علماء کمیٹی کامولانا ڈاکٹر عادل خان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف 16 اکتوبر کو ملک بھر میں یوم احتجاج اور پر امن ہڑتال کا اعلان

کراچی علماء کمیٹی نے اپنے سربراہ مولانا ڈاکٹر عادل خان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف 16 اکتوبر کو ملک بھر میں یوم احتجاج اور پر امن ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا ڈاکٹرعادل خان کی شہادت کو ہم بھول نہیں سکتے ، قاتلوں کی گرفتاری کیلئے کوئی اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں ،ہم سخت احتجاج پر اب مجبور ہوئے ہیں ، ہم نے 48 گھنٹے کا جو الٹی میٹم دیا تھا وہ بھی پورا چکاہے۔یہ اعلان کراچی علماء کمیٹی کے طویل اجلاس کے بعد منگل کی شام مقامی ریسٹورنٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کراچی علماء کمیٹی کے مرکزی رہنماء قاری اللہ داد نے کیا۔ اس موقع پرقائم مقام سربراہ مولانا اقبال اللہ ،مولانا حضرت ولی ،مولانا اورنگزیب فاروقی ،مفتی حماد اللہ مدنی ، مولانا طیب ، مولانا سیف اللہ ربانی ، مولانا تاج محمد حنفی ، حافظ احمد علی ، مولانا قاسم عبداللہ اور دیگر بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق قبل ازیں ہونے والے طویل اجلاس میں مولانا ڈاکٹر قاسم محمود ،مولانا طلحہ رحمانی ، قاری محمد عثمان، مولانا منظور مینگل ، مفتی محمد زبیر ،مولانا عمر صادق ، مولانا احمد یار خان ، مولانا ابراہیم مظہر اور دیگر علماء سے مشاورت کی گئی۔ قاری اللہ دان نے کہاکہ تمام علماء سے مشاورت کی گئی اور فیصلہ کیاگیا ہے کہ جمعہ (16 اکتوبر )کو کراچی علماء کمیٹی سربراہ مولانا ڈاکٹر عادل خان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف احتجاج پر امن ہڑتال کی جائے گی۔ تمام مکاتب فکر کے جید علماء اور تمام مذہبی جماعتوں کے قائدین اہل مدارس ، تنظیمات مدارس کے قائدین سے مشاورت کے بعد کراچی علماء کمیٹی نے ملک بھر میں پرامن ہڑتال اور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے پوری قوم،تاجر براداری ،سیاسی تنظیموں اور شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ اس پرامن احتجاج میں حصہ ضرور لیں۔اجلاس میں جمیعت علماء اسلام ،اہلسنت والجماعت ،جمیعت علماء اسلام (ف)،اشاعت التوحید والسنتہ،سنی علماء کونسل ،متحدہ دینی محاذ ،انجمن دعوت اہلسنت ،تنظیم العلماء کراچی پاکستان ،سنی مجلس عمل ،مجلس احرار سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا دست وبازو کھویا ہے ہم مزید لاشیں اٹھانے کے متحمل نہیں شیخ الحدیث حضرت مولانا عادل خان کے قاتلوں کو گرفتار کیاجائے۔عرصہ دراز سے علماء کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی کسی ایک عالم کے قاتل کو گرفتار نہیں کیا گیا، وفاقی اور صوبائی حکومت مولانا عادل خان کے قاتلوں کیخلاف کاروائی تیز کرے۔ ملک کے ایسے عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو فرقہ واریت کو ہواد یکر ملک کو انارکی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں ، ہم نے ایک عظیم شخصیت کھوئی ہے پر امن احتجاج ہمارا قانونی اور جمہوری حق ہے ، مولانا عادل خان شہید کی شہادت کو 48گھنٹے پورے ہوچکے ہیں لیکن اب تک قاتلوں کی گرفتاری کیلئے کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔

Comments

comments