقع ہے کہ اگلے ہفتے اس کی منظوری دی جائے گی۔ نئی پالیسی کا اصل مقصد پاکستانیوں کی ایران اور عراق کی زیارت کو آسان بنانا ہے، خاص طور پر زمینی راستے سے جانے والے زائرین کی خدمت کیلئے ایران کے مزید تعاون اور مدد کے منتظر ہیں۔

Comments

comments