آج اگر پاکستان ایٹمی طاقت ہے تو دوسری طرف ایک ہاتھ میں کشکول ہے، وقت کی ضرورت ہے کہ کشکول کوتوڑاجائے

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ دشمن پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا سب سے بڑی کامیابی ہے، وطن کے تحفظ اور سالمیت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔جشن آزادی کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 73 سال قبل قائد اعظم کی انقلابی لیڈر شپ میں 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آیا تو یہ تاریخ کا ایک انہونا واقعہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہائیوں اور صدیوں پر محیظ عظیم قربانیوں کا نتیجہ تھا جو کہ ایک دیانت دار، محنتی شخص کی لیڈر شپ میں سر انجام پایا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘لوگوں نے پاکستان کی جانب اپنی عزت اور وقار کو بچانے کے لیے تاریخی ہجرت کی۔انہوں نے کہا کہ 73 سالوں میں پاکستان کو بڑی کامیابیاں ملیں جن میں سب سے اہم پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا تھا اور آج دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بہت قربانیوں کے نتیجے میں حاصل کیا گیا، وہ قومیں آزاد نہیں ہوتیں جو معاشی طور پر مضبوط نہ ہوں، آج اگر پاکستانی ایٹمی طاقت ہے تو پاکستان دوسری طرف ایک ہاتھ میں کشکول ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ کشکول کوتوڑاجائے۔ جس طرح پاکستان ایٹمی طاقت بنا اسی طرح ہم اس کشکول کو توڑ سکتے ہیں۔ آج آئی ایم ایف کا اتنا دبا ئوہے کہ رواں برس ہم تنخواہ دار طبقے کی تنخواہ نہیں بڑھا سکے۔ گذشتہ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں نئے اور جدید ہسپتال بنائے گئے، مفت دوائیں ملتی تھیں، مفت علاج ہوتا تھا، آج وہاں سے یہ تمام سہولتیں ختم کردی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوروناکہ وجہ سے مہنگائی جوکم ہونی چاہیے تھی آج آسمان سے باتیں کررہی ہے، ایک دور تھا کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی مگر 2018 ء میں مکمل طور پر لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی تھی،اگرلوڈشیڈنگ ہورہی ہے توموجودہ حکومت کی بدترین نااہلی کی بدولت ہے۔بی آر ٹی منصوبے کے افتتاح کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن)نے ملتان راولپنڈی لاہور میں اس طرح کے منصوبے بنا کر دنیا کو حیران کیا تھا، مسلم لیگ (ن)کا وہ کونسا منصوبہ ہے جس میں کرپشن ہوئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں پاکستان کو دنیا میں مقام دلانا ہے تو ہمیں جھوٹ، الزام تراشی کی سیاست کو ختم کرنا اور شفاف احتساب کو فروغ دینا ہوگا ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔انہوں نے کہا کہ 73 سالوں بعد آج دیکھ لیں، بنگلہ دیش سری لنکا کہاں پر ہے، افغانستان کی کرنسی کہاں پر ہے اور ہماری معاشی حالت کیسی ہے۔شہباز شریف نے اس سے قبل قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر ن لیگ کے دیگر
قائدین اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی

Comments

comments