بانی پاکستان کی ہدایات پر عمل کیا جاتا تو نہ سقوطِ ڈھاکہ ہوتا، نہ 12 اکتوبر جیسی بغاوت،نواز شریف

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر 72 سال پہلے بانی پاکستان محمد علی جناح کی سیاست میں فوج کے کردار پر دی گئی ہدایات پر عمل کیا گیا ہوتا تو نہ مشرقی پاکستان الگ ہوتا اور نہ ہی 12 اکتوبر 1999 جیسی ‘بغاوت’ ہوتی۔انھوں نے ٹوئٹر پر یہ بیان پیرکو اپنی دوسری حکومت کے خاتمے کے 21 سال مکمل ہونے پر جاری کیا۔یاد رہے کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔اس کے بعد پرویز مشرف سنہ 2008 تک صدر کے عہدے پر براجمان رہے تھے جبکہ نواز شریف 2013 میں تیسری مرتبہ وزیرِ اعظم بنے۔اپنی ٹویٹ میں نواز شریف نے وہ تاریخی تصویر شامل کی جس میں فوج کے اہلکار 12 اکتوبر 1999 کو اسلام آباد میں سرکاری ٹی وی کا گیٹ پھلانگ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی نواز شریف نے محمد علی جناح کا ایک قول شامل کیا جس میں انھوں نے کہا تھا: ‘مت بھولیں کہ مسلح افواج عوام کی خادم ہیں۔ آپ قومی پالیسی ساز نہیں ہیں، یہ ہم سویلین ہیں جن کا کام ان مسائل پر فیصلہ کرنا ہے اور آپ کا کام ان فرائض کو بجا لینا ہے جو آپ کو سونپے گئے ہیں۔’نواز شریف نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ اگر ان ہدایات پر عمل کیا جاتا تو ‘نہ ہی عوام کے منتخب وزیرِ اعظم کو گرفتار کرنے کے لیے پرائم منسٹر ہاوس فتح کیا جاتا۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں ‘ووٹ کو عزت دو۔’یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کچھ روز پہلے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج تب ہوگی جب آئین کی پاسداری کرے گی۔نواز شریف کی پیر کے روز کی جانے والی ٹویٹ اس تسلسل کا حصہ ہے جس میں انھوں نے بار بار پاکستان میں فوج کے آئینی کردار پر بات کرتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اس ادارے کو سیاست میں مداخلت نھیں کرنی چاہیے۔

Comments

comments