میر ظفراللہ خان جمالی ، اک عہد تمام ہوا ۔

  • IMG-20201204-WA0000.jpg

میر ظفراللہ خان جمالی ، اک عہد تمام ہوا ۔

غلام مصطفیٰ ملک

سابق وزیراعظم پاکستان جناب میر ظفراللہ جمالی کی رحلت سے سیاست میں شرافت ، متانت اور وضع داری کا ایک باب تمام ہوا ۔
میری خوش قسمتی تھی مجھے ان کے زیرسایہ کام کرنے کا موقع ملا ،

جب وزیراعظم بنے تو مسلم لیگ ہاوس میں اپنے دفتر میں موجود اپنے ایک عظیم دوست سے کہا کہ مجھے کچھ نصیحت کرو ،انہوں نے سامنے نظر آتے مارگلہ پہاڑ کی طرف اشارہ کیا

” ظفراللہ ، آپ کو مارگلہ کی وہ چوٹی دکھائی دے رہی ہے نا ، اب تم وہاں پہنچ گئے ہو ، یہ یاد کر لو کہ آپ نے اب واپس اترنا ہے ، اب آپ پہ منحصر ہے کہ واپسی کا سفر کتنے سلیقے اور طریقے سے طے کرتے ہو ”

اپنے سیاسی کیریر میں شہرت ، اختیار اور بلندی کی انتہا پر پہنچ گئے ہو ، جتنی انکساری دکھاو گے اتنی دیر اقتدار میں رہو گے ”

میر ظفر اللہ کا دور اقتدار اگرچہ، اختیارات کی تقسیم کی کئی گرہوں میں بنٹا ہوا تھا ،وہ فیصلوں میں جنرل مشرف ، انکے معتمد خاص طارق عزیز ، پارٹی سربراہ جناب چویدری شجاعت حسین کے محتاج ہوتے تھے ، مگر پھر بھی چیف ایگزیکٹو کی طاقت میں کسی صورت ، کسی کی حاکمیت تسلم نہیں کرتے تھے ۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی امریکی حوالگی کے مشرف فیصلے خلاف ڈٹ گئے ، کرنسی نوٹ پر مشرف کی تصویر چھپنے نہیں دی ،مشرف کی روشن خیال پالیسیوں کے خلاف بوڑھا بلوچ پوری جرات سے ڈٹا رہا ، قادیانی لابی کو لگام ڈالے رکھی ،وہ لابی اس وقت انکے خلاف پوری شدت سے سرگرم ہو گئی جب

ایک دفعہ ایوان صدر سے انہیں ایک مقتدر شخصیت کے قریبی عزیز کے جنازے میں شرکت کے بارے میں آگاہ کیا گیا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ اس جنازے میں شریک نہیں ہوسکتے کیونکہ انہیں شک ہے کہ وہ قادیانی ہیں ، بعد ازاں وہ تعزیت کے لیے اس شخص کے گھر ضرور گئے مگر فاتحہ نہیں کی ،
اور پھر مشرف صاحب کے ایک معتمد خاص جن کے بارے متضاد دعوے ہیں کہ وہ قادیانی ہیں ، کی ہمایون اختر کو وزیراعظم بنانے کی خواہش میں سازشوں کا شکار ہو کر اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔

جب ایوان صدر میں انکی رخصتی اور انتقال اقتدار کے بارے میں فیصلہ ہوا تو بلوچ سردار ایک بار پھر ڈٹ گیا ، اور کسی صورت اقتدار یمایون اختر کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا ،قرعہ جناب شوکت عزیز کے نام نکلا اور طے ہوا کہ جمالی صاحب سیدھے مسلم لیگ ہاوس جائیں گے مستعفیٰ ہونے اور شوکت عزیز کے بطور جانشین کا اعلان کریں گے ۔

اس فیصلہ کا ایوان صدر کی ٹیم ، پارٹی صدر اور سیکرٹری جنرل کے بعد میں تیسرا شخص تھا جسے اس بابت علم تھا ، ہمارے لوگوں نے بوجھل دل کے ساتھ میڈیا اور پارلیمانی پارٹی کو بلایا ، کچھ قوتوں نے جناب ہمایون اختر کی بطور ممکنہ وزیراعظم خبر بریک کرا دی ۔

لمحوں میں مسلم لیگ ہاوس میں ، میڈیا ، کابینہ اراکین ، اراکین پارلیمنٹ کا رش لگ گیا ، ہمایون اختر شاہد واحد وزیر تھے جنکی گاڑی پورچ تک آنے دی گئی مسلم لیگ ہاوس کے پورچ میں اپنی شان بے نیازی سے اترے تو جمالی صاحب کی کابینہ اراکین اور انکی ممکنہ کابینہ میں حصہ دار بننے والے لالچی گدھ کی طرح انکی طرف لپکے ، میڈیا کی کیمروں کی فلش لائٹس کی چکا چوند میں وہ ایک فاتح کی طرح ہال میں داخل ہوئے تو ہر شخص انسے سلام لینے کی آرزو میں ایک دوسرے سے دھینگا مشتی کر رہا تھا ، میں اس ساری صورت حال میں انجوائے کر رہا تھا ، جناب شوکت عزیز بھی اسی اثنا ہال میں داخل ہوئے تو انہیں کسی نے سلام کرنا بھی گوارا نہیں کیا ۔

اگرچہ مجھے بھی شوکت عزیز صاحب کی نامزدگی کا علم نہیں تھا ، مگر انکا چہرہ کھلکھلا رہا تھا ، میرے پاس آئے جوش سے معانقہ کیا ، خلاف معمول جھپا ڈالا ، کان میں سرگوشی کی ، ڈاکٹر شیرافگن نیازی صاحب کو تو یار تلاش کر دو ۔

میں نے نیازی بابا کو تلاش کیا ، انہیں شوکت عزیز صاحب کا پیغام دیا ، جنہوں نے انکے پاس جانے سے صاف انکار کر دیا ،اپنی ڈھیٹ مادری زبان میں کہا ، میں ول اپنی سیٹ نہی چھوڑینداں ، اکو آکھ میرے نال کم تے میرے کول لگا آئے ، میں نے بابا جی کو مسکا لگایا کہ وہ اٹھنے کو تیار ہوئے مگر اس دوران چوہدری صاحب، جمالی صاحب کے ساتھ کانفرنس ہال میں داخل ہو گئے ۔

شوکت عزیز صاحب سنیٹر تھے وہ پارلیمانی قوانین کے حافظ اور وزیر سے کسی درمیانی راستے کی تلاش میں ہوں گے ، بعد میں یہ باتیں ہمیشہ بابا نیازی سے چھیڑ رہیں ۔

میں چوہدری صاحب اور جمالی صاحب کی کرسیوں کے عین پیچھے درمیان میں بیٹھا خود ساختہ مترجم کے فرائض سنبھال چکا تھا ، دونوں کے درمیان سرداور تلخ رویہ میں مختصر گفتگو ہوئی جس کے بعد جمالی صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا ۔

بلوچ سردار نے اقتدار کی رخصتی میں بہت وضع داری سے گفتگو کی ، اور ایک بار پھر آمر کی مرضی کے برعکس اپنے ضمیر کے مطابق کی پریس ٹاک شروع کر دی ،

” میں نے اقتدار کو اللہ پاک ، عوام اور مسلم لیگ کی امانت سمجھ کر قبول کیا تھا ، بطور وزیراعظم جو مجھے اچھا لگا وہی کیا ، میرا دامن صاف اور دل مطمئن ہے ، آج میں اپنے مطمئن ضمیر کے ساتھ مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتا ہوں اور یہ امانت چوہدری شجاعت حسین نے مجھے سونپی تھی ، میں اپنے جانشین کے طور انہیں ہی وزیراعظم نامزد کرتا ہوں ”

یہ فیصلہ کن اعلان کرنا انکے لیے بہت کٹھن مرحلہ تھا ، انکی آواز میں اپنے دوستوں کی بے اعتنائی کا دکھ تھا ، ایک کرب تھا ، انکی گلوگیر آواز ، انکے بیٹوں میر فرید اللہ جمالی ، کیپٹن شاہنواز جمالی اور انکے رفیق خاص سید یحی مرحوم کے آنسو روکنے میں ناکام ہو گئی ۔

بعد ازاں ایوان صدر کے دباو پرہمیں دوبارہ پریس کانفرنس بلانا اور وضاحت کرنا پڑی کہ اقتدار کی ہما دراصل ابھی چوہدری صاحب کے سر عارضی بیٹھی ہے ، اصل شاہ سوار شوکت عزیز صاحب ہیں ، بس یہ ایک الگ داستان ہے کہ کیسے یہ خبر سنتے ہی مبارکباد کے لیے جاتے سیانوں نے اپنی گاڑیوں کا رخ فوری طور پر ایف ایٹ سے موڑ کر منسٹر کالونی کی طرف کر لیا ۔

کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ، اور اسکی عملی تفسیر میں نے انکے اقتدار سے رخصتی کے بعد اپنی آنکھوں سے دیکھی ، جب وہ ٹرین کے ذریعے کوئٹہ رخصت ہو رہے تھے تو یحی منور مرحوم ، ذاتی چند دوستوں کے سوا انہیں الوداع کہنے کو کوئی موجود نہیں تھا ۔

انکے اقتدار کی رخصتی کے بعد میں نے انکی کابینہ کے بہت سارے لوگوں کا ان سے رویہ دیکھتا تو ضرور سوچتا کیسے کیسے کمینے لوگ حکمران بن جاتے ہیں ۔ میر ظفراللہ جمالی سے سید یحیٰ منور مرحوم نے آخری سانس تک وفاداری نبھائی ، جناب عظیم چوہدری ،جناب عامر الیاس رانا ، جناب طارق سمیر صرف چند اور ہمیشہ انہیں اپنے بزرگوں کی طرح احترام دیتے رہے اور وہ بھی سب کو بچوں کی طرح پیار کرتے رہے ۔

مجھے دوست پوچھتے ہیں کہ چوہدری صاحبان سے انکی دوری ، اقتدار سے محرومی کے اصل اسباب کیا تھے ، تو اکثر خاموشی ہی میرا جواب ہوتا ،میرے خیال میں چوہدری صاحبان سے دوری میں انکے وزیراطلاعات جناب شیخ رشید کا بڑا ہاتھ تھا ، جنہوں نے ایک مخلص ، سادہ اور درویش شخص کو متحدہ مسلم لیگ بنانے کے مسئلہ پر گمراہ کیا اور وہ تنہا ہو کر طارق عزیز کی سازشوں کا شکار بن گئے تھے ۔

چوہدری شجاعت حسین اور سیکرٹری جنرل سلیم سیف اللہ خان ملک سے باہر تھے تو انکی غیر موجودگی میں مسلم لیگ کی سی ای سی اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جو انکی کچن کیبنٹ کے چند منافقین لوگوں کے ایما پر بلایا گیا تھا ، قائد ایوان کا پارلیمانی پارٹی کے سربراہ سے دوری کا سبب بنا تھا ، چویدری صاحبان اور سلیم سیف اللہ صاحب اس اجلاس کو پارٹی پر قبضہ کی خواہش سمجھنے لگ گئے ، حالانکہ میر ظفراللہ جمالی صاحب نے ، وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد چوہدری صاحب کے پارٹی سربراہ بننے کی راہ ہموار کی تھی اور خود تنظیمی معاملات سے الگ ہو گر جناب سلیم سیف اللہ کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا ، جمالی صاحب کی خواہش تھی کہ وہ چوہدری وجاہت حسین کو کابینہ کا حصہ بنائیں تاکہ کیبنٹ میٹنگز میں ہونے والی بات چیت سے چوہدری صاحب براہ راست آگاہ ہوں ، مگر انکی اس مخلصانہ کاوش کو کچھ منافقوں نے ناکام بنا دیا ، بعد ازاں انہی نادانوں نے انکے خلوص اور سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور برا وقت آنے پر اپنا دھڑا تبدیل کر کے شیردل بلوچ کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا ۔

میر ظفر اللہ جمالی صاحب کو اللہ پاک نے بے پناہ خوبیوں سے نوازا تھا ، اور انکی سب سے بڑی خوبی راسخ العقیدہ مسلمان ہونا تھا ، انہیں جب بھی کوئی مسئلہ درپیش آتا تو اللہ کے گھر پہنچ جاتے ، انکی نجات کے لیے سابقہ اسمبلی سے مستفعفیٰ ہوتے وہ تقریر ہی کافی ہے ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ

” میں اس اسمبلی کا جصہ کیسے رہ سکتا ہوں جو ختم نبوتؐ کے قانون میں ترمیم کر رہی ہو ، کل میں حضورؐ کو کیا منہ دکھاوں گا ۔ ”

اللہ کریم اس درویش صفت انسان کی کامل بخشش فرمائے ،آخرت کی منازل آسان فرمائے اور انکے لواحقین کو صبر جمیل دے ۔آمین
انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

img-20201204-wa0000

Comments

comments