شہبازشریف کے ساتھ سلوک پر دکھی ہوں ، گرفتار تو عاصم سلیم باجوہ کو ہونا چاہئے تھا لیکن گرفتار شہبازشریف کو کرلیاگیا ،نوازشریف اپنے ملک میں غلام بن کر نہیں رہ سکتا، پاکستانی بن کر رہوں گا ذلت کی زندگی ہم نہیں جی سکتے، عزت کی زندگی گزاریں گے

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدو سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ شہبازشریف کے ساتھ سلوک پر دکھی ہوں ـجو کچھ ہورہا ہے اس سے ہمارے جذبے اور بڑھے ہیں ـانشاء االلہ ہم اپنی جدوجہد مزید تیز کریں گے ـہمیں اس پرفخر ہے کہ ہمارے ساتھی جرات سے حالات کا مقابلہ کررہے ہیں ـانہوں نے کہا کہ گرفتار تو عاصم سلیم باجوہ کو ہونا چاہئے تھا لیکن گرفتار شہبازشریف کو کرلیاگیا ـ اپنے ملک میں غلام بن کر نہیں رہ سکتا، پاکستانی بن کر رہوں گا ،ووٹوک فیصلہ کیا ہے کہ ذلت کی زندگی ہم نہیں جی سکتے، عزت کی زندگی گزاریں گے ـسلیکٹڈ وزیر اعظم کولانے والے پچھتا تو رہے ہوں گے ، آج کے دور میں لوگ اپنی آمدن میں اخراجات پورے نہیں کرپارہے، یہ ظلم وزیادتی کی انتہائ ہے ـعوام بجلی اور گیس کا بل دینے کے قابل نہیں رہے،لوگوں کی سفید پوشی کا جنازہ نکال دیاگیا ہے، جان بچانے والی ادویات بھی عوام کی رسائی سے باہر ہوچکی ہیں آ رٹی ایس کی دھاندلی کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر قبول نہیں کرسکتے ـکسی کا حق چھین کر کسی اور کی جھولی میں گرا دیاجائےـان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ ن کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کیاـ میاں نواز شریف نے کہا کہ ہمارے بچوں کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے، تاریخ میں ایسا سیاہ رویہ نہیں ہوا ـشہبازشریف نے بے مثال جرات وبہادری اور استقلال کا مظاہرہ کیا ہےـشہبازشریف کو سیلوٹ کرتا ہوں کہ انہوں نے دیانتداری سے قوم اور ملک کی خدمت کی ـانہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے پنجاب میں دن رات محنت کرکے بجلی کے کارخانے لگائے ـشہبازشریف، خواجہ آصف اور شاہد خاقان عباسی اور ٹیم کے سر یہ سہرا ہے ـاسحاق ڈار نے وسائل مہیا کئے، قوم کی خدمت پر اس ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ـان سرکاری افسران کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے توانائی کی قلت ختم کرنے میں کردار ادا کیاـ شہبازشریف مرد میدان ہیں، انہوں نے مشکلات کے سامنے سرنہیں جھکایا ـشہبازشریف نے ہمارے بیانیے کو تقویت دینے میں کردار ادا کیا ـاپنے بھائی پر بہت فخر ہے جس نے وفاداری اور نظریاتی وابستگی کی مثال قائم کیـانہوں نے کہا کہ گرفتار تو عاصم سلیم باجوہ کو ہونا چاہئے تھا لیکن گرفتار شہبازشریف کو کرلیاگیا ـعاصم سلیم باجوہ نے اربوں روپے کیسے بنالئے؟ اس کا حساب کسی نے نہیں پوچھا ـعاصم سلیم باجوہ کو کلین چٹ دے دی گئی، جس طرح ثاقب نثار نے بنی گالہ کو دے دی تھی ـباطل کے خلاف کھڑے ہوں تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا، یہ ہمارے دین کی تلقین ہے ـمشکل کو برداشت کرکے کردار اد اکریں گے تو قوم کو تمام مصیبتوں سے نجات مل جائے گیـ ان تمام چیزوں کا حساب دینا ہوگا، انشائاللہ وہ وقت دور نہیں ـاپنے ملک میں غلام بن کر نہیں رہ سکتا، پاکستانی بن کر رہوں گا ـمیں غلام بن کر نہیں رہوں گا، ان چیزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرچکا ہوںـدوٹوک فیصلہ کیا ہے کہ ذلت کی زندگی ہم نہیں جی سکتے، عزت کی زندگی گزاریں گے ـاللہ تعالی ہمیں عزت کی زندگی گزارنے کا موقع عطا فرمائے گا، انشائاللہـ ظلم، زیادتیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا قوم نے فیصلہ کرلیا تو تبدیلی سالوں میں نہیں چند مہینوں اور ہفتوں میں آئے گی ـتبدیلی ضرور آئے گی سلیکٹڈ وزیراعظم کو لے آئے ہیں جو نااہل اور پاگل آدمی ہے ـجسے لائے ہیں اس کا ذہن خالی ہے، پچھتا تو رہے ہوں گے، آپ لائے، آپ کو ہی جواب دینا ہوگا ـیہ بندہ تو قصور وار ہے ہی لیکن لانے والے اصل قصور وار ہیں، اس کا جواب بھی انہیں ہی دینا ہوگا ـپی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ اس کا جواب دینا ہوگاـ روزانہ بنیادوں پر پارٹی کو دستیاب رہوں گا، پارٹی جو فرض سونپے گی، ادا کروں گا ـآپ کی مشاورت کا منتظر ہوں کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے کیا حکمت عملی ہونی چاہئے ـحافظ حفیظ الرحمن اور راجہ فاروق حیدر کو بھی بہت سلام کرتا ہوں، ان کی رائے بہت اہم ہےـ سکھر حیدرآباد کا موٹر وے کا ایک حصہ رہ گیا ہےـاگر دورانیہ مکمل ہونے دیاجاتا تو صورتحال آج کہیں مزید بہتر ہوتی ـچار سال کی مدت میں رکاوٹوں کے باوجود بھی ہم نے بھرپور کامیابیاں حاصل کیں ـدھرنوں کے باوجود ہم نے ترقیاتی کاموں کو مکمل کیا ـ5.8 فیصد پر گروتھ ریٹ چھوڑ کر گئے تھے جو آج منفی ہوچکا ہے ـہم فاٹف کی گرے لسٹ سے پاکستان کو وائٹ میں لے کر آئے ـصرف پنجاب نہیں بلوچستان میں بھی الحمداللہ ہم نے شاہراہیں بنائیں ـڈیرہ اسماعیل خان سے کوئٹہ تک شاہراہ زیرتعمیر ہے ـگوادر کو ترقی دی، شاہراہوں سے ملایا، سی پیک معمولی منصوبہ نہیں ـہزارہ موٹر وے دیکھ لیں، ہم نے پورے پاکستان کو ترقی دی، کوئی امتیاز نہیں برتا ـاحسن اقبال نے اس ضمن میں بہت کام کیا، میں ان کی بھی تحسین کرتا ہوںـ سب کو معلوم ہے کہ ہم نے کتنی محنت، ایمانداری سے کاوشیں کیں اور ملک کو ترقی دی ـپاکستان کے عوام ہمارے دور میں سکھ کی زندگی گزار رہے تھے ـسستی اشیائلوگوں کو دستیاب تھیں، مہنگائی کا مسئلہ حل ہوگیا تھا ـآج عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے، بجلی، گیس کے بل ان پر بم بن کر گر رہے ہیں ـہماری جدوجہد ذات کے لئے نہیں بلکہ بائیس کروڑ عوام کے لئے ہےـ ہمیں جدوجہد کرنا ہے کیونکہ بائیس کروڑ عوام کی مشکلات اور دکھوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہےـ سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام نے جو کیا سب کو معلوم ہے ـظہیرالاسلام نے کہاکہ نوازشریف استعفی دیں، یہ دھرنوں کے دوران کی بات ہے ـآدھی رات کو مجھے پیغام ملا کہ اگر استعفی نہ دیا تو مارشل لائبھی لگ سکتا ہے ـمیں نے کہاکہ استعفی نہیں دوں گا جو کرنا ہے کر لوـ کہاجاتا ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی تو مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کا کیا مطلب ہے؟ـمولانا عبدالغفور حیدری کو جنرل باجوہ نے کہاکہ ہم نوازشریف کے خلاف کارروائی کررہے ہیں، آپ بیچ میں نہ آئیںـکیا مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کی کوئی تردید ہوئی؟ اس بیان کا کیا مطلب ہے؟ـجسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بار کے اجلاس میں کیا کہا؟ کیا اس پر کوئی کارروائی ہوئی؟میاں نواز شریف نے کہا کہ آج کے دور میں لوگ اپنی آمدن میں اخراجات پورے نہیں کرپارہے، یہ ظلم وزیادتی کی انتہائ ہے ـعوام بجلی اور گیس کا بل دینے کے قابل نہیں رہے، دو وقت کی روٹی امتحان بن گئی ہے ـلوگوں کی سفید پوشی کا جنازہ نکال دیاگیا ہے، بچوں کی سکول کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں ـدوائیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ـجان بچانے والی ادویات بھی عوام کی رسائی سے باہر ہوچکی ہیں ـآج بتادے کوئی کہ کیسے عام آدمی زندگی اپنی گزر بسر کرے ـآٹے کی قیمت آسمان پر ہے، اوپر سے آٹا ناپید ہونے والا ہے کیونکہ گندم ہی امپورٹ ہی نہیں کی گئیـ آج کے دور میں لوگ اپنی آمدن میں اخراجات پورے نہیں کرپارہے، یہ ظلم وزیادتی کی انتہائ ہے ـعوام بجلی اور گیس کا بل دینے کے قابل نہیں رہے، دو وقت کی روٹی امتحان بن گئی ہے ـلوگوں کی سفید پوشی کا جنازہ نکال دیاگیا ہے، بچوں کی سکول کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں ـدوائیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ـجان بچانے والی ادویات بھی عوام کی رسائی سے باہر ہوچکی ہیں ـآج بتادے کوئی کہ کیسے عام آدمی زندگی اپنی گزر بسر کرے ـآٹے کی قیمت آسمان پر ہے، اوپر سے آٹا ناپید ہونے والا ہے کیونکہ گندم ہی امپورٹ ہی نہیں کی گئیـہمارے دور میں گندم ایکسپورٹ ہوتی تھی، آج امپورٹ ہورہی ہے ـامپورٹ پر کثیر زرمبادلہ درکار ہوگا، یہ سرمایہ کس کی جیب سے آئے گا؟ چینی کی قیمتیں دیکھ لیں، عوام کو کس طرح چینی کے لئے محتاج بنادیاگیا ہے ـشہبازشریف کو شاباش ہے کہ انہوں نے انتہائی دباو کے باوجود چینی کی قیمت بڑھنے نہیں دی تھی ـہم جب اقتدار میں آئے تھے تو 50 روپے کلو چینی تھی، اقتدار سے گئے تو چینی کی یہی قیمت تھی ـآج کوئی ہے جو ان مسائل کو دیکھے؟ کوئی سوال پوچھے؟ کوئی احتساب کرے؟ـہم حق اور سچ پر ہیں تو ہمیں ان مظالم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ اور تامل نہیں ہونا چاہئےـالیکشن میں دھاندلی ہوئی، کیا ہم اسے مان لیں؟ میرا ضمیر نہیں مانتا ـانگریزوں کی غلامی سے نکل کر ہم اپنوں کی غلامی میں آگئے ہیںـ آج پارلیمان نمائندے نہیں بلکہ کوئی اور چلارہا ہے، کوئی اور بتاتا ہے کہ کون سا بل لانا ہے؟ کیا کرنا ہے؟یہ سب باتیں سوچنے والی ہیں ـصحافی کو شاباش ہے جس نے سوال پوچھا کہ جج سے ملنے کیوں آئے ہیں؟سوال صحیح پوچھے جارہے تھے، دل میں چور تھا، اس لئے جواب نہیں دیا، کتاب سے منہ چھپایاـجج ارشد ملک نے تسلیم کرلیا کہ میں نے دباو میں فیصلہ سنایا ـجج ارشد ملک برطرف ہوگیا لیکن فیصلہ برقرار ہے، الٹی گنگا بہہ رہی ہےـعوام کو مہنگائی سے کچل دیاگیا ہےـانہوں نے کہا کہ آرٹی ایس کی دھاندلی کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر قبول نہیں کرسکتے ـکسی کا حق چھین کر کسی اور کی جھولی میں گرا دیاجائے، یہ ظلم ہے، قبول نہیں کرسکتے ـستر سال سے یہ سب چل رہا ہے، کیا ایسے ہی چلتے رہنے دیں، ہمارا فیصلہ کہ نہیںـاب ہمیں اس کا دوٹوک طورپر فیصلہ کرنا چاہئے ـعدالتوں پر دباو ڈال کر مرضی کے فیصلے لئے جاتے ہیں؟ کیا ہم ایسے ہی یہ سب چلنے دیں؟ـاس سے بڑی اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لئے جائیں ـپارلیمنٹ کو کٹھ پتلی اور ربڑ سٹیمپ بنادیاگیا ہےـاللہ تعالی کے فضل وکرم سے مجھے ہمیشہ کامیابی ملی ہے ـصرف دو بار پارلیمنٹ کا رکن نہیں رہا ـمشرف کے دور میں جلاوطنی میں تھے تو پارلیمان کا رکن نہیں تھا ـآج کے دور میں ایک بار پھر پارلیمان کا رکن نہیں ہوںـانہوںنے کہا کہ اپنی عزت کو ملحوظ خاطر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے، عزت پر سمجھوتہ کرکے سیاست نہیں ہوسکتی ـعزت نہ ہو تو پھر کون سی سیاست اور کیسی سیاست؟آج کا دن ان تمام سوالات پر سوچنے کا دن ہے ـقوم کے تعاون اور دعاوں سے ایک مخلص شخص کو تین بار وزیراعظم بنایا ـ قوم نے جیسے تین بار وزیراعظم منتخب کیا، اس شخص کے ساتھ یہ سلوک کیاگیا؟ـانہوںنے کہا کہ پارٹی سے مشاور ت کے لئے ہروقت دستیاب رہوں گاـ

Comments

comments