جمال خاشقجی قتل میں پانچ ملزمان کی سزائے موت ختم، 8افراد کو جیل عدالت نے 5 افراد کو 20سال قید کی سزا جبکہ 3 افراد کو 7 سے 10سال جیل کی سزا سنائی،سعودی سرکار ی میڈیا

  • IMG_20200908_013840.jpg

سعودی عرب نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث پانچ افراد کی سزائے موت کی سزا تبدیل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 8 افراد کو 7 سے 20سال کے درمیان قید کی سزا سنا دی ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق عدالت نے قتل کے الزام میں پانچ افراد کو 20سال قید کی سزا سنائی جبکہ تین افراد کو 7 سے 10سال کے درمیان قید کی سزا سنائی گئی ہے۔سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق عدالت نے 5 افراد کو 20سال قید کی سزا سنائی جبکہ 3 افراد کو 7 سے 10سال جیل کی سزا سنائی ہے۔عدالت کا حتمی فیصلہ مئی میں جمال خاشقجی کے بیٹوں کی جانب سے ملزمان کو معافی دیے جانے کے بعد سامنے آیا جس کے بعد اب ان افراد کو سزائے موت تو نہیں دی جائے گی البتہ انہیں قید میں رکھا جائے گا۔سعودی عرب کی عدالت نے اس سے قبل قتل میں ملوث پانچ افراد کو سزائے موت سنائی تھی۔2 اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصل خانے کا دورہ کرنے والے واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی لاپتہ ہو گئے تھے اور بعدازاں ترک حکام نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں سعودی عرب کے قونصل خانے میں قتل کردیا گیا تھا۔صحافی کی لاش نہیں مل سکی تھی اور رپورٹس کے مطابق ان کی لاش کے ٹکڑے کر کے نالے میں بہا دیا گیا تھا۔59سالہ واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار سعودی عرب کی پالیسیوں کے بڑے ناقد تھے اور ممکنہ طور پر اسی وجہ سے انہیں قتل کیا گیا اور ان کے قتل کا الزام سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر عائد کیا گیا تھا۔صحافی کے قتل کا حکم دینے کے حوالے سے محمد بن سلمان کے کردار پر اب بھی سوالیہ نشان برقرار ہے کیونکہ سی آئی اے سمیت دنیا کی مختلف خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد کو قتل کے اس منصوبے کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔سعودی حکومت نے ابتدائی طور پر اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا لیکن بعدازاں دبا پڑنے پر ذمے داری آپریشن کرنے والوں پر ڈال دی ہے۔ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی ایگنس کیلامرڈ نے کہا تھا کہ اس بات کے معتبر ثبوت ملے تھے کہ ولی عہد براہ راست اس قتل میں ملوث تھے اور ان کی ایما پر یہ کارروائی انجام دی گئی۔جمال خاشقجی کے قتل کے بعد بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی محمد بن سلمان پر انگلیاں اٹھائی تھیں جس سے سعود ولی عہد کی عالمی سطح پر ساکھ کو کافی دھچکا لگا تھا۔اس قتل کے بعد سعودی عرب اور اور ترکی کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے تھے اور رواں سال مارچ میں ترکی نے صحافی کے قتل کے الزام میں ولی عہد کے دو قریبی ساتھیوں سمیت 20 سعودی شہریوں پر فرد جرم عائد کی تھی۔اس فرد جرم کے مطابق سعودی عرب کے سابق ڈپٹی انٹیلی جنس چیف احمد ال اسیری پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے قتل کے لیے ہٹ ٹیم قائم کر کے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ قتل کو انجام دیا

Comments

comments