نہرو اور گاندھی کے سیکولر انڈیا کو موجودہ سرکار دفن کرنے پر تلی ہے ،شاہ محمود قریشی بھارت پاکستان پر فالس فلیگ آپریشن کا بہانا تلا ش کررہا ہے اشارے بڑے وضح دکھائی دے رہے ہیں

  • IMG_20200214_150407.jpg

اسلام آباد حکومت نے بھارت اور کشمیر کے معاملے پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو دفتر خارجہ میں بریفنگ دینے کی پیشکش کردی ہے ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ وہ دعوت دیتے ہیں کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری دفتر خارجہ آئیں وہ انہیں خطے کی بدلتی صورتحال اوربھارتی عزائم پر بریفنگ دیں گے اگر وہ نہیں آسکتے تو مجھے بلائیں میں ان کے پاس جانے کو تیار ہوں کیونکہ نیشنل ایشوپر نہ میںکوئی انا ہے اور نہ کوئی ضد ، اہم نوعیت کے مسئلے پر قومی اتفاق رائے ہونا چاہیے ۔ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارتی سرکار کا اپنا ایک نظریہ ہے یہ نظریہ ہندو راشٹرا کی بنیادپر ہے ، نہرو اور گاندھی کے سیکولر انڈیا کو یہ سرکار دفن کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ یہ ایک ہندو اکثریت حکومت کا تصور لے کر آئے ہیں اب یہ ہندو توا نظریہ نافذ کررہے ہیں اس میں وہ اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھتے ہیں، اکھنڈ بھارت میں پاکستان ،چین، نیپال، سری لنکا اور افغانستان متاثر ہوئے ہیں ان کے ارادے اور نوعیت کے ہیں۔ سارک فورم کو بی جے پی سرکار نے غیر متحرک کرکے رکھ دیا ہے۔ کووڈ19 کے ماحول میں ہم ایک دوسرے سے تعاون کرسکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا ایک مختلف حکومت ہے اس کا مختلف ایجنڈا ہے اگر وہ اس ایجنڈے پر گامزن رہتے ہیں تو اس خطے کا امن و استحکام متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔اسی لئے میں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بات کی ہے ۔ سلامتی کونسل کو ایک نیا خط لکھا ہے اور اسی لئے میں او آئی سی کو باور کرارہا ہوں کہ آپ جاگیے اسی لئے میں یورپی یونین کے متخلف وزراء خارجہ کی توجہ اس خطرناک سمت جس پر ہندوستان چل نکلا ہے کی طرف دلوارہاہوں اس کا عملی مظاہرہ آپ لداخ میں دیکھ رہے ہیں ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ بھارت پاکستان پر فالس فلیگ آپریشن کا بہانا تلا ش کررہا ہے ہمیں اس کے اشارے بڑے واضح دکھائی دے رہے ہیں ان کے عزائم اچھے دکھائی نہیں دے رہے اور ہم فالس فلیگ آپریشن کے خدشے کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔لداخ پر اس وقت چین ا ور بھارت کی بات چیت چل رہی ہے اس کے میکنزم موجود ہیں ہندوستان نے تجاوز کیا ہے وہ علاقہ جو متنازعہ ہے وہاں اس نے بغیر مشاورت کے تعمیرات شروع کردی ۔وہاں بھارت نے سڑکوں کا جال بچھانا شروع کردیا ۔ ایئرسٹف بنانے شروع کردئیے۔ چین کو ہرگز یہ قبول نہ تھا نہ ہے اور نہ ہوگا ۔ بھارت کا خیال ہے کہ چین خاموش رہے گا ۔ چین خاموش نہیں رہے گا چین نے بڑا واضح پیغام دیا ہے ۔ انہوں نے کچھ موومنٹ کی ہے اپنی نفری اور اپنے ارادوں میں ایک بڑاواضح سگنل ہندوستان کو دیا ہے اگر آپ حد سے تجاوز کریں گے تو ہم برداشت نہیں کریں گے ۔ ہم لڑائی نہیں چاہتے ہم چاہتے ہیں گفت و شنید سے مسئلہ حل ہو جائے لیکن آپ کے ارادوں پر ہم خاموش نہیںرہیں گے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ کشمیر کے مسئلے پر قوم متفق تھی متفق ہے اور انشاء اللہ رہے گی ۔ اگر پاکستان پر کوئی چڑھائی کرتا ہے تو مجھے ایمان کی حد تک یقین ہے کہ پاکستان کا ہر طبقہ حکومت اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ دکھائی دے گا میں نے عنقریب دفتر خارجہ میں کچھ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے میں نے عید سے پہلے ہمارے جتنے پرانے خارجہ سیکرٹری تھے جو چین کے اور ہندوستان کے بارے میں مہارت رکھتے ہیں یا انہوں نے وہاں خدمات سرانجام دی ہیں ان کا میں نے اجلاس بلایا تھا تبادلہ خیال کیا تھا میری ایک نشست ہوئی ہے اوردوسری نشست عنقریب ہوگی۔ نئے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے افغانستان کی صورتحال اور وہاں ہندوستان کا جو کردار ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر اور لداخ کی صورتحال اورخطے میں جوری الائنمنٹ دکھائی دے رہی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے پاس کیا آپشنز ہیںہم نے کیا کرنا ہے اس پر تبادلہ خیال ہوگا۔ میری خواہش ہے کہ اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لوں ۔ میری آرزو ہوگی میں شہباز شریف ، بلاول بھٹو زرداری کو پیشکش کرتا ہوں کہ آئیں بیٹھیں میں انہیں دعوت دیتا ہوںکہ وہ دفترخارجہ آئیں میں انہیں بریف کرنے کو تیار ہوں تاکہ ایک اہم قومی نوعیت کے مسئلے پر ایک قومی اتفاق رائے ہونا چاہیے اگر انہیں یہاں آنے میں کوئی دقت ہے تو وہ مجھے بلائیں میں چل کر ان کے پاس جانے کو تیار ہوں کیونکہ قومی معاملے پر نہ میری کوئی انا ہے اور نہ کوئی ضد ہے۔

Comments

comments