بتایا جائے کہ قلت دور کرنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ وزیراعظم کا استفسار ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،عمران خان

No video URL found.

وزیراعظم عمران خان کا پیٹرول کی قلت سے متعلق ہنگامی اجلاس میں کہنا ہے کہ مجھے کسی کے دبا کی پروا نہیں، اداروں کو اپنا کام کرنا ہوگا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پیٹرول کی قلت پر ہنگامی اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب اور معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ڈویژن ندیم بابر کو خصوصی طور پر بلایا گیا۔اجلاس میں وزیراعظم نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ قلت دور کرنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ مجھے کسی کے دبا کی پروا نہیں، اداروں کو اپنا کام کرنا ہوگا۔اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ اٹک ریفائنری کے پاس ایک کروڑ 75 لاکھ لیٹر ہے جو سپلائی نہیں کیاجارہا، اٹک ریفائنری شمالی ریجن کو تیل سپلائی کرتا ہے اور زیادہ مسائل بھی وہیں ہیں۔وزیراعظم کو کیماڑی اور پورٹ قاسم میں ہورڈنگ پر بھی بریف کیا گیا جب کہ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔واضح رہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد یکم جون سے ملک بھر کے پیٹرول پمپس پر پیٹرول نہ ملنے کی شکایات ہیں اور حکومت اب تک اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہے۔کراچی سمیت ملک کے بیشتر شہروں میں پیٹرول کی قلت برقرار ہے اور اکثر پیٹرول پمپ کھلے تو ہیں لیکن پیٹرول دستیاب نہیں اور جن پمپس پرپیٹرول مل رہا ہے وہاں صارفین کا جم غفیر ہے۔گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کابینہ نے پٹرولیم مصنوعات کے مصنوعی بحران کا نوٹس لیا تھا اور وزیراعظم نے پیٹرول کا مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی

Comments

comments