بلوچستان میں سرکاری افسران کو چھوٹی چڑیا کے وٹس ایپ گروپ چھوڑنے کا حکن

  • IMG-20201202-WA0028.jpg

کیا بلوچستان میں لکھنے کا عمل صرف چھوٹی چڑیا پر ہورہا ہے، یا یہاں اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نمائندے بھی وجود رکھتے ہیں؟
یا تو مسائل اس قدر گھمبیر نہیں جس قدر چھوٹی چڑیا پر بیان کئے جارہے ہیں یا دیگر صحافیوں کے قلم میں سیاہی ختم ہوگئی ہے، یا انہوں نے لکھنا ہی چھوڑ دیا ہے؟

وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے چھوٹی چڑیا وٹس ایپ گروپ میں شامل سرکاری آفیسران کے ناموں کی تفصیلات لے کر تمام سرکاری ملازمین کو الگ الگ خطوط جاری کرکے چھوٹی چڑیا گروپ چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔

*مثال اس کہاوت کے مانند ہے، کہ کبوتر اپنے سامنے موجود بلی کو دیکھ کر اپنی انکھیں بند کرکے دل میں سوچتا ہے کہ بلی اسکو نہیں دیکھ رہی۔۔*

ان کو لازم کوئی رغبت یا عداوت ہوگی
*ہم تو بے وجہ حواسوں پہ نہیں چھاتے ہیں*

Comments

comments