تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کا تاریخی جنازی پاکستانی کی منقسم سوسائٹی کے دانشوروں میں موضوع بحث بن گیا

No video URL found.

لاہور میں تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کا تاریخی نماز جنازہ سوشل میڈیا پر لبرلز اور بنیاد پرستوں کے لئے حیران کن اور پاکستان میں شدت پسندی کے رجحان کے بڑھتے ہوئے رجحان کا عکاس قرار دیا گیا تاہم ممتاز صحافی اور دائیں بازو کے دانشور انصار عباسی نے لکھا کہ ” ‏دین اسلام کی نسبت سے پاکستان نے آج پھر عوام کے سمندر کو علامہ خادم رضوی مرحوم کے جنازہ میں شرکت کرتے دیکھا۔ ثابت ہوا کہ پاکستانیوں کا دل اسلام کے کیے دھڑکتا ہے اور یہ کہ دین ہی اصل ہے لیکن ہماری سیاسی جماعتوں،حکومتوں نے اسلام کا نام لیا لیکن اس کو نافذ کرنے میں کبھی دلچسپی نہ لی۔ جماعت اسلامی کے سوشل میڈیا کے انچارج شمس الدین امجد کا کہنا ہے کہ ‏” لبرل لابی میں سےاکثر جو پی ڈی ایم کےجلسوں سےایک انچ پیچھے ہٹنےکو تیار نہیں بلکہ پیٹھ تھپتھپا رہےہیں، وہ جنازے کےشرکاء سے نفرت، تحقیر اور تعصب کا اظہار کر رہے ہیں۔ اصلا شرانگیز، انتہاپسند اور متعصب لوگ تو یہ ہیں، الزام مذہبی طبقے پر لگاتے ہیں۔ جعلی سیکولرازم کے جعل ساز۔ صد افسوس”
ممتاز بلاگر رضوان رضی نے خادم حسین رضوی کے تاریخی جنازہ پر تبصرہ کیا ” ‏آج لاہور ایک عاشق رسول ؐ کو رخصت کر رہا ہے۔”
ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ” ‏‎سر گالی دینے والے، عشق رسول کے نام پر روڈ بند کرنے والے، املاک کو جلانے والے، چہروں پر دھشت سجانے والے کیسے  عاشق رسول ہوگئے؟؟؟؟ ” جس پر رضوان رضی نے کہا” ‏‎آپ کی یہ بات بجا ہے۔انسان بہت سی غلطیاں ہوتی ہیں، بلنڈر ہوتے ہیں لیکن آخر میں زندگی کا ذواضعاف اقل نکلتا ہے تو پھر ہی خسارے اور منافع کا پتہ چلتا ہے۔ آدمی کو اتنا کم ظرف نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مخالف کی موت پر بھی سیاسی سکور سیٹل کرے۔ یعنی کہ بندی یوتھیا نہ ہو ”
لندن منتقل ہونے والی بلاگر گل بخاری نے کہا کہ” ‏ایک طرف تو ایک مفسدفی الارض اسامہ بن لادن کو شہید کہنے والے عمران خان پہ تنقید کرتے ہیں تو دوسری طرف ایک مفسدفی الارض خادم رضوی کی مغفرت کی دعائیں مانگنے پہ مصر  ہیں۔ یعنی خالص منافقت۔ پھر تو آپ کی تنقید صرف سیاست اور امریکہ کے خوف پہ مبنی تھی۔ورنہ اسامہ کی بھی مغفرت ہی بنتی تھی۔ ”
دانشور اور ممتاز سیاسی مفکر افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ
پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی / عسکریت پسندی کے عروج کو ، ریاستی سیکیورٹی مشین کے ذریعہ پرورش کیا جاتا ہے ، بہت سے لوگوں نے اسے ملک کے لئے وجودی خطرہ قرار دیا ہے۔  لیکن طالبان ، ایل ای ٹی ، جے ایم ، ایل ای جے ، ٹی ایل پی اور بہت سے دوسرے لوگوں کی سرپرستی جاری ہے۔  کون اپنے آپ کو سیکیورٹی زار سے  بچائے گا؟

Comments

comments