پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں لوٹ مار عروج پر پہنچ گئی پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کے ادارے کو لوٹ مار کے لیئے استعمال کیئے جانے لگا پاکستان منرل ڈویلپنٹ کارپوریشن تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

  • 4E5D88A5-915F-43DD-8490-4CE2C21EAA23.jpeg

پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن میں لوٹ مار عروج پر پہنچ گئی

پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کے ادارے کو لوٹ مار کے لیئے استعمال کیئے جانے لگا

پاکستان منرل ڈویلپنٹ کارپوریشن تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

محمدالیاس کا جی ایم کا عہدہ حاصل کرنے کی کہانی میں اہم انکاشافات

سروس رولز کی سنھین خلاف ورزیوں پر پٹرولیم ڈویژن نے آنکھیں بند کر لی

پی ایم ڈی سی میں اعلی عہدوں پر قبضے کے لیئے سینئیرز کو نظر انداز کر دیا گیا

گریڈ 16 کے محمد الیاس معجزانہ ترقیاں کرتے 11 سال میں 21 گریڈ مین پہنچ گئے

جبکی سروس قوانین کے تحت 21 گریڈ کے لیئے 22 سال کی سروس درکار ہوتی ہے

محمد الیاس اس وقت گریڈ 21 کے جی ایم کے عہدے پر فائز ہیں

2007 میں محمد الیاس کو سٹینو گرافر سے اسسٹنٹ منیجر کے عہدے پر ترقی دی گئی

2010 میں محمد الیاس کو اسسٹنٹ مینیجر سے ڈپٹی مینیجر کے عہدے پر ترقی دی گئی

اسٹنٹ مینیجر کے عہدے سے ڈپٹی مینیجر کے لیئے 7 سال کی سروس درکار ہوتی ہے

محمد الیاس کر سروس قوانین کے برعکس 4 سال میں اگلے عہدے سے نواز دیا گیا

2013 میں دوبارہ 3 سال کے وقفے سے محمد الیاس کو ڈپٹی مینیجر سے مینیجر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی

ڈپٹی مینیجر سے مینیجر کے عہدے پر ترقی کے لیئے 5 سال کی سروس درکار ہوتی ہیں

محمد الیاس کو 3 سال سے بھی کم عرصے میں اگلے عہدے پر ترقی دے کر سروس قوانین کا مزاق اڑایا گیا

2016 میں محمد الیاس کو ڈپٹی جنرل مینیجر پر دوبارہ ترقی دے دی گئی

مینیجر سے ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے کے لیئے 5 سال کی سروس درکار ہوتی ہے

سروس قوانین کا مزاق اڑاتے ہوئے ایک دفعہ پھر ترقی دینا جرائم کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہے

2018 میں دو سال کے مختصر عرصے کے بعد محمد الیاس تیزی سے ترقی پاتے ہوئے جنرل مینیجر کے عہدے پر براجمان ہوگئے

سروس قوانین کے تحت جی ایم کے عہدے کے لیئے کم سے کم 5 سال کی مدت ملازمت مکمل کرنے کے ضرورت ہوتی ہے

محمد الیاس نے دنوں کا سفر گنٹوں میں طے کر کے ادارے میں قوانین کو توڑنے کا ریکارڈ حاصل کیا

اس سارے سفر میں بورڈ آف ڈائریکٹرز نے لازوال کردار ادا کیا

اس عرصے میں 9 ڈائریکٹرز میں سے صرف 3 ڈائریکٹرز موجود تھے

5 ڈائریکٹرز ریٹائرڈ جبکہ 1 بورڈ آف ڈائریکٹر کا عہدہ خالی تھا

3 ڈائریکٹرز میں ایمل خان اچکزئی، ارشاد علی خان اور واثق محمود شامل تھے

جنرل مینیجر کے عہدے کے لیئے 22 سال کی سروس درکار ہوتی ہیں

جنرل مینیجر کے عہدے کے لیئے ایم بی اے پبلک ایڈمینسٹریشن یا ایل ایل بی تعلیمی درکار ہو ہوتی ہے

جبکہ قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے 11 سال کے عرصے میں موجودہ جی ایم الیاس کو ترقی سے نوازا گیا

موجودہ جی ایم کی غیر قانونی ترقی کے خلاف چئیرمین نیب، بورڈ آف ڈائریکٹر اور چیف انٹرنل آڈیٹر کو درخواستیں دی گئی

موجودہ جی ایم کے نامعلوم طاقتوں کی پشت پناہی کے باعث کسی فورم پر شنوائی نا ہوئی

جی ایم کی عجب ترقی کی غضب کہانی کے انکاشافات جاری ہیں

Comments

comments