سپریم کورٹ نے کن 11وجوہات پر جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس غیر أئینی قرار دیا؟؟؟؟؟

No video URL found.

سپریم کورٹ نے کن 11وجوہات پر جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس غیر أئینی قرار دیا؟؟؟؟؟

پہلی وجہ: صدر اور وزیر اعظم نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف تفتیش کی منظوری نہیں دی، یہ منظوری وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے دی جس کا انہیں آئینی و قانونی اختیار نہیں تھا۔

دوسری وجہ: صدارتی ریفرنس دائر کرنے سے پہلے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 116 ایک کے تحت نوٹس دینا ضروری تھا جو نہیں دیا گیا۔

تیسری وجہ: ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 116 ایک کی تشریح کے بغیر یہ فرض کر لیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اپنے بیوی اور بچوں کی جائیدادیں ظاہر کرنا لازمی تھا۔

چوتھی وجہ: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی شہادت پیش نہیں کی گئی۔

پانچویں وجہ: صدارتی ریفرنس میں ایسا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہو کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔

چھٹی وجہ: صدر مملکت کو ریفرنس کے مرکزی کرداروں، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے غیر قانونی ایڈوائس دی۔

ساتویں وجہ: صدر مملکت نے قانونی نکات پر تیسرے فریق سے بامقصد ایڈوائس نہیں لی۔
آٹھویں وجہ: صدر مملکت ریفرنس میں موجود نقائص کو سمجھنے میں ناکام رہے۔

نویں وجہ: صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 209 پانچ کے تحت اپنی رائے قائم نہیں کی۔

دسویں وجہ: جواب گزاروں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کے ٹیکس گوشواروں تک غیر قانونی طور پر رسائی حاصل کی۔

گیارہویں وجہ: معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی۔

Comments

comments