متحدہ عرب امارات اور اسرائیل معاہدہ: تاریخ متحدہ عرب امارات کے منافقانہ طرز عمل کو کبھی فراموش نہیں کر پائے گی،ترکی

  • 1D663DC2-A14B-4F5B-B7DA-4590B4417D95.jpeg

ترکی نے متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو منافقانہ طرز عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ اور خطے کے لوگ اس معاہدے کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔جمعرات کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو اور ابو ظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید نے ایک مشترکہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ یہ تاریخی پیش رفت مشرق وسطی میں امن کے قیام میں مدد دے گی۔ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ رویہ ‘منافقانہ’ہے۔ترکی کا کہنا ہے کہ تاریخ اور خطے کے لوگ اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر متحدہ عرب امارات کے ‘منافقانہ طرز عمل’ کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے کیونکہ ترکی کے مطابق یو اے ای نے یہ فیصلہ اپنے مفادات کے لیے کیا ہے۔اس تحریری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کے خلاف ‘فلسطینی عوام اور انتظامیہ کا سخت ردعمل جائز ہے۔”یہ بہت پریشان کن بات ہے، متحدہ عرب امارات کو عرب لیگ کی جانب سے تیار کردہ عرب امن منصوبے کے ساتھ چلنا چاہیے تھا۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ اس تین طرفہ اعلان کو فلسطینی عوام کے لیے فائدہ مند قرار دیا جا رہا ہے۔’یاد رہے کہ اسرائیل کے ساتھ ترکی کے سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں لیکن یہ تعلقات برسوں سے کشیدہ ہیں۔ سنہ 2010 میں اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کی پٹی پر ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے 10 ترک کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھ

Comments

comments