18ویں ترمیم کی بدولت صوبوں کو مالی اختیارات تفویض کیے گئے ۔بلاول بھٹو

  • 49ABE1F8-D422-4FD1-A870-96EC677E07CE.jpeg

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کی بدولت صوبوں کو مالی اختیارات تفویض کیے گئے جس کی وجہ سے سندھ ریونیو بورڈ ایک مستحکم ٹیکس جمع کرنے کا ادارہ بنا۔یہ بات انہوں نے جمعہ کے روز صدر ڈاون ٹاؤن کے علاقے میں پیپلز اسکوائر اور زیرزمین کار پارکنگ کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صوبائی وزرا ، سعید غنی ، سید ناصر شاہ ، مشیر مرتضی وہاب ، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم ، صوبائی سکر یٹریز نے بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ ورلڈ بینک گروپ کے کنٹری ڈائریکٹر مسٹر ناجے بین ایسن اور اسلام آباد اور واشنگٹن ڈی سی کے نمائندوں نے ا?ن لائن تقریب میں شرکت کی۔صدر ڈاون ٹاؤن ایریا میں انڈر گراؤنڈ پارکنگ اینڈ پیپلز اسکوائر کراچی نیبر ہڈ امپرومنٹ پروجیکٹ (کے این آئی پی) کے تحت تعمیر کیا گیا ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی نیبربرڈ امپرومنٹ پروجیکٹ ان کی حکومت نے ورلڈ بینک گروپ کے اشتراک سے بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے شہر کو مزید بہتر ، مسابقتی اور جامع میگاسٹی میں تبدیل کرنے کے لئے 10.260 ارب روپے کی لاگت سے تین کمپونیٹس پروجیکٹ کا آغاز کیا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ اس منصوبے میں پبلک مقامات میں اضافے اور منتخب اطراف کے علاقوں میں نقل و حرکت میں بہتری ، انتظامی خدمات میں معاونت ، شہر کی صلاحیت میں اضافہ اور آمدو رفت اور تکنیکی مدد کے اجزاء شامل ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صدر ایریا میں سوک ، تعلیم ، ثقافتی اور تجارتی سرگرمیاں اور روز مرہ دیکھنے والوں کی کثیر تعداد میں کثافت ہے۔ صدر ایریا میں ذیلی منصوبوں میں موجودہ سڑکوں اور گلیوں ، فٹ پاتھوں ، پیدل چلنے والوں کی جگہ کو اپ گریڈ کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلے مقامات کی اپ گریڈیشن ،شیڈ فیچرز کی تنصیب، سائن، اسٹریٹ فرنیچرز ، لائٹنگ اور ٹریفک پیٹرن کو دوبارہ منظم کرنا شامل ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ کے این آئی پی کی صدر میں پیڈسٹرین ٹریل بنانا شامل ہے جس سے ٹریفک کی آمدورفت میں بہتری آئے گی اور آرٹس کونسل میں آنے والے لوگوں اور کالجوں میں آنے والے طلبائ کے لئے کھلی جگہ ‘پیازا’ مہیا ہوگی۔ایک ذیلی منصوبے میں صدر ڈاون ٹاؤن ایریا میں تعلیمی اور ثقافتی زون کی دوبارہ ترقی بھی شامل ہے ، جس سے عوامی مقامات میں اضافہ ہوگا اور ڈاکٹر ضیائ الدین روڈ ، دین محمد وفائی روڈ اور ایم آر کیانی روڈ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ نقل و حرکت کو بہتر بنائیں گے۔ صدر ڈاون ٹاون کے مصروف علاقے میں ٹریفک کو پرسکون اور رواں رکھنے کے لیے دو سطحی انڈر گراؤنڈ پارکنگ کی جگہ جس میں 350 سے زیادہ کاروں اور 250 موٹر بائکس کی پارکنگ کی سہولت فراہم ہوگی۔ ٹاپ لیول پیازا میں کھانے پینے کے اسٹالز ، اسٹریٹ لائٹنگ اور فرنیچر ہوگا تاکہ آس پاس کے علاقے کو خوبصورت بنایا جاسکے، جس میں ایس ایم ا?رٹس اور لائ کالج ، ڈی جے سائنس ، ایس ایم کامرس کالج ، N.E.D یونیورسٹی ، آرٹس کونسل آف پاکستان کا ثقافتی مرکز اور لینڈ مارک برنس گارڈن جوکہ صدر ڈاون ٹاؤن ایریا میں تعلیمی اور ثقافتی زون کی حیثیت رکھتا ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صدر میں ایجوکیشنل اینڈ کلچرل زون کو ترقی دینے کے علاوہ کے این آئی پی ملیر اور کورنگی ایریا میں روڈ نیٹ ورک میں بہتری لا رہی ہے اور اس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تعمیراتی اجازت نامے کے لئے آٹو میشن کے لئے ون ونڈو سہولت کے لئے مالی اعانت فراہم کی ہے تاکہ سندھ میں جوکاروبار کررہے ہیں اْن کے لیے آسانی پیدا ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعہ کاروبار کو سہل بنانے کے حوالے سے پاکستان کی درجہ بندی میں اضافہ ہوا ہے

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک کے 73ویں یومِ آزادی پر ایک پیغام میں قوم کو جشنِ آزادی مبارک: پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی کی قدر حقیقی جمہوریت میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی وقار کا احترام اور ترقی کی ضمانت جمہوریت کے علاوہ اور کوئی نظام نہیں دیتا. ان کا کہنا ہے کہ ہماری قوم کے نوجوان متحرک اور آزادی کی اہمیت و افادیت سے بخوبی واقف ہیں۔ پاکستانی قوم اپنی آزادی کا تحفظ کرنا جانتی ہے.۔ جسے یہ عزم تحریکِ آزادی سے وراثت میں ملا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی تحریکِ آزادی ایک پْر امن سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھی قائداعظم کی زیرِ قیادت ہمارے آباؤ اجداد نے آنے والی نسلوں کی خاطر سامراج کی زنجیریں توڑیں تھیں تاکہ آئندہ نسلوں کو جبر، مذہبی امتیاز اور ہر طرح کی زیادتیوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے آبائو اجداد نے قربانیاں دیں تاکہ ہم اپنی عبادت، اظہار رائے، اور اجتماع کی آزادی سے بہرہ مند ہوں تاکہ ہم ووٹ کی طاقت کے ذریعہ حکومتوں کا احتساب کرسکیں ۔ہمیں بلا تاخیر کے انصاف کی فراہمی یقینی ہو.بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دوراندیشی و خود احتسابی زندہ قوموں کے اوصاف ہوتے ہیں,ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ آٹا، چینی اور پٹرول جیسی روزمرہِ استعمال کی اشیاء آج مافیاز کے کنٹرول میں کیوں ہیں 73 ویں یوم آزادی پر عوام سوال اٹھا رہے ہیں سوال ہے کہ بھوک اور غربت کے خاتمے پر ریاستی وسائل کیوں خرچ نہیں کیئے جا رہے.بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ وسائل آزادیِ اظہارِ رائے و میڈیا اور مخالفین کو دبانے کے لئے ریاستی وسائل کیوں استعمال کیے جارہے ہیں؟انصاف کی ترازو کے توازن کی اساس اخباری شہ سرخیاں کیوں بن رہے ہیں؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آمریت اور نظریہ ضرورت ہر چند سالوں کے بعد کیوں سر اْٹھا کے سامنے آتے رہتے ہیں؟: بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کو تاحال اپنے بانی قائداعظم کے عین وژن کے مطابق کھڑا ہونے کے لیئے تگ ودو کیوں کرنا پڑ رہی ہے؟انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل آئین و اور پارلیمنٹ کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، اور جمہوریت کو تسلیم کرنے اور ان کی پائمالی کے خاتمے میں ہے۔جب تک قانون کے سامنے سب برابر نہیں ہوں گے، ملک اندرونی و بیرونی بحرانوں کا شکار رہے گا.پی پی پی چیئرمین نے قائداعظم اور ان کی قیادت میں تحریک آزادی میں حصہ لینے والے رفقاء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنانے کے لئے آئین و جمہوری اصولوں کی پیروی کرے گی

Comments

comments