انصار عباسی اور فروغ نسیم بھی کورونا کے شکار ہوگئے

کورونا کی دوسری لہر اسلام آباد میں سخت اثرات چھوڑ رہی ہے تمام کیفے اور ریسٹورنٹ پر اندر بیٹھ کر کھانے پر پابندی لگادی گئی ہے جبکہ سینئر صحافی اور تجزیہ نگار انصار عباسی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے اس کی اطلاع سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا ” اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مرض اور دیگر امراض کا  علاج  ہے خاتمہ کیا ہے اور ہر بیماری کو اس کا علاج کروایا ہے۔  ہم اللہ کے بے شمار فضل و کرم کے  کا کبھی بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرسکتے ہیں۔  الحمدللہ  آپ کی دعاؤں کی  ضرورت ہے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق‏اسلام آباد میں انڈور ڈائننگ پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ صرف ٹیک اویز اور کھلے علاقے میں باہر کھانے کی اجازت ہے۔ تمام اسسٹنٹ کمشنرز / سب ڈویژنل مجسٹریٹ فیلڈ میں ہیں کہ کرونا انفیکشن کی روک تھام کے لئے وبائی امراض ایکٹ کے تحت جاری کردہ احکامات کو یقینی بنائیں۔

وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے۔ترجمان وزارت قانون کا کہنا ہے کہ وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آ گیا۔بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ کورونا وائرس کی ہلکی علامات محسوس کر رہا ہوں۔فروغ نسیم کا مزید کہنا ہے کہ وہ کراچی میں اپنے گھر سے کام جاری رکھیں گے۔ترجمان وزارت قانون کا کہنا ہے کہ وزیر قانون نے اپنی صحت کے لیے دعاوں کی درخواست کی ہے

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے متاثرہ6 مریض انتقال کرگئے جبکہ 1983 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 561 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 14078 نمونوں کی جانچ کی گئی جس کے نتیجے میں 1983نئے کیسز سامنے ا?ئیہیں جو کہ تشخیص کی شرح کا 14 فیصد ہے اوراب تک کی سب سے بلند ترین سطح ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں ابتک کورونا کے2008594ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں اور 177652 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدھ کو 561 مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس سے صحت یاب افراد کی تعداد 154203 ہوگئی ہے جو کہ بحالی کی شرح کا 87 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کو کوروناسے 6 مریض انتقال کرگئے جس سے انتقال کرنے والوں کی مجموعی تعداد 2968 ہوگئی ہے جوکہ اموات کی شرح کا 1.7 فیصد بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت 120481مریض زیر علاج ہیں جن میں سے19664 گھروں میں ،12 آئسولیشن سینٹرز میں اور 805 مریض مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔انہوں نے کہا کہ 712 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جن میں سے75 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے1983کورونا کیسز میں سے 1702 نئے کیسز کا تعلق کراچی سے ہے جن میں سے ضلع شرقی 626 ،ضلع جنوبی 552 ، ضلع وسطی 297 ،ضلع کورنگی 111، ملیر 63 اورضلع غربی میں سے 53 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اسی طرح حیدرآباد40، سجاول19، جامشورو اور قمبر18۔18،دادو16، نوشہروفیروز15،ٹنڈومحمد خان13،سانگھڑ اور شہید بینظیرآباد12ـ12،بدین 11 ،گھوٹکی10،سکھر اور ٹنڈوالہیار9۔9، مٹیاری5،جیکب آباد اور عمرکوٹ3ـ3،لاڑکانہ اورشکارپور میں سے2ـ2 نئے کیسزسامنے آئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کے عوام پر زوردیتے ہوئے کہا کہ وہ ایس او پیز پر عمل کریں۔

پشاورمیں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے باعث لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں داخل کورونا کے مریضوں کی تعداد79ہو گئی ۔ترجمان ایل آر ایچ محمد عاصم کے مطابق کورونا کے داخل مریضوں میں 27مثبت جبکہ باقی مشتبہ مریض شامل ہیں ۔آئی سی یو میں داخل تشویشناک مریضوں کی تعداد 14ہو گئی ہے ۔محمد عاصم کے مطابق کورونا کے مریضوں کے لئے 45وینٹی لیٹرز اور آئی سی بیڈز مختص کئے گئے ہیں ۔ایل آر ایچ کے ڈاکٹرز ،نرسز،پیرا میڈیکس اور سپورٹ سٹاف کا مورال بلند ہے اور بغیر کسی تعطل کے علاج جاری ہے ۔ترجمان ایل آر ایچ کے مطابق لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے طبی عملے کو بورڈ آف گورنرز اور انتظامیہ کا مکمل تعاون حاصل ہے ۔عوام احتیاط کریں تو تکلیف دہ بیماری سے بچا جا سکتا ہے ۔عوام احتیاط نہیں کر رہے ہیں ۔
خیبرپختونخوا میں عالمی وبا ء کورونا وائرس نے ایک اور ڈاکٹر کی جان لے لی۔خلیفہ گل نواز ہسپتال بنوں کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد فاروق کورونا کے سبب انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر محمد فاروق کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد نجی ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر تھے۔ پروونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق خیبرپختونخوا میں کورونا سے جاں بحق ہونے والے ڈاکٹرز کی تعداد 25 ہوگئی ہے جبکہ صوبے میں کورونا سے اب تک 40 ہیلتھ ورکرز کا انتقال ہو چکا ہے۔

آزاد کشمیر میں جنرل لاک ڈاون کے بعد مائیکرو لاک ڈاون بھی ختم کر دیا گیا ہے جس علاقے میں کرونا وائرس کے کیسز ہوں گے ان علاقوں میںنقل و حرکت پر پابندی لگائی جائے گی۔ یہ بات چیف سیکرٹری آزادجموں وکشمیر ڈاکٹر شہزادخان بنگش کی زیر صدارت اجلاس میں بتائی گئی۔ مظفر آباد میںکرونا وائرس کی دوسری لہر میں بڑھتے ہوئے کیسز ، آزادکشمیر میں موجودہ لاک ڈاون اور اس پر عملدرآمدکے حوالہ سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سیکرٹری صحت عامہ میجر جنرل احسن الطاف، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ظہیر الدین قریشی ،انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین خان ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ ، کمشنر مظفرآباد تہذیب النساء ، کمشنر میرپور چوہدری رقیب ، کمشنر پونچھ ڈویژن مسعود الرحمن اور تینوں ڈویژنز کے ڈی آئی جیز نے شرکت کی ۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ لاک ڈاون کے باوجو دبھی کرونا کے پازیٹو کیسز کی شرح میں کمی نظر نہیں آرہی اس حوالہ سے ہمیں ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے اور ایک مثبت لائحہ عمل طے کرنا ہے تاکہ اس وبا ء پر قابو پایا جا سکے ۔ کرونا وباء پر قابو پانے کے لیے ایگریسو کانٹیکٹ ٹریسنگ اور رینڈم سیپلنگ کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہماری ٹیسٹنگ ان لوگوں کی ہو رہی ہے جن میں کرونا وائرس کے سیمٹمز پائے جاتے ہیں ۔ انہوںنے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ کانٹیکٹ ٹریسنگ کے حوالہ سے آڈٹ کریں اور اس حوالے سے کمیونٹی کو بھی موبلائیز کرنے کی ضرورت ہے نیز ریپڈ ریسپانس ٹیم اس حوالہ سے ایک مکمل لائحہ عمل طے کر ے تاکہ سیمپلنگ کے حوالے سے ہونے والے مسائل کو حل کیا جا سکے ۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ جنرل لاک ڈاون کے بعد مائیکرو لاک ڈاون کو ختم کر دیا گیا ہے جبکہ جس علاقے میں ایکٹو کیسز میں ان علاقوں میںنقل و حرکت پر پابندی لگائی جائے اور اس حوالے سے اس علاقے کے لوگوں کو شامل کیا جائے تاکہ کرونا وائرس کے پازیٹو کیسز گھروںسے باہر نہ نکلیں ۔انہوںنے کہا کہ لاک ڈاون کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف سٹیک ہولڈرز کو ساتھ شامل کیا جائے گا اور ان کی مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے ڈویژنل کمشنرز کو ہدایات دیں کہ لاک ڈوان کے دوران اپنی ذمہ داری بھرپور طریقے سے نبھائیں اور ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروائیں ۔ انہوںنے کہا کہ لاک ڈاون کے بعد بھی سیاسی ، سماجی اور مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد رہے گی ۔ اس حوالہ سے لوگوں میں میڈیا کے ذریعے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کی سنجیدگی کو سمجھیں ۔ کرونا وباء کی دوسری لہر کی چین کو توڑنا ایک چیلنج ہے جسے ہم سب نے مل کر پورا کرنا ہے ۔ قبل ازیں سیکرٹری صحت عامہ نے لاک ڈاون اور اس سے پہلے کی صورتحال کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی اور انہوںنے کہا کہ اس حوالہ سے ہمیں کانٹیٹک ٹریسنگ کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ایکٹو کیسز کی شرح میں کمی لائی جا سکے ۔ کمشنر میرپور ڈیژن نے کہا کہ میر پور میںپہلے بیرون ممالک سے اس وباء کی ٹرانسمیشن زیادہ تھی لیکن اب لوکل ٹرانسمیشن زیادہ ہے جس کے لیے تدارک کے لیے ہم نے ڈی ایچ اور ڈی سی کا لیزان بہتر بنایا ہے ۔ میرپور میں 90 فیصد شہری آبادی ہونے اور زیادہ سردی کی وجہ سے بھی پازیٹو کیسز زیادہ ہو ئے ہیں ۔ کمشنر پونچھ ڈویژن نے کہا کہ لاک ڈاون سے پہلے پونچھ میںایکٹو کیسز کی شرح 7.15 تھی جولاک ڈاون کے بعد کم ہو کر 2.35 فیصد ہے ۔ سکولز، کالجز ، یونیورسٹیز ، میرج ہالز اور بازار بند ہو نے کی وجہ سے مثبت نتائج حاصل ہو ئے ہیں ۔ کمشنر مظفرآباد ڈویژن نے کہا کہ لاک ڈاون کے دوران خلاف ورزی پرڈھائی لاکھ جرمانہ ، موٹرسائیکل اورگاڑیاں ضبط کی گئیں۔ مظفرآباد میں لوکل ٹرانسپورٹ مکمل بند ہے جبکہ بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ چل رہی ہے ۔ مظفرآباد گنجان آباد شہر ہے لیکن لاک ڈاون کے بعد ایکٹوکیسز کی شرح میں واضح کمی آئی ہے ۔

پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین عوام کو مفت فراہم کی جائے گی، وینٹی لیٹرز سے زیادہ ضرورت آکسیجن بیڈ کی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا ویکسین کے لیے حکومت فنڈ اکٹھے کر رہی ہے، 2021 کی دوسری سہ ماہی میں کورونا وائرس کی ویکسین لگانا شروع کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے شروع میں ایک لیبارٹری تھی، اب 150 سے زائد لیبارٹریز ہیں۔انہوں نے کہاکہ بیڈز اور وینٹی لیٹرز کی تعداد بڑھائی گئی تھی، وینٹی لیٹرز سے زیادہ ضرورت آکسیجن بیڈ کی ہے، ملک بھر میں 2 ہزار 500 آکسیجن بیڈز کا اضافہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا کی 2 کمپنیاں فائزر اور میڈرنا کمپنیوں سے امید ہے کہ وہ دسمبر میں اپنی ریگولیٹری اتھارٹی سے منظوری لے لیں گی جبکہ اس کے علاوہ 4 سے 5 کمپنیاں بھی حتمی مراحل میں ہے اور ہماری ان سے بات چیت جاری ہے۔انہوںنے کہا کہ کچھ ویکسین کو ایک انتہائی منفی درجہ حرارت پر رکھنا پڑتا ہے اور ان کی نقل و حمل اور صارف تک پہنچانے کے دوران اس کو ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت کو پورا کرنا پڑے گاکیونکہ اس کے بغیر یہ ویکسین موثر نہیں ہوگی،اس وقت پوری دنیا میں ایک دوڑ لگی ہوئی ہے اور طاقت ور ممالک نے ویکسین کے حصول کے لیے ایڈوانس بکنگ کرائی ہوئی ہے، لہذا یہ سب صورتحال دیکھی جارہی ہے کہ کون سی ویکسین جلدی اور آسانی سے پاکستان پہنچ سکے گی

ملک بھر میں کوروناوائرس کے مزید75 مریض انتقال کر گئے جس کے بعد ملک میں کوروناوائرس سے اب تک انتقال کرنے والے مریضوں کی کل تعداد 8166تک پہنچ گئی ، جبکہ2829 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)کی جانب سے بدھ کے روز کوروناوائرس کے حوالہ سے جاری تازہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کوروناوائرس کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد چار لاکھ تین ہزار313تک پہنچ گئی ہے۔ اب تک ملک میں کوروناوائرس کے 3لاکھ 45 ہزار365 مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں۔ اس وقت ملک میں کوروناوائرس کے2244 مریضو ں کی حالت تشویشناک ہے۔ ملک میںکوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد بڑھنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور یہ تعداد49780تک پہنچ گئی ۔ اس وقت ملک میں کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضو کی شرح دو فیصد جبکہ مکمل طور پر صحتیاب ہونے والے مریضوں کی شرح85.6فیصد تک پہنچ گئی۔ گذشتہ24گھنٹوں کے دوران ملک میں کروناوائرس کے2079مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو کر گھروں کو چلے گئے۔ این سی او سی کے مطابق اس وقت صوبہ سندھ ملک بھر میں کوروناوائرس کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز، صحتیاب ہونے والے مریضوں اور فعال کیسز کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے جبکہ صوبہ پنجاب دوسرے نمبر پر ہے۔ کوروناوائرس سے انتقال کرنے والے مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے صوبہ پنجاب ملک بھر میں پہلے جبکہ صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کوروناوائرس کے فعال کیسز کے اعتبار سے ملک بھر میں تیسرے نمبرپرہے،اس وقت اسلام آباد میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد 5878تک پہنچ چکی ہے۔ صوبہ سندھ میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد19038،صوبہ پنجاب18465،صوبہ خیبر پختونخوا4196،صوبہ بلوچستان580،آزاد جموں وکشمیر 1446جبکہ گلگت بلتستان میں کوروناوائرس کے فعال کیسز کی تعداد177ہے جو ملک بھر میں سب سے کم ہے۔ این سی او سی کے مطابق اب تک صوبہ پنجاب میں کوروناوائرس سے 3ہزار66افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں 2ہزار962، خیبر پختونخوا ایک ہزار 375، اسلام آباد 324، گلگت بلتستان 97، بلوچستان 169اور آزاد کشمیر میں 173افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسلام آباد میں کوروناوائرس کے رپورٹ ہونے والے کیسزکی تعداد30ہزار748تک پہنچ چکی ہے، خیبرپختونخوا47 ہزار701، سندھ میں ایک لاکھ 75ہزار 642، پنجاب ایک لاکھ 20ہزار356، بلوچستان 17ہزار215، آزاد کشمیر 6ہزار982اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 667 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔ملک بھر میں اب تک 55لاکھ 84ہزار 976افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران 35ہزار 197نئے ٹیسٹ کئے گئے۔ این سی او سی کے مطابق کورونا سے جاں بحق 76فیصد افراد کی عمریں 50سال سے زائد ہیں۔کورونا سے جاں بحق 72فیصد کورونا مریض دیگر بیماریوں میں بھی مبتلا تھے۔ کورونا سے جاں بحق افراد میں سے 91فیصد کا انتقال ہسپتالوں میں ہوا۔ ہسپتالوں میں کورونا کے زیر علاج 58فیصد مریضوں وینٹی لیٹرز پر ہیں۔میرپور میں سب سے زیادہ 27.75فیصد مثبت کیسز سامنے آئے۔ مظفر آباد23.44، حیدر آباد 18.21،آزادکشمیر 21.3، پنجاب4.84، سندھ14.04، بلوچستان11.95، اسلام آباد6.62، خیبرپختونخوا5.57، گلگت بلتستان3.43،لاہور6.19، راولپنڈی4.83، فیصل آباد3.14، کراچی 17.95، پشاور18.09،سوات 5.81، ایبٹ آباد6.22، کوئٹہ میں مثبت کیسز کی شرح 9.09 فیصد ہے۔پاکستان میں70 فیصد نئے کیسز5 بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور راولپنڈی سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ZS

Comments

comments