عمران خان خود تحقیقات کرائیں کہ ان کی ٹیم کے کن لوگوں نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے؟‘ ڈاکٹر شاہد مسعود کا تہلکہ خیز دعویٰ

No video URL found.

*عمران خان خود تحقیقات کرائیں کہ ان کی ٹیم کے کن لوگوں نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے؟‘ ڈاکٹر شاہد مسعود کا تہلکہ خیز دعویٰ*


*سینیئر تجزیہ نگار عمران خان کے قریبی دوست پی ٹی آئی کے ہر دل عزیز نیوز اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی کابینہ کے بعض ارکان نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کا دورہ کیا ہے۔*

*نجی ٹی وی جی این این کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ عمران خان کی 52 رکنی ٹیم ہے، وزیر اعظم کہتے ہیں کہ انہیں حساس ادارے تمام معلومات فراہم کرتے ہیں اس لیے انہیں خود تحقیقات کرانی چاہئیں۔*
*ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ عمران خان خود تحقیقات کرائیں اور پتہ کریں کہ کون سے منتخب اور غیر منتخب لوگوں نے حالیہ دنوں میں تل ابیب کا دورہ کیا ہے۔*

*چند دن پہلے عمران خان صاحب کہتے ہیں*
*عرب ممالک کا اسرائیل کو تسلیم کرنا کیا امت کے فائدے میں تھا*
*پاکستان اپنے مفاد کے لیے اسرائیل کو تسلیم کر سکتا ہے*

*‏حافظ سعید جیل میں اور خادم رضوی لحد میں۔*
*اسرائیل کو ماننے اور قادیانیوں کو ہر قسم کی آزادی دینے میں کوئی بھی دیوار آئے گی*
*ہر دیوار گرا دی جائے گی*
*بلی مکمل طور پر تھیلے سے باہر آ چکی ہے*

*چند دن پہلے پی ٹی آئی سپوٹر کہہ رہے تھے دیکھا عمران خان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا*
*ان بیچاریوں کو کیا پتا کہ عمران خان کو کس مقصد کے لیے لیے سلیکٹ کرکے پاکستان کا وزیراعظم بنایا گیا ہے*

*آسیہ ملعونہ کی باعزت بری ہو*
*درسی کتابوں میں جان بوجھ کر قرآن پاک کی آیات کا غلط ترجمہ لکھنا ہو*
*یکساں تعلیم کے نام پر جہاد اور اسلام کی تعلیم سے دور کرنا ہو*
*عمران خان کا صحابہ پر خود لوٹ مار کا الزام لگانا ہو*
*اسرائیل کو تسلیم کرنا ہو*
*انہیں تمام مقاصد کے لئے عمران خان کو لایا گیا ہے*

*عمران خان ہمیشہ ایسا کرتے ہیں پہلے ایسی بات کریں گے لوگ کہیں دیکھا عمران خان ایسا نہیں کرے گا لیکن عمران خان نے جانا اسی طرف ہوتا ہے جس طرح کہا تھا قرضہ نہیں لوں گا پھر دنیا کا کوئی ملک نہیں چھوڑا*

*عمران خان کے قریبی دوست اور سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان اسرائیلی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کھل کر اسرائیل کی حمایت میں سامنے آ گے*
*مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں جب مشرف دور میں وزیر تھا تو اس وقت بھی اسرائیل کی حمایت کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہوں پرویز مشرف بھی اسرائیل سے تعلقات کے خواہاں تھے*

*‏اندازہ کریں اگر مبشر لقمان کی جگہ نجم سیٹھی، طلعت حسین حامد میر سلیم صافی وغیرہ اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویو دیکر اسرائیل کی تعریفیں کرتے تو یوتھیوں نے اپنے کپڑے پھاڑ کر سڑکوں پر لیٹ جانا تھا ڈی چوک میں بیمہ اہل و عیال دھرنا شروع ہو جانا تھا لفافی صحافی اسرائیل کے کتے اور غداری کے فتوے لگا دینے تھے لیکن کیونکہ کہ مبشر لقمان عمران خان کا دوست اور دھرنوں میں شرکت کرنے والا تبدیلی کے نعرے لگانے والا ہے اس لیے لئے وہ محب وطن ہے*

*جنرل ر شعیب مختلف پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی اور مبشر لقمان کی اسرائیل حمایت پر غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے والے خاموش ہیں*

*تمام پاکستانی اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے مخالف ہیں*
*کیونکہ جس طرح بھارت کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا اسرائیل نے فلسطین پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کی ہے۔ اسرائیل نے 2017میں تل ابیب کے بجائے یروشلم (بیت المقدس) کو اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔*
*امریکہ نے تو یروشلم میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کا اعلان کر دیا،*
*کیا پاکستان یروشلم میں اپنا سفارتخانہ قائم کر سکتا ہے؟*
*پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد کشمیر پر پاکستان کا موقف مضبوط ہو گا یا کمزور؟ 23مارچ کو ہم یوم پاکستان مناتے ہیں۔ 23مارچ 1940کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ نے فلسطینی مسلمانوں کے حق میں بھی ایک قرار داد منظور کی تھی*۔
*1945میں قائد اعظمؒ نے بمبئی کے ایک جلسے میں امریکی صدر ٹرومین کے خلاف شیم شیم کے نعرے لگوائے اور کہا کہ وہ دس لاکھ یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کے بجائے امریکہ میں آباد کیوں نہیں کر لیتا؟*
*1947میں اسرائیل کے وزیراعظم ڈیوڈ بن گورین نے قائداعظمؒ کو ٹیلی گرام بھیجا کہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں لیکن پاکستان نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کی مخالفت کی۔*
*جن مسلم ممالک نے رائے عامہ کو نظر انداز کر کے اسرائیل کو تسلیم کیا وہاں انتہاء پسندی نے جنم لیا۔*
*اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو صرف بھارت کے ساتھ اس کے اتحاد کی نظر سے نہیں بلکہ مسئلہ فلسطین پر قائداعظمؒ کے موقف کی روشنی میں دیکھا جانا چاہئے۔ فلسطین اور کشمیر کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔*
*اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر فیصلہ عمران خان نے نہیں پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔ اس معاملے پر بند کمروں میں نہیں پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس میں بحث ہونی چاہئے۔ ہمیں دھوکے میں نہیں رہنا چاہئے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد بھی پاکستان کے خلاف سازشیں ختم نہیں ہوں گی۔ اصل نشانہ پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام ہے۔ اسرائیل صرف نیو کلیئر فری پاکستان کا دوست بن سکتا ہے۔*
 
*غیر قانونی غاصب صیہونی ریاست کو تسلیم کرنافلسطینی عوام کوتنہا کرنیکےمترادف اور انکی عظیم جدوجہد ِآزادی کی نفی ھے*
*یہ قدم اسلامی ممالک میں دُوری پیداکریگا*

*جب پاکستان کی جوہری صلاحیتوں کا راز افشاں ہوا تو اسرائیل کو ہمیشہ ان جوہری صلاحیتوں سے خدشہ رہا۔* *پاکستان میں بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے ان کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا*
*لیکن حکومت اسرائیل کی کچھ کلیدی شخصیتوں نے اس کی مخالفت کی جس کی بنا پر یہ حملہ نہیں ہو سکا۔*
 
*پرویز مشرف دور میں پاکستان اور اسرائیل  استنبول میں قائم سفارت خانوں کے ذریعے باہمی مذاکرات میں حصہ لیتے ہیں یا ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔* 
*ویکی لیکس کے مطابق 2006 میں پاکستان نے  استنبول میں قائم اپنے سفارت خانے کے ذریعے اسرائیل کو ایک دہشت گرد گروہ کے بارے میں معلومات فراہم کی تھی۔* 
*تاہم سنہ 2018ء تک ان دونوں ریاستوں میں سرکاری طور پر سفارتی تعلقات قائم نہیں ہوئے اور اب تک دونوں ممالک ایک دوسرے کے دشمن تصور کیے جاتے ہیں۔*
*2018 میں تبدیلی آنے اور نیا پاکستان بننے کے بعد کافی جگہ پر بحث مباحثے ہوتے رہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کیا حرج ہے یہ بات پاکستان کی پارلیمنٹ میں بھی ہوئی ہے اور نیشنل میڈیا پر بھی جن میں ریٹائرڈ جنرل شعیب نے ٹی وی پر اور حکومتی رکن اسمبلی عاصمہ حدید نے قومی اسمبلی میں یہ بات کی*

*انکشاف ہوا ہے کہ ایک خاص مہم سوشل میڈیا اور نیشنل میڈیا پر اسرائیل کے حق میں میں چلانے کا فارمولا تیار ہو چکا ہے*
*اور وہ سوشل میڈیا اس کو بھرپور کوریج دے گا جو پہلے مساجد کو شہید کرنے۔*
*آسیہ معلونہ کی رہائی ۔*
*اسلام آباد میں مندر ۔*
*کرتار پور راہداری اور گردوارہ 400 مندروں کی تعمیر کے لئے دلیلیں پیش کرتا رہا ہے*
*اب وہی لوگ اسرائیل سے تعلقات کے فوائد اور نقصانات بتائیں گے*

*ہم غریب ضرور ہیں مگر بکاؤ نہیں۔۔۔ ہم اپنے نظریئے کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔۔ ہمیں اپنا پاسپورٹ دیکھ کر آج فخر محسوس ہو رہاہے*
*اور امید یہی ہے کہ پاکستان کے پڑھے لکھے باشعور نوجوان سوشل میڈیا پر اس مہم کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے*

*ان شاءاللہ قائد اعظم کے فرمودات پر عمل کرتے ہوئے ہم ہمیشہ اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست کہتے اور مانتے رہیں گے*

Comments

comments