لاہور ہائیکورٹ نے گوجرانوالہ جلسے کے لیے مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی گرفتاری اور راستے بند کرنے کیخلاف درخواستیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے بیان پر نمٹا دیں.

  • IMG_20200603_125539.jpg

لاہور ہائیکورٹ نے گوجرانوالہ جلسے کے لیے مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی گرفتاری اور راستے بند کرنے کیخلاف درخواستیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے بیان پر نمٹا دیں. ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے یقین دہانی کرائی کہ کوئی غیر قانونی اقدام نہیں ہوگا

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مسعود عابد نقوی نے عنیزہ فاطمہ سمیت دیگر کی ایک ہی نوعیت کی تین مختلف درخواستوں پر سماعت کی جس میں مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی گرفتاری اور راستے بند کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا. ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ گوجرنوالہ میں پر امن جلسہ کی اجازت دیدی ہے اور کسی کارکن کو گرفتار نہیں کیا گیا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے یقین دہانی کرائی کہ کوئی غیر قانونی کام نہیں ہو گا ۔ درخواست گزاروں کے وکیل رانا اسد اللہ خاں نے بتایا کہ انتظامیہ نے رات تین بجے گرفتار لوگ چھوڑے اور راستے کھولنے کا کہہ دیا.انتظامیہ مزاکرات پر عدالت کی وجہ سے مجبور ہوئے. رانا اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ ایڈووکیٹ جنرل کے بیان سے مطمئن ہیں.

Comments

comments