حالات تبدیل ہوچکے ،موجودہ حکمرانوں کو اب دسمبر بھی نصیب نہیں ہو سکے گا ، مولانا فضل الرحمن اب عمران خان این آر او چاہ رہے ہیں مگر ہم نہیں دے رہے اب ان ہاوس تبدیلی کے حوالے سے سوچنے کا وقت نہیں، پورے پاکستان میں عام انتخابات ہونے چاہئیں

  • IMG_20201016_191701.jpg

جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں ،موجودہ حکمرانوں کو اب دسمبر بھی نصیب نہیں ہو سکے گا اب عمران خان ہم سے این آر او چاہ رہے ہیں لیکن ہم نہیں دے رہے،لاہور میں پی ڈی ایم کے پہلے جلسے سے قبل لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کا یہ اتحاد ان حکمرانوں کی کشتی کو غرق آب کرنے کے لیے سنگ میل ثابت ہو گا، ہماری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں لیکن یہ محسوس ہونا چاہیے کہ پاکستان پاکستانیوں کا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مغربی آقاوں کا نہیں، پاکستان عالمی اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی کے لیے معرض وجود میں نہیں آیا تھا، دنیا میں سازشیں ہوتی ہیں، اپنی مرضی کی حکومتیں قوموں پر مسلط کی جاتی ہیں، اپنے ایجنڈے کی تکمیل کرائی جاتی ہے اور آج بھی آپ نے دیکھا کہ ان دو سالوں میں اگر کوئی قانون سازی ہوئی ہے اور 11 سے 12 قوانین بنے ہیں تو وہ بھی ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت بنے ہیں۔پارلیمنٹ کی بالادستی اور خودمختاری کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا، بل پر باقاعدہ اس کے اغراض و مقاصد لکھے جاتے ہیں، اس کا موضوع لکھا جاتا ہے جس میں صراحت کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر قانون سازی ہو رہی ہے، اگر ہم نے یہ لکھنا ہے تو اس پارلیمنٹ کی نفی خود پارلیمنٹ کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری دلیل مضبوط ہے کہ یہ پارلیمنٹ معتبر پارلیمنٹ نہیں ہے، یہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ نہیں ہے، یہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں اور دبا کے تحت لائی گئی پارلیمنٹ ہے اور آج بھی ان کے ایجنڈے پر قانون سازی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حکمرانوں کی حکمرانی کا خاتمہ کرنے کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں اور آج سب متحد ہو کر گوجرانوالہ میں قوم سے مخاطب ہوں گے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج پوری اپوزیشن متحد ہے اور یہ تاثر ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی بھی سیاسی قوت قوت کسی مفاہمت کے انتظار میں ہے یا وہ کسی سیاسی مفاہمت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور عام آدمی کے ووٹ کو دوبارہ عوام تک پہنچانے کے لیے پوری طرح متحد ہیں۔تحریک انصاف کے دھرنے سے موازنے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کا دھرنا ایک منتخب پارلیمنٹ کے خلاف تھا، اب ہم ایک ناجائز پارلیمنٹ کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت جو صورتحال بن رہی ہے اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کو دسمبر نصیب نہیں ہو سکے گا۔این آر او کے حوالے سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں اور اب عمران خان ہم سے این آر او چاہ رہے ہیں لیکن ہم نہیں دے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب جو صورتحال بننے جا رہی ہے تو اب ان ہاوس تبدیلی کے حوالے سے سوچنے کا وقت نہیں ہے بلکہ پورے پاکستان میں عام انتخابات ہونے چاہئیں اور عوام کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنا فیصلہ خود کریں اور ان ضابطوں کے تحت کریں کہ جس میں دھاندلی کا احتمال نہ ہو۔پی ڈیم ایم کی قیادت میں تبدیلی کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس وقت ایسی کوئی بات زیر بحث نہیں ہے اس لیے اس پر بات کرنے سے توجہ ہٹ جائے گی، ہم پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں عہدوں کے لیے نہیں، مقصد کے لیے ہیں۔جب جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ امپائر کی انگلی کا انتظار کریں گے تو انہوں نے کہا کہ پہلے والی انگلی تو نکلے ناں، پھر دوسری انگلی کی بات ہو گی۔مولانا فضل الرحمن نے کراچی میں مولانا عادل خان کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم جتنا سیاسی عمل کو آگے بڑھائیں گے، جتنا طاقتور بنائیں گے اتنا ہی فرقہ واریت جیسی چیزیں تحلیل ہوتی جائیں گی، اگر فرقہ واریت پیدا ہوتی ہے تو سیاسی عمل ہی اس پر قابو پا سکتا ہے اور اس خلیج کو پرکر سکتا ہے، پاکستان مغربی آقاوں کا نہیں بلکہ پاکستانیوں کا ہے۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ پارلیمنٹ میں دو سال میں اگرکوئی قانون سازی ہوئی ہے تو وہ بھی ایف اے ٹی ایف اے کے تحت ہوئی ہے، یہ عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ نہیں بلکہ عالمی اداروں کی سازش کے تحت لائی گئی پارلیمنٹ ہے۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا عمران خان اورطاہرالقادری کا دھرنا منتخب پارلیمنٹ کے خلاف تھا، ہمارا احتجاج غیرمنتخب پارلیمنٹ کے خلاف ہے

Comments

comments