اے این پی کا بلین ٹری سونامی کے بعد بی آر ٹی، مالم جبہ سکینڈلز پر عدالت سے نوٹس کی استدعا

  • IMG-20201204-WA0085.jpg

اے این پی کا بلین ٹری سونامی کے بعد بی آر ٹی، مالم جبہ سکینڈلز پر عدالت سے نوٹس کی استدعا
عوامی نیشنل پارٹی سپریم کورٹ کا شکریہ اداکرتی ہے جنہوں نے بلین ٹری سونامی پر صوبے کی فریاد سنی ، سردار حسین بابک
معزز عدالت عظمی کو بی آر ٹی، مالم جبہ اور دیگر میگا سکینڈل پر بھی نوٹس لینا چاہیئے
تحریک انصاف کے لوگ کہتے ہیں پشتون حکمران ہیں، کیا یہی پشتون اپنے پشتونوں کو حق دے رہے ہیں؟
پشتون سپیکر ہمت کرے اور رولنگ دے دیں کہ وفاق کے ذمہ صوبہ کے واجب الادا رقم ادا کی جائے
ایس پی طاہر داوڑ کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا،شہید کیا گیا لیکن پشتونوں کو جواب ابھی تک نہیں دیا گیا
عوام کو بتایا جائے کہ پچھلے آٹھ سال میں صوبے میں کتنے سکول ،کالجز، یونیورسٹیاں اور ہسپتال قائم کئے گئے
اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کی مضبوطی اور خوشحالی کا ضامن ہے
عوام خود سوچ لیں جو اٹھارہویں ترمیم کے خلاف ہیں وہ دراصل پاکستان کی مضبوطی کے مخالف ہیں
اے این پی پر الزامات لگانے والے آج خود قائل ہوگئے کہ تمام پروپیگنڈے جھوٹے تھے
اے این پی کو روسی ایجنٹ کہنے والے آج کیا کہیں گے کہ پاکستان نے انہیں تجارت کی اجازت دی؟
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اے این پی میدان میں کھڑی رہی اور جانوں کے نذرانے پیش کئے
خیبرپختونخوا 6000میگاواٹ بجلی پیدا کررہی ہے لیکن صوبے کے عوام کو اپنی بجلی دستیاب نہیں
معدنی وسائل اور جعرافیائی لحاظ سے خیبر پختونخوا سونے کی چڑیا ہے
پشتون معاشرے میں اس سوچ کو پروان چھڑانا ہوگا کہ اجتماعی ترقی اور خوشحالی انفرادی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے
باچا خان مرکز پشاور میں شمولیتی تقریب سے خطاب
پشاور(پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی سپریم کورٹ کا شکریہ اداکرتی ہے جنہوں نے بلین ٹری سونامی پر صوبے کی فریاد سنی، تحریک انصاف کی کرپٹ حکومت کے شروع کردہ دیگر منصوبے بھی کرپشن کی داستانیں ہیں معزز عدالت عظمی کو بی آر ٹی، مالم جبہ اور دیگر میگا سکینڈل پر بھی نوٹس لینا چاہیئے اور اس موجودہ حکومت کی کرپشن کو عوام کے سامنے لانا چاہیئے۔ باچا خان مرکز پشاور میں سابق امیدوار پی کے 35 عبدالقدیر اور سابق تحصیل ممبر شاہنواز خان کی عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ آج لوگ کہتے ہیں پشتون حکمران ہیں، کیا یہی پشتون اپنے پشتونوں کو حق دے رہے ہیں؟ پشتون سپیکر ہمت کریں اور رولنگ دے دیں کہ وفاق کے ذمہ صوبہ کے واجب الادا رقم ادا کی جائے، گیس، تیل اور دیگر وسائل پر صوبائی حق تسلیم کیا جائے، تحریک انصاف کے لوگ کہتے ہیں کہ حکومت میں پشتون وزیر ہیں لیکن انہی وزیروں اور مشیروں کی موجودگی میں ایک پشتون ایس پی طاہر داوڑ کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا،شہید کیا گیا لیکن پشتونوں کو جواب ابھی تک نہیں دیا گیا۔ انہوں لے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم پاکستان کی مضبوطی کا ضامن ہے، جو چھوٹی قومیتوں اور صوبوں کو ان کے وسائل پر ان کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے، عوام خود سوچ لیں جو اٹھارہویں ترمیم کے خلاف ہیں وہ دراصل پاکستان کی مضبوطی کے مخالف ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی پر الزامات لگانے والے آج خود قائل ہوگئے کہ تمام پروپیگنڈے جھوٹے تھے،اے این پی کو روسی ایجنٹ کہنے والے آج کیا کہیں گے کہ پاکستان نے انہیں تجارت کی اجازت دی؟ اے این پی کے قائدین کی چالیس سال پہلے کہی گئی باتوں کو لوگ آج سمجھ رہے ہیں اور ان کی تائید کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت صوبہ دہشتگردی کی لپیٹ میں تھا تو باقی لوگ اپنی جانیں بچانے میں لگے ہوئے تھے، صرف اے این پی تھی جو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں میدان میں کھڑی رہی اور جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ معدنی وسائل اور جعرافیائی لحاظ سے خیبر پختونخوا سونے کی چڑیا ہے،خیبرپختونخوا 6000میگاواٹ بجلی پیدا کررہی ہے لیکن صوبے کے عوام کو اپنی بجلی دستیاب نہیں، خیبر پختونخوا پورے پاکستان کے لئے گیس پیدا کررہی ہے لیکن اپنے صوبے کے عوام اس سہولت سے محروم ہیں اور نہ ہی وفاق کی جانب سے صوبے کو رائلٹی مل رہی ہے،انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے دعویداروں عوام کو سڑکوں پر لا کر کھڑا کردیا ہے، پچھلے آٹھ سال سے صوبہ میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، عوام کو بتائے کہ پچھلے آٹھ سال میں انہوں نے صوبے میں کتنے سکول ،کالجز، یونیورسٹیاں اور ہسپتال قائم کئے؟ کتنے لوگوں کو روزگار فراہم کیا؟ کتنے لوگوں کو ہنر کے زیور سے آراستہ کیا، تحریک انصاف نے پچھلے آٹھ سال میں انصاف کا جنازہ نکال دیا ہے، صوبہ بھر میں بدامنی اور مالی و انتظامی بد حالی عروج پر ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں انہوں نے کہا کہ پشتون معاشرے میں آپسی بات چیت اور مذاکرات کو عام کرنا ہوگا اوراس سوچ کو پروان چھڑانا ہوگا کہ اجتماعی ترقی اور خوشحالی انفرادی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے

Comments

comments