نواز شریف کی تقاریر پر پابندی عائد کرنے کے لیے دائر درخواست پرسماعت کل ہوگی

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی تقاریر پر پابندی عائد کرنے کے لیے دائر درخواست سماعت کیلئے منظور ہوگئی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ 5 اکتوبر کو نواز شریف کی تقاریر پر پابندی عائد کرنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت کریں گے۔ نواز شریف کی تقاریر پر پابندی عائد کرنے کے لیے شہری عامر عزیز نے درخواست دائر کردی، درخواست گزار نے درخواست میں نواز شریف، چیئرمین پیمرا، شہباز شریف اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی تقاریر ٹی وی پر دکھانے سے روکا جائے۔درخواست میں موقف پیش کیا گیا کہ نواز شریف نے حالیہ تقریر میں ملکی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی، ان کی تقریر کے باعث ملکی اداروں کا وقار مجروح ہوا، نواز شریف عدالت سے سزا یافتہ مجرم ہیں اور وہ میڈیا پر تقریر نہیں کرسکتے، عدالت نفرت آمیز تقریر پر نواز شریف پر پابندی عائد کرے، عدالت پیمرا کو پابند کرے کہ نواز شریف کی تقریر آئندہ ٹی وی چینل پر نشر نہ ہو۔شہری کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کرلی گئی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ 5 اکتوبر کو سماعت کریں گے۔دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکیل عدنان اقبال نے بھی درخواست دائر کی، جس میں نواز شریف،شہباز شریف، سیکرٹری قانون، چیئرمین پیمرا کو فریق بناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف جان لیوا بیماری کا بہانہ بنا کر طبی بنیادوں پر ضمانت لے کر باہر گئے، اور سزا یافتہ مجرم نے وڈیو لنک کے ذریعے آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کیا، انہوں نے ریاستی اداروں کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔درخواست میں استدعا کرتے ہوئے موقف پیش کیا گیا ہے کہ نواز شریف نے حالیہ تقریر میں ملکی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کی، نواز شریف کی تقریر کے باعث ملکی اداروں کا وقار مجروح ہوا، عدالت نفرت آمیز تقریر پر نواز شریف پر پابندی عائد کرے، اور پیمرا کو پابند کرے کہ نواز شریف کی تقریر آئندہ ٹی وی چینل پر نشر نہ ہو، جب کہ نوازشریف اور شہباز شریف کی تقاریر کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کا حکم دیا جائے

Comments

comments