عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں میاں افتخار حسین ایمل ولی اور سردار حسین بابک نے 22 نومبر کو ہشاور میں ہونے والے پی ڈی ایم کے کے جلسہ کی اجازت سے انکار کی مذمت کرتے ہونے کہا کہ ہشاور جلسہ ہر صورت میں ہوگا

  • IMG-20201120-WA0450.jpg

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے زیراہتمام 22نومبر کو پشاور میں عظیم الشان جلسہ عام ہر صورت ہوگا۔ حکومت نے جلسے کی اجازت نہ دے کر اپنی بدنیتی ظاہر کردی۔ نوشہرہ ڈاگ اسماعیل خان میں تنظیمی عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے پی ڈی ایم کی جمہوری تحریک کو ناکام نہیں بنایا جاسکتا۔ رکاوٹیں عوام کا راستہ نہیں روک سکتی لیکن اس عمل سے حکومت کا ڈر عیاں ہوچکا ہے۔ بینرز، بورڈ اور فلیکسز ہٹانے کیلئے سرکاری مشینری استعمال کی جارہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اس جلسے میں تاریخی شرکت کرے گی اور سرخ سیلاب 22نومبر کو پشاور کا رخ کرے گا۔اگر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو ایک جلسہ سینکڑوں جلسوں کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔رکاوٹیں کھڑی کرنے کی صورت میں پشاور سمیت پورے صوبے میں جلسے ہوں گے۔تمام رکاوٹوں کو توڑ کر عوام پشاور پہنچیں گے اور نااہل حکومت سے چھٹکارا حاصل کریں گے۔ کورونا کا بہانا بنانے والے سن لیں کہ پھر ہر جگہ عوام کا سمندر اکھٹا ہوگا جس کو کنٹرول کرنا اس سلیکٹڈ حکومت کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ ہم پرامن لوگ ہیں اور پرامن احتجاج عوام کا آئینی و قانونی حق ہے ۔ اس حق سے کوئی انہیں محروم نہیں کرسکتا۔ میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ کورونا وبا کے آڑ میں حکومت کی نااہلی نہیں چھپائی جاسکتی ۔ اب انکی نااہلی عوام جان چکی ہے۔ جلسے کو فول پروف سیکیورٹی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اسکی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انکا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور عوامی سمندر 22نومبر کو اس سلیکٹڈ حکومت کے خلاف اپنا فیصلہ سنائے گی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم)  کو 22 نومبر پشاور جلسہ کے لئے این او سی نہ دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے این او سی نہ دینا حکومتی چال ہے، حکومت سرکاری مشینری کے ذریعے جلسہ ناکام بنانے کی سازشوں میں مصروف ہے، جلسہ کے لئے این او سی نہ دینا ان کی خام خیالی ہے، 22نومبر کے جلسے کی تمام تیاریاں مکمل کی جاچکی ہیں، جلسہ ہوگا اور ہر صورت ہوگا چاہے انتظامیہ اجازت دے یا نہ دے۔ باچا خان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ  حکومت لاکھ کوشش کریں لیکن اپوزیشن کا جلسہ اسی وقت، اسی دن اور اسی مقام پر ہوگا، سرخ لباس زیب تن 22 نومبر کا جلسہ سرخ سیلاب کی صورت اختیار کرے گا، باچاخان کے سرخ پوش پیروکار اس ناکام حکومت کو گھر بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے پاور شوز سے گھبرا کر اجتماعات پر پابندی کا ناٹک کر رہی ہے، سوات میں سلیکٹڈ وزیر اعظم کے جلسے میں کورونا چھٹی پر تھا کیا؟ اور اگر سلیکٹڈ حکمران واقعی اس معاملے میں سنجیدہ ہیں تو  ایپی ڈیمک کنٹرول اینڈ ریلیف آرڈیننس کے تحت سوات جلسے کے آرگنائزرز پر مقدمے کب بنیں گے؟  کیا اس آرڈیننس کا اطلاق صرف اپوزیشن پر ہوتا ہے؟ سب سے پہلا مقدمہ اس آرڈیننس کے تحت سلیکٹڈ وزیراعظم کے خلاف درج ہو، پھر ہمارے خلاف بھی بے شک درج کرلیں، حکومت کی دوغلی پالیسی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان کے سیاسی وارثوں کو مقدمات، ایف آئی آر، دھمکیوں یا تھریٹ الرٹس سے نہیں ڈرایا جاسکتا،اس قسم کی دھمکیاں دینے والے ذرا خدائی خدمتگار سے اے این پی تک کی تاریخ پڑھ لیں،کارکنان اپنی تیاریاں مزید تیز کریں، 22 نومبر کا جلسہ حکومتی تابوت میں آخری کیل اور عوامی ریفرنڈم ثابت ہوگا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری  سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ 22 نومبر کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا جلسہ ہر صورت ہوگا، رواں مہینے کے 5 تاریخ کو ضلعی انتظامیہ سے جلسہ کے لئے باقاعدہ اجازت لینے کے لئے درخواست دی تھی  جو  انتظامیہ نے کورونا کو جوازبنا کر مسترد کر دی ہے، جس کی نا صرف عوامی نیشنل پارٹی  اور پی ڈی ایم شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہےبلکہ سلیکٹڈ حکمرانوں کو واضح طور پر خبردار کرنا چاہتی ہے کہ ہوش کے ناخن لے،   تصادم کا ماحول پیدا کرنے سے گریز کیا جائے، پشاور جلسہ کے لئے تمام اپوزیشن  جماعتوں کی تیاریاں مکمل ہے، جلسہ ہر حال میں ہوگا۔ پشاور پریس کلب میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ  اپوزیشن کے جلسوں میں عوامی سیلاب دیکھ کر حکومت کے اوسان خطا ہوچکے ہیں، پشاور جلسہ کو ناکام بنانے کے لئے اوچھے ہتکھنڈوں پر اتر آئی ہے، اپوزیشن جماعتوں کا راستہ روکنے کے لئے حکومت سرکاری مشینری کا استعمال کر رہی ہے جو کہ شرمناک اور قابل مذمت فعل ہے۔ چند دن پہلے تک سلیکٹڈ حکمران اور ان کے ہمنوا اپوزیشن کے مقابلے میں جلسے کر رہے تھے، گلگت بلتستان اور سوات میں حکمران جماعت کے جلسوںمیں کورونا  کا خطرہ نہیں تھا لیکن اپوزیشن جماعتوں کی عوامی مقبولیت کو دیکھ کر جعلی حکمران کورونا کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ  حکومت کی گھبراہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جلسہ میں لوگوں کو شرکت سے روکنے کے لئے  بین الاضلاعی بارڈرز پر نفری تعینات کر کے  ابھی سے رکاوٹیں کھڑی  کرنا شروع کر دی ہیں۔ٹرانسپورٹرز کو  زبانی ہدایات دے کر ڈرایا جارہا ہے، ایڈورٹائیزنگ کمپنیز کو پی ڈی ایم کے بل بورڈز لگانے سے منع کیا جارہا ہے۔ جو سرکاری ملازمین موجودہ حکمرانوں سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے زبانی ہدایات پر من و عن عمل کر رہے ہیں ان کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ یہ تبدیلی سرکار کے ملازم نہیں بلکہ اس ریاست کے ملازم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ  ذمہ داریاں عوامی فلاح کو سامنے رکھ بجا لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور جلسہ کے حوالے سے حکومتی پروپیگنڈا کو عوام مسترد کر چکی ہے،موجودہ حکمران سیاسی تربیت سے عاری ہیں،  اگر حکومت واقعی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے سنجیدہ تھی تو اپوزیشن جماعتوں کی نمائندہ کمیٹی کے ساتھ رابطہ کرتے لیکن یہ پشتون روایات نہیں کہ اپنے پی آر اوز کے ذریعے اپوزیشن جماعتوں کو سندیسہ بھیجے کہ فلاں جگہ ملاقات کے لئے آجائيں، موجودہ حکومت کے پاس اختیار کہاں ہے کہ یہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کریں؟ ڈپٹی کمشنر پشاوراپنی  نوکری پکی کرنے کے لئے عوام کے اظہار رائے پر پابندی لگا نے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ڈرا دھمکا کر پی ڈی ایم کو جلسہ نہ کرانے پر مجبور نہیں کرسکتے،   پی ڈی ایم کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ تصادم اور ٹھکراو کی طرف نہیں جائیں گے، پی ڈی ایم عوام کو ساتھ لے کر عوامی حق حکمرانی کو یقینی بنانے ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لئے نکلی ہے،   22 نومبر کو  صوبہ بھر کے جمہور پسند عوام پشاور کا رخ کریں گے اور جعلی ووٹ کے ذریعہ اقتدار پر قابض ٹولے کے خلاف  پرامن احتجاج ریکارڈ کریں گے۔ اس موقع پر جمعیت علماء اسلام ف کے صوبائی امیر مولانا عطاء الرحمان، پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر ہمایون خان، قومی وطن پارٹی کے صوبائی چئیرمین سکندر شیرپاؤ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر مختیار یوسفزئی، ترجمان ن لیگ اختیار ولی اور دیگر جماعتوں کے قائدین بھی موجود تھے۔

Comments

comments