امریکہ میں حکومت میں تبدیلی پالیسیوں میں تبدیلی کا باعث نہیں بنتی، نئی امریکی حکومت بھی ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کو آگے بڑھائے گی، ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کا فیس بک لائیو سیشن میں اظہار خیال

  • IMG_20201107_191751.jpg

*امریکہ میں حکومت میں تبدیلی پالیسیوں میں تبدیلی کا باعث نہیں بنتی، نئی امریکی حکومت بھی ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کو آگے بڑھائے گی، پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بہتری کیلئے تھنک ٹینک بنایا جائے، ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کا فیس بک لائیو سیشن میں اظہار خیال*

اسلام آباد (7نومبر2020): پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبرقومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے کہا ہے کہ امریکہ میں حکومت کی تبدیلی کبھی پالیسیوں میں تبدیلی کا باعث نہیں بنا کرتی، انہوں نے فیس بک لائیو سیشن میں نئی امریکی حکومت کے عالمی منظرنامہ پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے اپنے تبصرے میں کہا کہ امریکہ ہمیشہ اپنا ریاستی مفاد سامنے رکھتا ہے، امریکہ اپنے مفادات کے حصول کیلئے پالیسیوں میں ردوبدل کرتا ہے، ماضی کے دشمن امریکہ کے دوست بن جاتے ہیں اور دشمن دوست کا روپ دھار لیتے ہیں۔ڈاکٹر رمیش کمار کا کہنا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے وقت امریکہ اور سویت یونین مشترکہ دشمن ہٹلرکے نازی جرمنی کے خلاف نبزدآزماتھے، جنگ جیتنے کے بعدامریکہ کے مفادات بدل گئے اورماضی کے اتحادی ملک سویت یونین سے ہر محاذ پر ٹکراؤ ہونے لگا، امریکہ نے دوسری سپر پاور سویت یونین کو نیچا دکھانے کیلئے افغانستان میں ان عناصر کی حمایت شروع کردی جنہیں نائن الیون کے بعد دہشت گرد قرار دے دیا گیا، آج انیس سال بعد امریکی مفادات کا تقاضا ہے کہ افغانستان میں ان لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملایا جائے جنکی حکومت امریکہ نے نائن الیون کے ردعمل میں بذورِ طاقت ختم کردی تھی۔ فیس بک لائیو سیشن کے دوران ڈاکٹر رمیش کمار نے اعتراف کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات بھی نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں، کبھی امریکی مفادات نے پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ کا درجہ دے دیا اور کبھی ڈومور کے مطالبات ہوتے رہے۔ ڈاکٹر رمیش نے کہا کہ ٹرمپ حکومت نے چین اور ایران کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی ہے، اگلی امریکی حکومت بھی اسی کو لیکر چلے گی تاوقتیکہ امریکی مفادات میں تبدیلی ناگزیر نہ ہوجائے،ڈاکٹر رمیش کمار نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر پاکستان کی بارڈر کے پار امریکہ کوئی نئی مہم جوئی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو لامحالہ طور پر پاکستان کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، سپرپاور امریکہ کی طرف سے حمایت کے مطالبات ماننے کی صورت میں ہماری ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی بھی داؤ پر لگ سکتی ہے اور عوامی دباؤ وسیع پیمانے پر بے چینی کا باعث بن سکتا ہے۔ فیس بک لائیو سیشن کے دوران ڈاکٹر رمیش کمار نے امریکی انتخابات کے تناظر میں تجویز پیش کی کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو بہتر بنانے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیئر سیاست دانوں، خارجہ امور پر دسترس رکھنے والے ریٹائرڈ بیوروکریٹ اور سیکرٹری صاحبان پر مشتمل ایک ایسا تھینک ٹینک بنائے جسکے سامنے واحد ایجنڈا ہو کہ پاکستان میں چاہے کسی کی حکومت آئے، کوئی بھی وزیر اعظم بنے لیکن پاکستان کی خارجہ پالیسی صرف اور صرف پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرے گی۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کسی خاص ملک یا شخصیت کی خوشنودی کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کے ملکی مفادات کے تحفظ کیلئے ہونی چاہیے، پاکستان میں حکومت کی تبدیلی سے خارجہ پالیسی کو فرق نہیں پڑنا چاہیے۔

٭٭٭٭٭٭

Comments

comments