چین کے ساتھ سرحدی مسائل مذاکرات سے حل ہوسکتے ہیں، بھارتی آرمی چیف

  • D765B314-0EAF-4D02-A446-7E6E947FC019.jpeg

بھارت کے آرمی چیف جنرل منوج مکند نیروان نے مغربی ہمالیہ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود کہا کہ چین کے ساتھ سرحد پر جاری تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق جنرل منوج کہا کہ انہیں اطمینان ہے کہ چین کے ساتھ جاری تنازع مذاکرات سے حل ہوجائے گا جبکہ سرحد پر دونوں ایٹمی ممالک کی افواج کئی مہینوں سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔لداخ کے دورے کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں یقین ہے کہ مسائل کو مکمل طور پرمذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی)کے حالات کسی قدر کشیدہ ہیں’ اور بھارت نے متعدد علاقوں میں چین کی کسی بھی سرگرمی کو روکنے کے لے اضافی فوجی تعینات کردیے ہیں۔بھارت سرحد پر ہونیوالی کشیدگی کا الزام چین پر عائد کرتا ہے اور مقف ہے کہ چین اپنی فوج کو لداخ کے برفانی علاقے سے دور رکھنے کے دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔دوسری جانب چین نے گزشتہ ماہ کے آخر میں کہا تھا کہ بھارت کی فوج نے ایل اے سی میں غیرقانونی مداخلت کی اور چین کی سرحدی خود مختاری کی خلاف ورزی کی۔سرحد میں کشیدگی کے ایک دوسرے پر الزامات کے باوجود دونوں ممالک نے مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی خواہش کا اظہار کیا اور فوجی عہدیداروں نے جنوبی لداخ کے علاقے پنگونگ میں کئی دنوں تک مذاکرات کیے جہاں تازہ جھڑپ ہوئی تھی۔بھارتی اور چینی میڈیا نے تازہ رپورٹ میں کہا کہ روس کے دارالحکومت ماسکو میں دونوں ممالک کے وزارئے دفاع کے درمیان ملاقات متوقع ہے۔روس میں دونوں ممالک کے وزرائے دفاع شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت ایک اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔چین کے اخبار گلوبل ٹائمز کے ایڈیٹر انچیف ہو شیجان نے اس حوالے سے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘میری معلومات کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان انتظامات میں پیش رفت ہوئی ہے اور وئی فینگھے اور راجناتھ سنگھ کے درمیان متوقع طور پر ملاقات ہوگی’۔بھارتی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مجھے اس ملاقات کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔چین اور بھارت کے وزرائے دفاع کے درمیان ملاقات ہوتی ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان رواں برس جون میں سرحد میں ہونے والی کشیدگی کے بعد اعلی سطح کی پہلی ملاقات ہوگی۔یاد رہے کہ 20 جون کو وادی گالوان میں کشیدگی کے دوران 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد دونوں فریق پیچھے ہٹنے پر رضامند ہوئے تھے۔تاہم مذاکرات کے کئی دور کے باوجود مختلف مقامات پر فوجیں آمنے سامنے ہیں جس میں انتہائی بلندی کا مقام پیانگونگ تسو جھیل بھی شامل ہے جس کے بارے میں دونوں ممالک دعوی کرتے ہیں۔

Comments

comments