شعیہ، سنی جس طرح سے فرقہ واریت میں جا رہے ہیں ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے وزیر اعلی نے ہدایت کی ہے مذہبی فرقہ وارانہ،سوشل میڈیا پر توہین آمیز اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ناجائز اسلحہ صوبے کا مین ایشو تھا،ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کاروئی کی گئی ہیں۔راجہ بشارت

  • IMG_20200908_005827.jpg

پنجاب اسمبلی کا اجلاس 1 گھنٹہ 39 منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں محکمہ آبپاشی کے متعلقہ سوالوں کے جواببات پارلیمانی سیکرٹری چوہدری محمد اشرف رندنے دئے رکن اسمبلی ممتاز چاہنگ نے ضمنی سوال میں کہا کہ محکمہ آبپاشی کے زیر کنٹرول ریسٹ ہاوسز میں سیاست کی جار رہی ہے۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی ممتاز علی ریسٹ ہاوسز و بنگلوں میں سیاسی افراد ذیادہ تر رہتے ہیں۔ ریسٹ ہاؤسز سیاسی افراد کے زیتلر استمال کرنے کے شواہد ہے موجود ہے۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ رحیم یار خان میں شہر میں اس وقت ایک کینال ریسٹ ہاوس موجود ہے۔ ریسٹ ہاوس میں حکومتی،محکمہ آبپاشی،سرکاری آفسرز سمیت عام افراد رہائشی کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔محکمہ آبپاشی نے عوام کی سہولت کیلئے ریسٹ ہاوسز میں رہائش حاصل سسٹم آن لائن کر دیا ہے۔پنجاب اسمبلی کے اججلاس میں امن و امان پر جاری بحث کو سمیٹے ہوئے صوبائی وزیر قانون بشارت راجہ نے کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد پولیس کے ریلیز فنڈز کو بحال کرایا۔15 سال کے بعد 500 گاڑیاں خریدیں گئیں ہیں۔جب کسی کو سہولت نہیں دیں گے تو بہتری کیسے لائیں گے۔ہائی وے پیٹرولیم بنائے گئی 15 سالوں میں انہیں گاڑیاں نہیں دی گئی تھی۔حکومت نے پیٹرولیم پولیس کو بھی گاڑیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔15 سال بعد موجودہ گورنمنٹ نے 5 ہزار سے زائد کانسٹیبل بھرتی کرنے ہیں۔ادارے میں ریٹائرڈ ملازمین کی ہوتیں ہیں تو پھر نئی بھرتیاں کی جاتیں ہیں۔کسی علاقے میں جرائم میں اضافی ہوا تو بہت سے علاقوں میں کمی ہوئی ہے۔ناجائز اسلحہ صوبے پنجاب کا مین ایشو تھا۔ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف کاروئی کی گئیں ہیں۔حسن مرتضی نے سانحہ ساہیوال پر ادھوری بات کی۔سانحہ ساہیوال پر حکومت نے مکمل کاروائی کرتے چالان عدالت میں جمع کرائے ماڈل ٹاون میں بچوں کے منہ میں گولیاں ماریں گئیں۔انہیں ایف آئی آر درج کرانے کیلئے دھرنا دینا پڑامحرم الحرام میں تمام جلوس پر امن طریقے سے ہوئے۔شعیہ، سنی جس طرح سے فرقہ واریت میں جا رہے ہیں ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے ہدایت کی ہیمذہبی فرقہ وارانہ،سوشل میڈیا پر توہین آمیز اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔جرائم ماضی میں بڑھا ہے تو کوش ہو گی کے کمی ہو۔مریم نواز کی پیشی کے حوالے سے کہا گیا ذیادتی کی گئی۔مریم نواز کی پیشی پر محرکات کیا تھے پتھر کیسے آئے اس بحث میں نہیں جانا چاہتے میڈیا مریم نواز کی پیشی پر کور کر رہا تھا سب نے دیکھا وہاں کیا ہوا ہے۔ہوکے میں سڑک کنارے چلتے ایک آدمی کو چاقو مارا گیا اس سے یہ نہیں کہہ سکتے کے وہاں حکومت ناکام ہو گئی اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ہمارا وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب پر اعتماد ہے۔حکومت میں کوئی کنفوژن نہیں ہے نہ کوئی کنفوژن آئے گی۔عوام کے ووٹ سے آئے اور پانچ سال پورے کریں گے۔پی ٹی آئی حکومت میں بہت سے کرائسس آئے لیکن ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔قبل ازیں رکن اسمبلی ملک ارشد کے سوالے کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ساہیوال دوآب نہر کی 2015 میں ریماڈلنگ پر لاکھوں روپے خرچ ہوئے۔دس ارب 68 کروڑ 80 لاکھ روپے دوآب نہر پر خرچ کیے گے۔بھاری رقم دوآب نہر پر لگانے کا مقصد کسانوں کو پانی فراہم کرنا تھا۔مسلم لیگ ن کے دور میں ساہیوال دوآب نہر پر ملین روپے خرچ ہوئے۔آپ کی حکومت میں رقم لگائے گئی جواب بھی اس وقت مانگنا تھا۔نہر کی ریماڈلنگ کا مقصد دوآب نہر کی کناروں مضبوط کرنا تھا۔ وقفہ سوالات کے بعد سرکاری کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال پر بحث کا آغاز ہوا،بحث کا آغاز مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی چوہدری اقبال نے کیا۔پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سیدحسن مرتضی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں کہ پولیس کے فنڈز میں اضافہ کر کے پولیس کو ٹھیک کیا جائے۔ہمیں استحصالی رویوں کا سدباب کرنا چائیے دیکھا جائے تو پولیس پروٹوکول پر ڈیوٹیاں دینے والے اہکاروں کو فنڈز جاری نہیں کیے جا رہے پولیس فنڈز کے نام پر آفسر شاہی کو خوش کیا گیا۔آج بھی پولیس انویسٹی گیشن میں پین کاغذات کے اخراجات مدعی برداشت کر رہا ہے۔جمہوری ایوان کی بالا دستی کیلئے جہدوجہد کرنی چاہئے تنقید کرتے ہیں 70 سال سے سابق حکومتیں کھا گئیں۔اس تنقید سے مسائل حل نہیں ہو سکتے ہیں۔قوم تقاضا کرتی ہے روزانہ پانچ پانچ آئی جی تبدیل کیے جا رہے۔آئی جی تبدیل کرنے سے امن و امان ٹھیک نہیں ہوگا۔بلکہ تبدیل کسی اور کو کرنے کی ضرورت ہے نام لوں گا تو ایوان میں شور مچ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے عام آدمی کو نشے کی اجازت دی ہے زیر اعظم نے بھنگ پینے کی اجازت دے دی ہے۔اس دوران حکومتی ممبران شور مچانے لگے ایوان میں حکومتی خواتین کی مداخلت پر حسن مرتضی نالاں ان کا کہنا تھا کہ جب بھی بات کرتا ہوں سپیڈ بریکرز سامنے آ جاتے ہیں۔امن و امان پولیس،بندوق سے ٹھیک نہیں کر سکتے ہیں۔عوام کو نوکریوں کا جھانسہ دیا،وعدے کیے جو پورے نہیں ہوئے۔میرٹ پر لوگوں کو نوکریوں نہیں دیں گے تومسائل پیدا ہوتے رہے گے۔انہوں نے کہا کہ کرائم ریٹ ایک سال میں دوگنا ہو گیا ہے۔لاہور کی شاہراہوں پر آئے دن وارداتیں ہو رہیں ہیں۔یوم عاشور کے موقع پر بچے سے ذیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔سانحہ ساہیوال کے معصوم بچوں کو آج تک انصاف نہیں ملا ہے۔وزرا نے سانحہ ساہیوال پر بڑی بڑی باتیں کیں لیکن انصاف نہیں ملا ہے۔یہاں ذولفقار علی بھٹو کو سزا ہو سکتی ہے تو آج ایک سپاہی کو سزا کیوں نہیں ہوتی کوئی عاصم باجوہ پر کوئی بات کرے کسی میں ہمت ہے تو۔سب کیلئے لا اینڈ آڈر برابر ہو تو آج مسائل ختم ہو جائیں۔ پنجاب اسمبلی مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی میاں نصیر احمدنے کہا کہ کرائم رپورٹ میں کرائم میں اضافہ کیا گیا ہے۔شہر کا کوئی ایک تھانہ بتائے جس میں تبدیلی لا رہے ہوں۔لاہور میں کرائم کی خوفناک صورحال ہو چکی ہے۔ہر سٹرک،ہر آبادی میں خواتین کے پرس چھینے جاتے ہیں۔لوگ تنگ آ کر کہتے اپنی ایک کروڑ نوکریاں اپنے پاس رکھے۔جو ہمارے پاس نوکریوں ہیں وہ ہمارے پاس رہنے دیں۔پولیس کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔لاہور میں سی سی پی او کو اسلئے تبدیل کیا کہ وہ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنے سے انکار کرتا ہے۔حکومتی رکن سیمابیہ طاہر نے کہا کہ ن لیگ کے دور میں زینب کیس ہائی لائٹ ہوا۔اس پر کیا پیش رفت دیں بتا دیں پی ٹی آئی حکومت نے نے آکر رولز،قوانین بنائے۔کہتے ہیں دس دس سال کے طعنے دیتے ہیں۔انہیں نے 35 سال میں جو کام نہیں کیا وہ پی ٹی آئی حکومت نے دو سال میں کر دکھایا۔پولیس کی لئے سیمنارز،کا اہتمام کیا جانا جائیے۔پینل آف چئیرمین میاں شفیع محمد نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس آج بروز منگل دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا

Comments

comments