ملک میں آئندہ کسی کو ان کی مرضی مسلط نہیں کرنے دیں گے ،بلاول بھٹو زرداری عوام کے حق رائے دہی کی ہی بنیاد پر حکومتیں بنیں گی،اداروں کی خواہش پر بننے والی حکومتیں عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہیں

  • IMG-20201122-WA0596.jpg

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک میں آئندہ کسی کو ان کی مرضی مسلط نہیں کرنے دیں گے ۔عوام کے حق رائے دہی کی ہی بنیاد پر حکومتیں بنیں گی ۔اداروں کی خواہش پر بننے والی حکومتیں عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہیں ۔عمران خان کی سلیکٹڈ حکومت کو گھر جانا ہو گا ورنہ ملک ترقی نہیں کرے گا ۔ابھی تک قبائل کو ان کا حق نہیں دیاگیا اور آپریشن میں فوج کا ساتھ دینے والے قبائلی دربدر پھر رہے ہیں ۔پشاور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا بہادروں کی سرزمین ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ملک اور جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور ریاست کا ساتھ دیا۔ سوات اور وزیرستان میں پاکستان کا پرچم جمہوریت کی وجہ سے لہرا رہا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پختونخوا کے عوام کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔ سلیکٹڈ میں دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہیں تھی۔ یہ اچھے طالبان اور برے طالبان کھیل رہے ہیں۔ ہم دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ باقی صوبوں کی طرح پختونخوا کو بھی این ایف سی ایوارڈ میں پورا حصہ نہیں دیا جارہا۔ قبائلی اضلاع تو خیبرپختونخوامیں ضم ہوگئے لیکن وہاں کے لوگوں کو ابھی تک حقوق نہیں ملے۔ ملک میں تاریخی مہنگائی اور غربت ہے۔ سلیکٹڈ کا بوجھ عام آدمی اٹھا رہا ہے۔ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے پہلے چینی اور پھر آٹے کا بحران آیا۔ ہم پر طنز کرتے ہیں اور ہمیں کورونا سے ڈرانا چاہتے ہیں۔ ان کوصرف پی ڈی ایم جلسوں کے وقت کورونا یاد آجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی فاٹا کے بجٹ میں کٹوتی کی جارہی ہے ۔ان کو مراعات نہیں دی جارہی ہیں ۔یہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کا وعدہ ہے کہ پختونخوا کے عوام کو لاوارث اور اکیلا نہیں چھوڑیں گے ۔موجودہ حکومت نے اب تک آپریشن میں بے گھر ہونے والے آئی ڈی کا خیال نہیں رکھا ۔یہ کس قسم کا سلوک ہے کہ جب جنگ لڑنے کا وقت ہوتا ہے تو یہاں کے عوام جان دینے کیلئے تیار ہوتے ہیں اور جب یہاں کے عوام کے مسائل حل کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتے ہیں۔آج بھی لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہاہے ۔ہم مرحوم چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کو سلام پیش کرتے ہیں کہ اس ملک میں اس قسم کے غیرت مند اور بہادر ججز بھی تھے جن کی قلم سے انصاف لکھا جاتا تھا ۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ آج ملک میں تاریخی مہنگائی ہے ۔تاریخی غربت اور تاریخی بیروزگاری ہے ۔سلیکٹڈ کا بوجھ عام آدمی اٹھا رہا ہے ۔ان کی نا لائقی کی وجہ سے پہلے چینی،آٹے کا بحران ہوا اور اب گیس کا بھی بحران ہو گا ۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں عوام اس نا اہل کی حکومت کا بوجھ اٹھا رہے ہیں ۔ان کا ظلم یہاں نہیں رکتا ۔این ایف سی ایوارڈ میں پختونخوا کو اس کا حصہ نہیں دیا جارہا ہے ۔باقی صوبوں کی طرح نا اہل حکومت آپ کے وسائل پر بھی ڈاکہ ڈال رہی ہے ۔سوئی گیس میں بھی خیبرپختونخوا کو اس کا حصہ نہیں دیا جارہا۔یہ ظالم حکومت خیبرپختونخوا کے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے ۔اگر یہ حکومت آپ کی نمائندہ ہے تو آپ کو گیس کی رائلٹی کیوں نہیں دیتی اس لئے کہ یہ پختونخوا کے عوام کے نمائندے نہیں ہیں ۔عوام کو کچھ نہیں دیاجارہا ۔عوام کی کچھ مدد نہیں کی جارہی ۔انہوں نے نجکاری کے نام پر پختونخوا میں بحران پیدا کئے ہیں ۔یہاں کے ادارے اونے پونے داموں فروخت کئے جارہے ہیں ۔ہم ان کو اس کی اجازت نہیں دیں گے ۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ حکومت ہمارے جلسے روکنے کے لئے کورونا کورونا کرتی ہے ۔جب یہاں کے ڈاکٹروں اور نرسوں کی تنخواہوں کی بات ہوتی ہے تو ان کوخاموشی لگ جاتی ہے او ر کورونا بھول جاتے ہیں ۔ہمیں نا صرف اس وباء کا مقابلہ کرنا پڑے گا بلکہ اس غیر جمہوری نظام کا بھی مقابلہ کرنا پڑے گاجو یہاں کے عوام پر ظلم کر رہا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں ۔اس ظالم حکومت کی وجہ سے آٹا بھی مہنگا،چینی مہنگی،گھی مہنگا،آلو مہنگے ،پٹرول مہنگا،گیس مہنگی،بجلی مہنگی ہو گئی ہے ۔غریب عوام تو انڈا بھی نہیں خرید سکتے ہیں ۔اب ادویات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ ہو چکا ہے کہ جینا بھی مہنگا اور مرنا بھی مہنگا ہو گیا ،یہ عمران اور عمران کے سہولت کاروں کا نیا پاکستان ہے ۔یہ تو کرپشن کے خلاف سب سے زیادہ شور مچاتے تھے مگر اب سب کو پتہ لگ گیا ہے کہ یہ توسب سے کرپٹ ترین حکومت نکلی ہے ۔عمران خان کے دور میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے ۔کرپشن تو حکومت کر رہی ہے لیکن نیب کے نشانے پر صرف اپوزیشن ہے ۔سیاسی انتقام ہو تو اپوزیشن نیب کے جھوٹے کیس نمٹ رہی ہے ۔نیب کو نظر نہیں آتا کہ پشاور میں ملک کا سب سے مہنگا ترین میٹرو ہے جس کی بسیں خود بخود جل جاتی ہیں ۔جن کے مسافروں کو بس کو دھکا دے کر چلانا پڑتا ہے مگر یہ نیب کو نظر نہیں آتا ۔نیب کو نظر نہیں آتا کہ کیسے سلائی مشین سے امریکانیویارک میں جائیدادیں کھڑی ہورہی ہیں ۔نیب کو نظر نہیں آتا ہے کہ مالم جبہ میں کیسے کرپشن کی گئی ہے ۔نیب کو نظر نہیں آتا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں کہاں سے فنڈنگ ہوئی ہے ۔اب ان کے جانے کا وقت آگیا ہے ۔یہ جنوری تک کے مہمان ہیں ۔جنوری ان کا آخری مہینہ ہے ۔پھر ان سب کو گھر جانا پڑے گا اور حساب لینے کا وقت آئے گا تو عوام ان سے حساب لیں گے ،پختونخوا کے عوام ان سے حساب لیں گے ۔

Comments

comments