ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو پر پابندی کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت، اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے سے 5 نومبر کوتفصیلات طلب

سندھ ہائیکورٹ نے ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو پر پابندی کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت، اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے سے 5 نومبر کوتفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا ہے کہ بتایا جائے، دور حاضر میں ڈیجیٹل کرنسی جیسی جدید ٹیکنالوجی سے فوائد حاصل کیوں نہیں کیے جارہے۔ بدھ کو سندھ ہائی کورٹ میں ڈیجیٹل کرنسی کرپٹو پر پابندی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے کرپٹو کرنسی پر اجازت نہ دینے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا جدید ٹیکنالوجی میں بہت آگے چلی گئی ہے اور ہم وہیں کھڑے ہیں، دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی چل رہی ہے پاکستان میں کیوں بند یے۔ اسٹیٹ بینک کے وکیل نے بتایا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی نہیں ہے، اسے ریگولر نہیں کیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ اب تک کرپٹو کرنسی کو ریگولر کیوں نہیں کیا گیا، اگر کرپٹو کرنسی میں کام کرنا غیر قانونی نہیں ہے تو اجازت کیوں نہیں دی جاری، کرپٹو کرنسی سے متعلق بین الاقوامی قوانین پیش کیے جائیں، درخواست میں مین فریق اسٹیٹ بنک ہے اسے جواب دینا ہوگا۔ درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی اے ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے، ایف آئی اے کو کارروائیوں سے روکا جائے۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ ہم درخواست میں حتمی فیصلہ جاری کریں گے، ضمنی ریلیف نہیں دے سکتے۔ دوران سماعت اسٹیٹ بینک کے تحریری جواب میں ملک میں ڈیجیٹل کرنسی کے اطلاق کی مخالفت کی گئی۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ اسٹیٹ بینک پاکستان کا واحد مالیاتی ادارہ ہے جو لین دین اور کرنسی کے معاملات کو ریگولیٹ کرتا ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 کے تحت صرف اسٹیٹ بینک کی کرنسی نوٹ جاری کر سکتا ہے، اسٹیٹ بینک کو بینکوں اور دیگر معاملات میں مکمل اختیار حاصل ہے، اسٹیٹ بینک ڈیجٹل کرنسی کے حوالے سے صارفین کو ایڈوئزری جاری کر چکا ہے، ڈیجیٹل کرنسی میں لین دین سے متعلق کوئی لیگل ٹینڈر نہیں کیا گیا، ویلیو ٹرانسفر سسٹم ایکس کرنٹ کو ایک بینک کے ساتھ مل کر پاکستان میں کام کرنے کی اجازات دی جا چکی ہے، کرپٹو پر پابندی پاکستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری رک جانیکا دعویٰ غلط ہے، پاکستان نے اس لئے بھی اپنا الیکٹرونک پیمنٹ سسٹم مزید محفوظ رکھا ہے، بین الاقوامی ادارے ماسٹر کارڈ اور ویزا پاکستان میں کام کررہے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست پر وفاقی حکومت، اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے سے 5 نومبر کوتفصیلات طلب کرلیں۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا ہے کہ بتایا جائے، دور حاضر میں ڈیجیٹل کرنسی جیسی جدید ٹیکنالوجی سے فوائد حاصل کیوں نہیں کیے جارہے۔

Comments

comments