نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی ضرورت نہیں تھی۔پہلی بارسزایافتہ قیدی کوبیرون ملک بھیج دیاگیا۔ عدالت نے وزیراعظم سے نوازشریف کی جان کی گارنٹی مانگی تھی،اسد عمر

  • IMG-20191203-WA0332.jpg

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہاہے کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بارسزایافتہ قیدی کوبیرون ملک بھیج دیاگیا۔ عدالت نے وزیراعظم سے نوازشریف کی جان کی گارنٹی مانگی تھی، ہم نے ان سے7ارب کی ضمانت مانگی تھی۔ سابق وزیراعظم کوباہربھجوانیکافیصلہ کیسے ہوا سب کو پتا ہے۔ لیگی قائد کو لانے کیلئے قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں۔اسد عمر کا کورونا وائرس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آزادکشمیرحکومت نے مکمل لاک ڈاون کردیاہے۔ گوجرانوالہ،کراچی،پشاور،کوئٹہ جلسوں کے بعد کورونا کیسز بڑھے۔ وسط نومبرمیں جلسے اور اجتماعات پر پابندی لگانے کا کہا گیا۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی قائدین کہیں کوروناسے خطرہ نہیں تو زیادہ خطرناک بات ہے۔ سیاسی قائدین کاکوروناکے حوالے سے رویہ غیرمناسب ہے۔ سیاسی سوچ کے مطابق ان کوجلسوں سے نہیں روکنا چاہیے۔ این سی سی فیصلوں کے مطابق 300 افراد سے زائد اجتماعات کی اجازت نہیں۔ عدالت نے بھی این سی سی فیصلوں پرعملدرآمدکاحکم دیاہے۔ کورونا خلاف ورزی پرزیادہ سختی نہیں کرسکتے۔اسد عمر نے کہا کہ کوروناکی دوسری لہرمیں لوگ تعاون نہیں کررہے۔ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ انہیں کوروناسے خطرہ نہیں ہوگا۔ پہلی لہر کے دوران سیاسی، سماجی اور دینی رہنما ایک پیج پرتھے۔ دوسری لہرکے دوران ایسا نہیں ہے۔ پہلی لہرکے دوران موقف تھالاک ڈاون نہیں کریں گے۔ آج بھی ہماراموقف وہی ہے لاک ڈاون نہیں کریں گے۔ اپوزیشن سخت لاک ڈاون کامطالبہ کرتی تھی اب عمل نہیں کررہی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ویکسین کے حوالے سے کل اجازت دی ہے۔ پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرزکوویکسین دی جائیگی۔ آئندہ سال جنوری سے مارچ کے دوران ویکسین آجائیگی۔ وبا کی وجہ سے پولیومہم متاثرہوئی۔پاکستان سٹیل مل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سابق وزیراعظم شوکت عزیزجیسابیان دیاتھا۔ پاکستان سٹیل پرویزمشرف دورمیں منافع میں تھی۔ سٹیل ملز زرداری دورمیں خسار ے میں گئی۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں میں اڑھائی سال بعدپاکستان اسٹیل بندہوگئی

Comments

comments