‏جسٹس فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس غیر آئینی تھا سپریم کورٹ صدر آئین اور قانون کی روشنی میں فرائض انجام نہیں دے سکے ۔ صدر اپنی ذمے داری ادا کرنے میں ناکام رہے۔ سپریم کورٹ شہزاد اکبر کے ریکوری یونٹ کی کوئی حیثیت نہیں۔ تفصیلی فیصلہ

سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس غیر آئینی قرار دیتے ہوئے
صدر  پاکستان عارف علوی کے بارے میں کہا کہ وہ آئین اور قانون کی روشنی میں فرائض انجام نہیں دے سکے ۔
صدر اپنی ذمے داری ادا کرنے میں ناکام رہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں وزیراعظم کے مشیر داخلہ
شہزاد اکبر  کی سربراہی میں قائم کے ریکوری یونٹ کے بارے میں لکھا کہ اس  کی کوئی حیثیت نہیں۔
‏جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جمعہ کو جاری کیا گیا اس میں کہا گیا کہ صدر مملکت آئین کے تحت ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے ، سپریم کورٹ کے جج جسٹس یحیی آفریدی کا نوٹ میں لکھا کہ
جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس آئین و قانون کی خلاف ورزی تھی ،
‏صدر نے ریفرنس بھیجنے سے قبل وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے رائے طلب کی۔ حالانکہ وہ دونوں ریفرنس تیار کرنے والوں میں شامل تھے.  یہ مفادات کا ٹکراؤ تھا۔
‏صدر پاکستان نے صوابدیدی اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس مروجہ قانون کے خلاف دائر کیا۔.سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف جمع کرایاجانےوالاتمام موادغیرقانونی قرار دے دیا

‏سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے متعلق فیصلے میں صدر اور صدر کو ریکمینڈیشن دینے والے وزیراعظم  اور اس حکومت کے اداروں کی دھجیاں اڑا دیں۔ کہا گیا کہ شہزاد اکبر کے Asset Recovery Unit کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ تاریخی فی
‏اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس یحیی آفریدی نے جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کو غیر آئینی قرار دیا۔۔ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرنے میں ناکام رہے اس لیے ریفرنس دائر کرنے کا تمام عمل غیر قانونی اور غیر آئینی قرار پایا ہے۔

Comments

comments