کسی مقدمہ میں ضمانت ہونا، کیس کا منطقی انجام نہیں ہوتا، چیئرمین نیب

  • IMG_20200605_202120.jpg

چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ آج پوری قوم کی آواز ہے۔ بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ کسی مقدمہ میں ضمانت ہونا، مقدمے کا منطقی انجام نہیں ہوتا۔نیب کی جانب جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے چئیرمین نیب پرعزم ہیں۔ اس وقت 900 ارب روپے سے زائد کے 1229 کرپشن ریفرنسز احتساب عدالتوں میں دائر ہیں۔ عوام اور اداروں نے نیب کی کارکردگی پر اظہار اطمینان کیا ہے۔ چئیرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے منصب سنبھالنے کے بعد پنجاب کی 56کمپنیوں میں کرپشن، آٹا، چینی سکینڈلز، ادویات کی قیمتوں میں اضافے اور جعلی ہائوسنگ سوسائٹیز سمیت بڑے کرپشن کیسز کا نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دیا۔ کرپشن کے خلاف کھلی کچہریاں لگا کر 3500شکایات پر فوری ازالہ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے نیب کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اصلاحات متعارف کروائیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، پلڈاٹ اور ورلڈ اکنامک فورم نے بھی قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کو سراہا۔چئیرمین نیب نے کہا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ آج پوری قوم کی آواز ہے۔ بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ کسی مقدمہ میں ضمانت ہونا، مقدمے کا منطقی انجام نہیں ہوتا۔

Comments

comments