قرآن کریم کی بے حرمتی اور رسول کریم کی شان اقدس کے منافی خاکوں کی دوبارہ اشاعت نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ ان شرمناک حرکات کو آزادی اظہار کے نام پر جواز نہیں دینا چاہئے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں اسلامو فوبیا کے حوالے سے اظہار خیال

اسلامو فوبیا اور مسلمانوں سے نفرت کی لہر مغرب اور دیگر جگہوں پر تیزی سے سر اٹھارہی ہے۔

قرآن کریم کی بے حرمتی اور رسول کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی شان اقدس کے منافی خاکوں کی دوبارہ اشاعت نے دنیا بھر کے ایک ارب اسی کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔

ان شرمناک حرکات کو آزادی اظہار کے نام پر جواز نہیں دینا چاہئے۔

بہت سارے ممالک میں انتہائی دائیں بازو کے انتہاءپسندوں کے سیاسی دھارے میں شامل ہونے اور ان کے برسرِ اقتدار آنے سے مسلمانوں کیلئے
دشمنی اور عداوت کا ماحول بن چکا ہے ۔ اس نئے عفریت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ پاکستان نے اسلاموفوبیا کے مقابلے میں ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور ہم اپنا یہ کردار اسی طرح ادا کرتے رہیں گے۔

یہ انہی کوششوں کا حصہ ہے کہ ہم اس فورم سے گزارش کررہے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف دانستہ اشتعال انگیزی اور نفرت پر اکسانے کو غیرقانونی قرار دینے کی عالمی مہم شروع کرنے کی ذمہ داری اس سیکریٹریٹ کو تفویض کی جائے۔ میں یہ بھی تجویز کرتا ہوں کہ 15 مارچ کو ’اسلاموفوبیا کے مقابلے کا عالمی دن‘ قرار دیاجائے۔ اس ضمن میں قرار داد پہلے ہی پیش کی جاچکی ہے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں بھارت کی ہندتوا سوچ اور بڑھتی ریاستی دہشت گردی کے حوالے سے اظہار خیال

بھارت میں “ہندتوا” کی بڑھتی ہوئی لہر نہ صرف بھارت کے مسلمانوں کے لئے خطرہ بن کر ابھری ہے بلکہ اس نے علاقائی سلامتی کو بھی خطرات سے دوچار کردیا ہے۔

’آر۔ایس۔ایس‘،’بی۔جے۔پی‘ حکومت کھلم کھلا ہندتوا کا پرچار کررہی ہے جوشدت پسند نسل پرستی کا نظریہ ہے جس میں مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت کا زہر بھرا ہوا ہے۔

مودی حکومت منظم انداز میں بھارت کے اندر مسلانوں پر حملے کررہی ہے۔ ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کا سرعام قتل تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ فروری 2020 میں نئی دہلی میں پچاس سے زائد مسلمانوں کو ہدف بناکر قتل کرنے اور منصوبہ بندی کے تحت تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات ہم دیکھ چکے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف امتیازی اقدامات جاری ہیں جن میں شہریت چھیننے اور امتیازی شہریت کے قوانین جیسی خوفناک مثالیں شامل ہیں۔

حتی کہ کورونا وبا کے پھیلاو کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد کر کے ان کو بدنام کیاگیا۔

5 اگست 2020 کو ’او۔آئی۔سی‘ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے 1992ءمیں انتہاءپسند ہندووں کے ہاتھوں شہید ہونے والی تاریخی بابری مسجد کی جگہ پر ہندتوا مندرکا سنگ بنیاد رکھا۔ ایک ہفتہ بعد مسجد شہید کرنے میں ملوث مجرموں کو خصوصی عدالت نے بری کردیا۔ ان میں ’بی۔جے۔پی‘ کے بہت سارے سینئر سیاستدان بھی شامل تھے۔

عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے یہ حقائق بیان کئے ہیں۔ ہمیں ان جرائم کی گرفت کرنا ہوگی تاکہ بھارت میں مسلمانوں کا مزید لہو بہتا ہوا نہ دیکھیں

نائجر میں جاری او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے سنتالیسویں اجلاس میں نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے خطاب کی گونج

وزیر خارجہ نے مسلم امہ کی توجہ، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے متمنی، مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ مسلمانوں کی جانب مبذول کروائی
جناب چئیرمین!

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں تکالیف اور مخدوش صورتحال انتہائی دگرگوں ہے۔ 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کے تناظر میں غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بدترین انسانی حالات اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سانحہ رونما ہوچکا ہے۔

پندرہ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اسی لاکھ سے زائد کشمیری لاک ڈاون، فوجی محاصرے، کمیونیکیشن قدغنوں، غیرقانونی گرفتاریوں اور ناقابل بیان پابندیوں کا سامنا کررہے ہیں۔ پورے مقبوضہ خطے کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کردیاگیا ہے۔

کالے قوانین کے ذریعے بھارتی قابض افواج کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ کشمیریوں کی آواز دبانے اور ان کے عزم کو متزلزل کرنے کے لئے، انہیں ناقابل بیان جبرواستبداد اور مظالم کا نشانہ بنائیں۔ جعلی ”مقابلوں“ میں ماورائے عدالت شہادتیں ہورہی ہیں، ”چھاپوں اور تلاشی“کے آپریشنز جاری ہیں، آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے لئے گھر گرائے اور املاک کو نقصان پہنچایاجارہا ہے، مقامی میڈیا کی منظم انداز میں آواز دبائی جارہی ہے جبکہ نہتے اور پرامن مظاہرین پر پیلٹ گنز کا بلاامتیاز استعمال روز کا معمول بن چکا ہے۔

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں بھارتی ناپاک عزائم کا حصہ ہیں۔ ”جموں وکشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ (پروسیجر) رولز 2020“ جیسے نام نہاد قانون کے تحت گذشتہ چھ ماہ میں بیس لاکھ ’ڈومیسائل‘ سرٹیفیکیٹس جاری کئے گئے ہیں۔ اسی طرح غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے عوام کے اراضی اورحق ملکیت کے تحفظ سے متعلق قوانین ختم کردئیے گئے ہیں۔

یہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، عالمی قانون خاص طورپر چوتھے جینیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، میڈیا، ارکان پارلیمان اور سول سوسائیٹی تنظیموں نے دنیا بھر میں بھارت کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور دنیا کے دیگر رہنماوں نے بیانات جاری کئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سطح پر اس حوالے سے مشاورتی اجلاس ہو چکے ہیں جن میں جموں وکشمیر کی متنازعہ نوعیت کو عالمی سطح پر ایک بار پھر تسلیم کیاگیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار حل کی ضرورت کو بھی محسوس کیاگیا۔

’آر۔ایس۔ایس‘،’بی۔جے۔پی‘ کی بھارت میں حکومت ان عالمی اپیلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیرمیں مقامی مزاحمت کی تحریک کو بدنام کرنے اور اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے بھارت پاکستان پر ’سرحد پار دہشت گردی‘ کے جھوٹے الزامات عائد کرتا ہے اور بھارت کوئی ’فالس فلیگ‘ آپریشن اور کوئی مہم جوئی کرسکتا ہے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا او آئی سی وزراء خارجہ کے سینتالیسویں اجلاس سے خطاب

(مورخہ 27-28 نومبر2020، نیامے، نائیجر)

عزت مآب وزیر خارجہ کالا آنکوراو
ری پبلک آف نائیجر

عزت مآب ڈاکٹر یوسف بن احمد العثمین
سیکریٹری جنرل او۔آئی۔سی

عزیز دوستو اور معزیز خواتین وحضرات

میں وزیر خارجہ آنکوراو کو سینتالیسویں وزرائے خارجہ اجلاس کی صدارت سنبھالنے پر مبارک دیتا ہوں۔ بہترین میزبانی اور انتظامات پر میں دل کی گہرائیوں سے نائیجر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں پاکستان کے عوام کی جانب سے آپ کے لئے نیک تمناوں اور خیرسگالی کے جذبات پیش کرتا ہوں۔

میں او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اس اہم اجلاس کے انعقاد میں سہولت فراہم کی۔

میں فورم کی چئیر کی مدت پوری کرنے والے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان کو بھی ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر سراہتا ہوں۔

جناب چئیرمین !

آج جب ہم ایک ایسے موقع پر یہاں جمع ہیں جب امت کو انتہائی بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔

ایسی ہی ایک مشکل پوری انسانیت کو کورونا عالمی وبا کی صورت میں درپیش ہے۔ اس کے موثر مقابلے کے لئے ہمیں مل کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کے علاوہ حکومتوں، سائنسدانوں اور تحقیق کرنے والے اداروں کو ساتھ مل کراور وسائل جمع کرکے اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

اللہ تعالی کے فضل سے پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہونے کے باوجود اس وباءکے بدترین اثرات کی روک تھام میں کامیاب رہا ہے۔ ہم اللہ تعالی کے شکرگزار ہیں کہ دنیا اس وبا سے نمٹنے میں ایک کامیاب مثال کے طورپر ہمارا حوالہ دے رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود خطرہ ابھی ٹلا نہیں اور اس وبا کی دوسری شدید لہر ہم سب پر حملہ آور ہو چکی ہے۔

پاکستان اسلامی دنیا کے ساتھ اپنے تجربہ کو بانٹنے کے لئے تیار ہے۔ کورونا وباءکی وجہ سے پیدا ہونے والے مالیاتی دباو کے نتیجے میں جن مشکل حالات کا ترقی پزیر ممالک کو سامنا ہے، ان سے نمٹنے اور اور انہیں دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں بھی پاکستان نے ہراول دستے کا کردار اد اکیا ہے۔ اسی تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے ترقی پذیر ممالک کے زمے واجب الادا ’قرض میں ریلیف کے عالمی اقدام‘ کا مطالبہ کیا۔

جناب چئیرمین!

کورونا عالمی وبا ان مشکلات میں سے محض ایک وجہ ہے جن سے امت آج برسرِ پیکار ہے۔

اسلامو فوبیا اور مسلمانوں سے نفرت کی لہر مغرب اور دیگر جگہوں پر تیزی سے سر اٹھارہی ہے۔

قرآن کریم کی بے حرمتی اور رسول کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی شان اقدس کے منافی خاکوں کی دوبارہ اشاعت نے دنیا بھر کے ایک ارب اسی کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔

ان شرمناک حرکات کو آزادی اظہار کے نام پر جواز نہیں دینا چاہئے۔

بہت سارے ممالک میں انتہائی دائیں بازو کے انتہاءپسندوں کے سیاسی دھارے میں شامل ہونے اور ان کے برسرِ اقتدار آنے سے مسلمانوں کیلئے دشمنی اور عداوت کا ماحول بن چکا ہے ۔ اس نئے عفریت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ پاکستان نے اسلاموفوبیا کے مقابلے میں ہمیشہ قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور ہم اپنا یہ کردار اسی طرح ادا کرتے رہیں گے۔

یہ انہی کوششوں کا حصہ ہے کہ ہم اس فورم سے گزارش کررہے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف دانستہ اشتعال انگیزی اور نفرت پر اکسانے کو غیرقانونی قرار دینے کی عالمی مہم شروع کرنے کی ذمہ داری اس سیکریٹریٹ کو تفویض کی جائے۔ میں یہ بھی تجویز کرتا ہوں کہ 15 مارچ کو ’اسلاموفوبیا کے مقابلے کا عالمی دن‘ قرار دیاجائے۔ اس ضمن میں قرار داد پہلے ہی پیش کی جاچکی ہے۔

جناب چئیرمین!

بھارت میں “ہندتوا” کی بڑھتی ہوئی لہر نہ صرف بھارت کے مسلمانوں کے لئے خطرہ بن کر ابھری ہے بلکہ اس نے علاقائی سلامتی کو بھی خطرات سے دوچار کردیا ہے۔

’آر۔ایس۔ایس‘،’بی۔جے۔پی‘ حکومت کھلم کھلا ہندتوا کا پرچار کررہی ہے جوشدت پسند نسل پرستی کا نظریہ ہے جس میں مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت کا زہر بھرا ہوا ہے۔

مودی حکومت منظم انداز میں بھارت کے اندر اٹھارہ کروڑ مسلانوں پر حملے کررہی ہے۔ ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کا سرعام قتل تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ فروری 2020 میں نئی دہلی میں پچاس سے زائد مسلمانوں کو ہدف بناکر قتل کرنے اور منصوبہ بندی کے تحت تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات ہم دیکھ چکے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف امتیازی اقدامات جاری ہیں جن میں شہریت چھیننے اور امتیازی شہریت کے قوانین جیسی خوفناک مثالیں شامل ہیں۔

حتی کہ کورونا وبا کے پھیلاو کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد کر کے ان کو بدنام کیاگیا۔

5 اگست 2020 کو ’او۔آئی۔سی‘ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے 1992ءمیں انتہاءپسند ہندووں کے ہاتھوں شہید ہونے والی تاریخی بابری مسجد کی جگہ پر ہندتوا مندرکا سنگ بنیاد رکھا۔ ایک ہفتہ بعد مسجد شہید کرنے میں ملوث مجرموں کو خصوصی عدالت نے بری کردیا۔ ان میں ’بی۔جے۔پی‘ کے بہت سارے سینئر سیاستدان بھی شامل تھے۔

عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے یہ حقائق بیان کئے ہیں۔ ہمیں ان جرائم کی گرفت کرنا ہوگی تاکہ بھارت میں مسلمانوں کا مزید لہو بہتا ہوا نہ دیکھیں۔

جناب چئیرمین!

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں تکالیف اور مخدوش صورتحال انتہائی دگرگوں ہے۔ 5 اگست 2019 کے بھارت کے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کے تناظر میں غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بدترین انسانی حالات اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سانحہ رونما ہوچکا ہے۔

پندرہ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اسی لاکھ سے زائد کشمیری لاک ڈاون، فوجی محاصرے، کمیونیکیشن قدغنوں، غیرقانونی گرفتاریوں اور ناقابل بیان پابندیوں کا سامنا کررہے ہیں۔ پورے مقبوضہ خطے کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کردیاگیا ہے۔

کالے قوانین کے ذریعے بھارتی قابض افواج کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ کشمیریوں کی آواز دبانے اور ان کے عزم کو متزلزل کرنے کے لئے، انہیں ناقابل بیان جبرواستبداد اور مظالم کا نشانہ بنائیں۔ جعلی ”مقابلوں“ میں ماورائے عدالت شہادتیں ہورہی ہیں، ”چھاپوں اور تلاشی“کے آپریشنز جاری ہیں، آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے لئے گھر گرائے اور املاک کو نقصان پہنچایاجارہا ہے، مقامی میڈیا کی منظم انداز میں آواز دبائی جارہی ہے جبکہ نہتے اور پرامن مظاہرین پر پیلٹ گنز کا بلاامتیاز استعمال روز کا معمول بن چکا ہے۔
غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں بھارتی ناپاک عزائم کا حصہ ہیں۔ ”جموں وکشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ (پروسیجر) رولز 2020“ جیسے نام نہاد قانون کے تحت گذشتہ چھ ماہ میں بیس لاکھ ’ڈومیسائل‘ سرٹیفیکیٹس جاری کئے گئے ہیں۔ اسی طرح غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے عوام کے اراضی اورحق ملکیت کے تحفظ سے متعلق قوانین ختم کردئیے گئے ہیں۔

یہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، عالمی قانون خاص طورپر چوتھے جینیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، میڈیا، ارکان پارلیمان اور سول سوسائیٹی تنظیموں نے دنیا بھر میں بھارت کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور دنیا کے دیگر رہنماوں نے بیانات جاری کئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سطح پر اس حوالے سے مشاورتی اجلاس ہو چکے ہیں جن میں جموں وکشمیر کی متنازعہ نوعیت کو عالمی سطح پر ایک بار پھر تسلیم کیاگیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار حل کی ضرورت کو بھی محسوس کیاگیا۔

’آر۔ایس۔ایس‘،’بی۔جے۔پی‘ کی بھارت میں حکومت ان عالمی اپیلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیرمیں مقامی مزاحمت کی تحریک کو بدنام کرنے اور اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے بھارت پاکستان پر ’سرحد پار دہشت گردی‘ کے جھوٹے الزامات عائد کرتا ہے اور بھارت کوئی ’فالس فلیگ‘ آپریشن اور کوئی مہم جوئی کرسکتا ہے۔

بھارت لائن آف کنٹرول (ایل۔او۔سی) پر 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی بھی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے عام شہری آبادی کو نشانہ بنارہا ہے۔

پاکستان بے انتہاءتحمل کا مظاہرہ کررہا ہے لیکن ہمارے صبر کی بھی ایک حد ہے۔

پاکستان دہشت گردی کے عفریت کے خلاف صف اول میں جنگ لڑرہا ہے جبکہ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں کرانے کا پورا تانا بانا بُن رہا ہے۔

ہم نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کرانے اور دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد کا ڈوزئیر عالمی برادری کو پیش کیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ’او۔آئی۔سی‘اپنی اجتماعی حیثیت میں اور مسلم ممالک اپنی انفرادی حیثیت میں بھارت کو اس خطرناک راستے پر چلنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

جناب چئیرمین!

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے لوگوں کی اپنے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کے حصول کی منصفانہ اور جائز جدوجہد کی حمایت کی کوششوں میں ’او۔آئی۔سی‘ پیش پیش رہی ہے۔

رواں سال مارچ کے مہینے میں سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے نے جموں وکشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور آزادجموں وکشمیر کا دورہ کیا جو جموں وکشمیر تنازعہ پر ’او۔آئی۔سی‘ کی حمایت کا ایک اور مظہر ہے۔ ہم نمائندہ خصوصی کے اس دورے کی رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے محصور عوام آج سب سے بڑھ کر مدد کے لئے ’او۔آئی۔سی‘ اور امت مسلمہ کی طرف دیکھ رہے ہیں تاکہ انہیں تکالیف سے نجات مل سکے۔

میں ’او۔آئی۔سی‘ ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنا سیاسی ومعاشی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں مزید مظالم کرنے سے بھارت کو روکیں۔
وزرائے خارجہ کونسل کے لئے ضروری ہے کہ بھارت سے مطالبہ کرے کہ اپنے غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات واپس لے، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سلسلہ روکے، انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول اقوام متحدہ کے حقائق جاننے والے مشن اور ’او۔آئی۔سی‘ ، ’انسانی حقوق کے مستقل کمشن‘ (آئی۔پی۔ایچ۔آر۔سی) کوغیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں جانے کی اجازت دے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ جموں وکشمیر کے حل کے لئے عملی اقدامات اٹھائے۔

جناب چئیرمین !

فلسطین ایک اور رستا ہوا زخم ہے۔ خطے میں غیرمستحکم سلامتی کی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل یک طرفہ اقدامات کررہا ہے جو دو ریاستی حل کو برباد کررہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام پاکستان کی ترجیح ہے۔ فلسطینی علاقہ کو غیرقانونی طورپر ضم کرنا، غیرقانونی تعمیرات اور فلسطین میں غیرانسانی صورتحال سے ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ خواب پورا ہونا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔

پاکستان فلسطین کے عوام کے ساتھ اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ایک منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے لئے پاکستان متحد، یک جان اور خودمختار فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھے گا، عالمی طورپر متفقہ حدود کے اندر ایسی فلسطینی ریاست کا قیام جو 1967کی سرحدات کی حامل ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

جناب چئیرمین!

پورے خطے میں استحکام اور ترقی کے لئے افغانستان میں امن کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ افغانستان کے علاوہ پاکستان نے بھی افغانستان میں خلفشار کے سبب بہت تکالیف اٹھائی ہیں ۔ افغانستان میں امن کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کو ہوگا۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پاکستان کی کاوشون کو بڑے پیمانے پر تسلیم کیاگیا اور اس کی پزیرائی کی گئی۔

ہم افغان امن اور مفاہمتی عمل کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے اور امید کرتے ہیں کہ اجتماعی کوششوں کے نتیجے میں افغانستان، امن، استحکام اور خوش حالی سے ہمکنار ہوگا۔

جناب چئیرمین!

پاکستان نے عالمی قانونی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق “نگوورنو کاراباخ” تنازعہ کے حل کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ ہم آرمینیا کی جارحیت کے خلاف اور مقبوضات کی آزادی کے لئے بے مثال کامیابی پر آزربائیجان کے برادر عوام اور حکومت کو مبارک دیتے ہیں۔ سہہ فریقی معاہدے سے ایک بار پھر جنوبی کاکیشیا خطے میں امن کے قیام کا موقع میسر آگیا ہے۔

جناب چئیرمین !

افریقہ کے اپنے دوستوں کے ساتھ شراکت داری کی پاکستان کی طویل اور نمایاں تاریخ ہے۔ پاکستان نے نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی اور نسلی امتیاز کے خلاف ان کی جدوجہد کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ ہم نے انسانی ہمدردی کے تحت ان کی معاونت اور استعداد کار بڑھانے کے پروگرامز کے ذریعے ان کی مدد کی ہے۔ اقوام متحدہ کے امن دستوں میں شمولیت کے ذریعے ان کے امن اور سلامتی کے لئے کاوشیں کی ہیں۔

پاکستان نے ’افریقہ سے روابط“ (انگیج افریقہ) کے عنوان سے نئے سفرکی ابتداءکی ہے جس کا مقصد سیاسی اور سفارتی روابط کا فروغ، دوطرفہ معاشی تعلقات اور تجارتی فوائد کو مزید گہرا اور وسیع کرنا ہے۔

پاکستان افریقی اقوام کے امن، ترقی اور خوش حالی کے لئے کوششوں اور تمناوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ان سے یک جہتی کا اظہار کرتا ہے۔

جناب چئیرمین!
آج جب ہم یہاں جمع ہیں تو ’او۔آئی۔سی‘ کے قیام کے پچاس سال مکمل ہوچکے ہیں۔ اس اہم سنگ میل کو عبور کرنے پر ہمیں اپنے اس عہد پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ ہم امت مسلمہ کی اجتماعی آواز کے لحاظ سے ’او۔آئی۔سی‘ کو مزید موثر بنانے کے لئے اپنی کوششوں کو مجتمع کریں۔

میں یہ اجاگر کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری تنظیم مشترکہ مشکلات کے خلاف امت میں اتحاد اور بھائی چارہ پیدا کرنے کے لئے قائم ہوئی تھی۔ اپنے حصے کے طورپر پاکستان ’او۔آئی۔سی‘ کو امت کی واحد اور سب سے موثر آواز کے طورپر فروغ دینے کے عزم پر کاربند ہے۔ پاکستان ’او۔آئی۔سی‘ کے ساتھ مل کر ایسے طریقہ ہائے کار وضع کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا جس سے اس کے متعین کردہ اہداف میں پیش رفت ہو۔

ہم آئندہ سال وزرائے خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس کی میزبانی اور آپ سب کو خوش آمدید کہنے کے لئے منتظر ہیں۔ میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ سب کو پاکستان دورے کی پرتپاک دعوت دیتا ہوں۔

وزرائے خارجہ کونسل کے آئندہ سربراہ کے طورپر امت مسلمہ کے درمیان اتحاد، امن اور خوشحالی کے فروغ کے لئے پاکستان تمام اراکین کے ساتھ تعمیری روابط کا خواہاں ہے۔

وزرائے خارجہ کونسل کے کامیاب سیشن کے لئے میں تمام دوستوں کی خدمت میں نیک تمناوں کا اظہار کرتا ہوں۔

میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
٭٭٭٭

Comments

comments