استنبول کے نائٹ کلب پر حملے کی مجرم کو 40 بار عمر قید کی سزا

  • IMG_20200909_032146.jpg

ترکی کی ایک عدالت نے استنبول میں ایک نائٹ کلب پر حملہ کر کے 39 افراد کو ہلاک کرنے کے مجرم کو عمر قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔عبدالقادر ماشارپیوف جو ازبکستان کے شہری ہیں، جنہیں اس حملے کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور ان چالیس مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی۔استنبول میں نائٹ کلب پر حملے کے مقدمے کی سماعت گزشتہ تین سال سے جاری تھی۔ یہ حملہ سنہ 2017 میں نیا سال شروع ہونے کے صرف ایک گھنٹے بعد کیا گیا تھا۔ دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ترکی کی نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق عبدالقادر ماشارپیوف کو عمدا قتل کرنے اور ترکی کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔ انھیں جیل سے عارضی رہائی یا ‘پیرول’ کی سہولت بھی حاصل نہیں ہو گی۔ان قید کی سزاوں کے علاوہ انھیں 79 افراد کو زخمی کرنے اور بغیر لائسنس کے اسلحہ رکھنے کے جرم میں مزید 1368 سال قید میں گزارنے ہوں گے۔ اس حملے میں ملوث ایک اور شخص الیاس ماماشرپیوف کو اس 1400 سال قید کی سزا سنائی گئی۔مجموعی طور پر اس دہشت گرد تنظیم کے 48 افراد کو قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں جبکہ گیارہ افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔نیا سال شروع ہونے کے بعد تقریبا رات کے ڈیڑھ بجے جب لوگ نئے سال کا جشن منا رہے تھے، ایک مسلح شخص نے استنبول کے شمالی حصہ میں واقع ایک نائٹ کلب رینا میں فائرنگ شروع کر دی۔ماشارپیوف ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر نائٹ کلب پہنچے انھوں نے گاڑی کی ڈکی سے ایک خود کار بندوق نکال کر نائٹ کلب کے اندر گھس گئے۔نگرانی کرنے والے کیمروں کی فوٹیج سے دیکھا جا سکتا ہے کہ کلب میں داخل ہونے سے قبل فائرنگ پارکنگ ہی میں شروع کر دی گئی اور پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں سے گولیاں ٹکرا ٹکرا کر ادھر ادھر بکھر رہی تھیں۔بے دریغ فائرنگ کے دوران ماشارپیوف نے ہیڈ کرینڈ بھی استعمال کیے اور اس دوران وہ اپنی بندوق کو لوڈ کرتے رہے۔اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں اسرائیل، فرانس، تیونس، لبنان، انڈیا، بیلجیئم، اردن اور سعودی عرب کے شہری بھی شامل تھے۔ازبکستان سے تعلق رکھنے والے اس حملہ آوور کو شدید تلاش کے بعد 17 جنوری سنہ 2017 کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ترکی میں پولیس نے دولت اسلامیہ کے مشتبہہ ٹھکانوں پر درجنوں چھاپے مارے ہیں۔ اس سال جولائی میں 27 مشتبہ افراد کو شہر میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے کے شبہ میں گرفتار کر لیا تھا۔ حکومت کا دعوی ہے کہ انہوں نے ترکی میں دولت اسلامیہ کے سرغنہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

Comments

comments