سابق آئی ایس آئی چیف ‏جنرل ظہیر الاسلام نے کہا اگر استعفی نہیں دینگے تو مارشل لا لگ سکتا ہے، میں نے کہا کہ استعفی نہیں دونگا جو کرنا ہے کرلو۔

  • 3D137B73-BCCC-43F3-892C-40705C6025F4.jpeg

img_20200930_200017
نواز شریف نے آج بہت عرصے بعد اس بات کا خود انکشاف کیا ہے عوام کی یاد دہانی کے لئے اس بات کا انکشاف مشاہداللہ نے 2015 میں کر دیا تھا کہ 2014ء میں دھرنے کے دوران دارالحکومت میں انتشار پھلا کر جنرل ظہیر السلام اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے،
مشاہد اللہ کے دعوے کی اس وقت وزیراعظم ہاؤس نے بھی ترید کر دی تھی۔ مسلم لیگ ن کے رہنماء سینیٹر مشاہد اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ظہیر السلام اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے،
بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے مشاہد اللہ نے کہا تھا آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ظہیر السلام نے ایک سازش تیار کی تھی جس کے تحت فوجی اور سول تختہ الٹنا چاہتے تھے۔
انٹیلی جنس بیورو ”آئی بی“نے ظہیر السلام کے ٹیلی فونک گفتگو کو ٹیپ کیا جس میں لوگوں کو احکام جاری کر رہے تھے کہ دھرنے میں کس طرح افراتفری پھیلانی ہے اور کس طرح وزیر اعظم ہاﺅس پر حملہ کرنا ہے ۔ مشاہد اللہ نے انکشاف کیا تھا کہ آئی بی کی جانب سے ریکارڈ کی گئی یہ گفتگو وزیر اعظم نواز شریف نے 2014 ء میں 28 اگست کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سنائی گئی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف ٹیلی فونک گفتگو سن کر حیران رہ گئے جس کے بعد آرمی چیف نے جنرل ظہیر السلام کو طلب کر کے یہ ٹیلی فونک گفتگو سنائی جس پر جنرل ظہیر السلام نے اپنی اس گفتگو کی تصدیق کی تھی۔
آرمی چیف نے جنرل ظہیر السلام کی تصدیق کے بعد انہیں میٹنگ سے جانے کی اجازت دے دی۔ مشاہد اللہ نے کہا کہ اس وقت فوج بطور ادارہ حکومت گرانے کی سازش میں ملوث نہیں تھی بلکہ سازش کرنے والوں نے جنرل راحیل شریف اور نواز شریف کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی تھی،
جنرل راحیل شریف نے دو ماہ بعد جنرل ظہیر الاسلام عباسی کو اپنے عہدے سے جبری ہٹوا دیا تھا۔ مشاہد اللہ نے یہ بھی کہا تھا کہ لندن پلان والی طاہر القادری اور عمران خان کی ملاقات میں بھی آئی ایس آئی کے لوگ موجود تھے۔
اس کے بعد 2019 میں سابق آرمی چیف آصف نواز کے بھائی ریسرچ اسکالر شجاع نواز نے بھی اپنی کتاب “دی بیٹل فار پاکستان” کے صفحہ 262 پر دعوی کیا ہے کہ سابق امریکی سفیر نے شجاع نواز کو بتایا کہ ستمبر 2014 میں ہمیں اطلاع ملی کہ جنرل ظہیر الاسلام پاکستان میں فوجی بغاوت کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس کے لئے اس کے کور کمانڈرز سے مشورے جاری ہیں مگر اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس منصوبے کو پنپنے نہیں دیا اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو ان کے عہدے سے جبری ہٹا دیا…!
ویسے جنرل ظہیر الاسلام 1996ء میں بھی فوج سازشی گروپ کے ساتھ بھی ملوث تھے جو کور کمانڈر آفس کو آرمی چیف وزیراعظم بینظیر شہید سمیت مارٹر گولوں سے اڑانا چاہتے تھے لیکن ناکام رہے تھے

“صوفی محمد سے متاثر اس گروہ کے جنرل ملک میں جبری فوجی انقلاب ذریعے شریعت نافذ کرنے کے داعی رہے ہیں لیکن ہر مرتبہ ناکام رہے ہیں”

Comments

comments