‏اسلام آباد ہائیکورٹ نے نعیم بخاری کو چیئرمین پی ٹی وی کے عہدے پر کام کرنے سے روک دیا

  • IMG_20210111_230149.jpg

‏اسلام آباد ہائیکورٹ نے نعیم بخاری کو چیئرمین پی ٹی وی کے عہدے پر کام کرنے سے روک دیا
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) شہزادہ نعیم بخاری ایڈووکیٹ کو کام کرنے سے روک دیا۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔ عدالت نے قراردیاہے نعیم بخاری کی تعیناتی کی سمری بھجواتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کا متعلقہ پورشن پورا نہیں پڑھا۔ عدالت نے قراردیا کہ ہم نعیم بخاری کی تعیناتی کو کالعدم قرارنہیں دے رہے البتہ یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ کو واپس بھیج رہے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے عطاء الحق قاسمی کیس کے فیصلہ کی روشنی میں دوبارہ تعیناتی کا فیصلہ کرے اور جو دوبارہ سمری وفاقی کابینہ کو بھیجی جائے وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کی روشنی میں بھیجی جائے۔ عدالت نے قراردیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ 13نومبر 2020کو تیار کی گئی سمری کو نظر انداز کرکے نعیم بخاری کو چیئرمین پی ٹی وی بنایا گیا اور سپریم کورٹ آف پاکستان قانون واضح کر چکی ہے تاہم اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ کابینہ نے نہ عمر کی حد کا کوئی واضح فیصلہ کیا اور نہ سمری صحیح بھیجی گئی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے لئے قابل احترام ہیں ، ہم یہ معاملہ دوبارہ وفاقی کابینہ کو بھیج رہے ہیں۔ عدالت نے نعیم بخاری کو بطور چیئرمین پی ٹی وی کام سے روکتے ہوئے وفاقی کابینہ کو معاملہ پر دوباہ نظر ثانی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے قراردیا ہے کہ وفاقی کابینہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کو مدنظر رکھ کر معاملہ کو دیکھے۔ درخواست گزاروں جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواستوں میںمئوقف اختیار کیا گیا تھا کہ نعیم بخاری کی تعیناتی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے عطاء الحق قاسمی کیس کے فیصلہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ جبکہ نعیم بخاری کی عمر بھی زیادہ ہے اورچیئرمین پی ٹی وی کی تعیناتی کے لئے کوئی اشتہار بھی نہیں دیا گیا۔ درخواست گزاروں نے مئوقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے اس لیے نعیم بخاری کی تعیناتی کو کالعدم قراردیا جائے

Comments

comments