سپریم کورٹ کا حامد میر اور محمد مالک کے وکیل کو سننے سے انکار

F211221F-1060-4CEC-A5ED-940D681B3224.jpeg

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے حاد میر اور محمد مالک کے وکیل کو سننے سے انکار کردیا عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف توہین آمیز ویڈیو بنانے کے ملزم آغا افتخار الدین مرزا کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔ آغا افتخار الدین نے سینیر صحافیوں کے خلاف بھی وڈیو بنا کر وائرل کی تھیں لیکن ایف آئی اے یہ معلوم کرنے میں ناکام ہے کہ ان وڈیوز کے پس پردہ کونسے ہیں جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرینس اور میڈیا مہم ان کے فیض آباد کیس کے بعد شروع کی گئی

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے آغا افتخار الدین مرزا توہین آمیز ویڈیو از خود نوٹس کیس پر سماعت کی۔ آغا افتخار الدین مرزا کے وکیل نے اپنے موکل کی طرف سے غیر مشروط معافی نامہ جمع کرایا۔ جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ ایسے مقدمے میں معافی نامہ کیسے دیں، معافی نامہ دینے کا فائدہ نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آغا افتخار الدین مرزا کو 6 ماہ کیلئے جیل بھیج دیتے ہیں۔وکیل نے کہا کہ افتخار الدین مرزا دل کے مریض ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کیا کریں انکو اپنی زبان کو قابو میں رکھنا چاہئے تھا، بادی النظر میں توہین عدالت کا کیس بنتاہے۔عدالت نے حامد میر اور محمد مالک کے وکیل کو سننے سے انکار کردیا۔سپریم کورٹ نے آغا افتخار الدین کو توہین عدالت کارروائی کیلئے شوکاز جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 15 جولائی تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر آغا افتخار الدین کو پیش کرنے کا حکم دیا

Comments

comments